علمائے امراء،لقمۂ حلال اور خدا

علمائے امراء،لقمۂ حلال اور خدا
علمائے امراء،لقمۂ حلال اور خدا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سید بلال قطب

سوچنے کی بات ہے ہمارے ہاں عدم برداشت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے، لوگوں میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے اوروہ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ لڑ رہے ہیں۔ یہ تو اسلامی تعلیمات نہیں ہیں۔ اسی غصے کو استعمال کرتے ہوئے لوگ پھر فرقہ واریت میں آجاتے ہیں۔ ایسا آخر کیوں ہورہا ہے؟ دوست احباب کہتے ہیں کہ جن علما کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ بھی اب دکھاوے اور فیشن میں مبتلا ہیں ۔ارے یہ معاملہ توروح کی پاکیزگی اور لقمہ حلال سے جڑا ہے۔لقمہ حلال کھانے والے پاکیزہ انسانوں میں دین زندہ رہتا ہے۔وہ جو کہیں پہلے اس پر عمل کرتے ہیں ۔

ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیقؓ رسول اکرم ﷺ کے پاس آئے۔ اُن کے ہاتھ میں تہبند تھی۔ کہتے ہیں ’’یا رسول اللہﷺ! اس کے پائینچوں کو میں نے اوپر اٹھانا ہے ۔ میرا پیٹ بڑا ہے، میں اس کپڑے کو اوپر باندھوں یا کاٹ لوں؟‘‘

میرے آقارسول اکرمﷺ ابوبکر صدیقؓ سے کہتے ہیں ’’اس کپڑے کو، لباس کو چھوڑ دو۔‘‘ تین دفعہ کہا ’’چھوڑ دو کہ یہ بات تو تکبر والوں کے لیے ہے‘‘ اب میرااگرچار سو روپے کا سوٹ ،سات سو روپے کی چادر اگر تکبر ہے تو اس پہ انا للہ پڑھ لیجیے۔ ہمارے علما بھی اب امرا میں شامل ہیں ۔ایک مولوی صاحب جن کے پیچھے میں نے جمعہ پڑ ھ ، اُنھوں نے سعودی عرب کی Gold plated چادر اوڑھی ہوئی تھی جو کم و بیش 90000 کی تھی۔ کیا اس میں تکبر نہیں ؟ لیکن انھوں نے اعلان فرمایا کہ ٹخنوں سے شلوار کو اُونچا اٹھاؤ۔ یہ بات کراچی میں ایک انتہائی محترم اور بڑے مفتی صاحب کے ساتھ آن ائیر ہو رہی تھی ۔ان کا مسلک دوسرا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم قطب صاحب کی لمبی لمبی حدیثیں سننے آئے ہیں۔ حضرت! حدیثیں رسولﷺ کی ہیں، ہم اپنے مسلک کے غلام ہیں۔

اب یہاں پہلی جو چیز درست ہونی چاہیے وہ ہے لقمۂ حلال۔ اس کے بغیر آپ پہلا قدم اٹھا ہی نہیں سکتے۔ حضرت خواجہ اجمیر بنگال میں تبلیغ کے لیے گئے اور ستر ہزