ظالم ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں

ظالم ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں
ظالم ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں

  

ایس ایم ظفر

ہمہ وقت خرابیاں اور برائیاں گنتے رہنا (جو کہ یقیناًہم میں موجود نہیں) بالآخر ان برائیوں سے سمجھوتہ پر مائل کر دیتا ہے اور دھیرے دھیرے وہ برائیاں راسخ ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم اپنے نظریات اور خواہشات کی تکمیل انسانی معاشرے میں کسی جگہ بھی ہوتی دیکھیں چاہے وہ اپنا معاشرہ نہ بھی ہو تو اس سے ڈھارس بندھتی اور پڑھنے اور سننے و الوں میں نیا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ہم نے اس جذبہ کو ابھارنے کے لیے تصوراتی ابن بطوطہ کا سہارا لیا۔

آج ہمارا یہ سیاح نیویارک کی ایک فلک بوس عمارت کی آخری منزل پر جارج سوروس سے ملاتی ہے۔ جارج سوروس کے بارے ہم نے اپنے ایک کالم میں پہلے بھی لکھا تھا یہ وہی صاحب ہیں جن کے خیرات کا اندازہ بڑا ہی نرالا ہے۔ وہ عجیب و غریب ایشو کو اٹھا لیتے ہیں اور پھر اس پر جو رقم خرچ کرنی ہوتی ہے وہ بے دریغ کرتے ہیں۔ انہوں نے ہی بوسنیا کے شہر سراجیوو میں پانی کی پائپ بچھائی تھی جس سے سراجیوو کے شہری جنگ کے دوران پانی حاصل کرتے رہے یا پھر سوروس کو اچانک ان بیمار سائنس دانوں کا خیال آگیا جو 1986-87میں ری پبلک آف روس میں وہاں کی مملکت کے زوال سے بیکار ہو گئے تھے۔ جارج سوروس نے ایسے تمام سائنس دانوں کے کوائف معلوم کروائے اور ان کے نام ایک سال کی تنخواہوں کے چیک روانہ کر دیئے تاکہ اس عرصے میں وہ تلاش روزگار سے بے پرواہ رہیں۔

ہم ابن بطوطہ کے ذریعے آج پھر جارج سوروس سے مل رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اس بار سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ جارج کا کہنا ہے کہ خیرات کی عادت کے بغیر سرمایہ دارانہ نظام ظالم بن جانے کی گنجائش رکھتا ہے۔ چنانچہ اس وقت جارج سوروس امریکہ کا سب سے مخیر شخص ہے۔ ابن بطوطہ اس وجہ سے جارک سوروس کے دفتر میں گئے ہیں۔

ابن بطوطہ: محترم جارک سوروس میں آپ کا بے حد مشکور ہوں کہ آپ نے ۔۔۔

سوروس :ہمارے پاس تکلفات کا وقت نہیں ہے۔

ابن بطوطہ: اخبارات کی اطلاع کے مطابق اس سال آپ نے تین سو ملین ڈالر سے زائد خیرات دی ہے۔

سوروس :رقم اس سے زائد ہو سکتی ہے۔

ابن بطوطہ: لیکن آپ کا یہ دفتر تو بڑا مختصر اور اس میں کام کرنے والے بھی بہت کم ہیں؟

سوروس :(پہلی بار ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ) ہاں کیونکہ ہمیں کام کرنا ہوتا ہے۔

ابن بطوطہ: میں نے سنا ہے کہ آپ خیرات کرنے کے لیے ایشو خود تلاش کرتے ہیں۔

سوروس :خیرات کرنے کے لیے ذہن صاف ہونا چاہئے۔

ابن بطوطہ: آج کل کیا سوچ رہے ہیں۔

سوروس :سرمایہ دار ظالم ہوتے جا رہے ہیں۔

ابن بطوطہ: اس کا علاج؟

سوروس :خیرات

ابن بطوطہ: آپ نے کوئی وقف نہیں بنایا اس کی کوئی وجہ؟

سوروس :وقف قائم کرنے سے رقم جمع ہوجاتی ہے جبکہ میں رقم خرچ کر دینی چاہتا ہوں۔ میں خیرات ایسی مد میں دیتا ہوں جو کسی ایک کام کے پورا کرنے پر صرف ہو جائے مثلا سراجیوو میں پانی پینے کو میسر نہ تھا میں نے پائپ لائن بچھا دی رقم خرچ کر دی کام ختم ہوا۔ ہم نئی منزل کی تلاش میں نکل گئے یعنی ایک ضرورت کو ٹارگٹ بنایا جیسے وہ ضرورت پوری ہوئی بس بات ختم۔ لہٰذا نہ وقف کی ضرورت ہے نہ بڑے دفتر کی۔ دراصل فنڈز اور وقف کے نام پر دوسروں پر زیادہ خرچ ہو جاتا ہے اور اصل مقصد پورا نہیں ہوتا۔

ابن بطوطہ: بڑی انوکھی سوچ ہے لیکن وقف کی وجہ سے آپ کا نام تو چلتا ہے،۔

سوروس :گویا قبر سے بھی اپنا کنٹرول جاری رہے میں اس کا قائل نہیں۔

They (Funds) should not been dowed with the money of a dead man who cannot exercise critical judgement.

ابن بطوطہ: آپ تو صحیح مومن ہیں۔

سوروس :وہ کیا ہوتا ہے؟

ابن بطوطہ: خیر چھوڑیں اس بات کو یہ بتائیں ک ہ آپ چیکوسواکیہ میں پہلے نازی اور پھر کمیونسٹ حکومتوں کے زیر عتاب رہے دونوں میں کیا فرق تھا؟

سوروس :ظالم ایک جیسے ہی ہوتے ہیں یہ دونوں آندھیاں تباہی اور بربادی کا سبب تھیں۔ میں نے ان ظالموں کے درمیان ہی یہ سیکھا کہ خیرات کرنا اور اسے امراء کی عادت بنا ڈالنا ہی فلاح کی راہ ہے۔

ابن بطوطہ جارج سوروس سے پوری طرح متاثر ہو کر سیدھے پاکستان آئے ہیں۔ یہاں قرضہ اتارو اور ملک سنوارو کے اشتہارات لگے ہوئے ہیں ۔ابن بطوطہ نے خفیہ تحقیق کی تو اسے پتہ چلا کہ غریب عوام نے بیشتر خیرات دی ہے جبکہ امراء نے بیشتر قرض اتارنے کے لیے قرض ہی دیا ہے اس موقع پر ابن بطوطہ اپنے سفرنامہ میں لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی امراء کو کسی نازی حکومت سے واسطہ نہیں پڑا اس لیے وہ خیرات کی خوبی سے آشناء نہیں ہوئے۔ یہاں کے سہگل ، داؤد، مزاری، لغاری، منشاء، بابر علی، شریف خاندان ، لکھانی جارک سوروس نہیں بن سکے پھر وہ لکھتے ہیں کہ’’خدا انہیں کسی طوفان سے آشنا کر دے۔‘‘

طوفانوں کا ذکر ہمیں آج کے معروضی حالات کی جانب لاتا ہے۔ آٹا کے بحران نے یہ طوفان نزدیک کر دیا ہے۔ آٹا کی جو کمی مارکیٹ میں ہوئی ہے۔ اس بار تو وقت ٹل گیا کیونکہ یہ پہلا واقعہ تھا ورنہ اگر کہیں یہ صورتحال پھر دہرائی گئی تو وہ آندھیاں جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے وہ چلنے لگ پڑیں گی اور جارج سوروس کے یہ الفاظ یاد رکھنے کے قابل ہیں کہ ظالم ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔‘‘

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : بلاگ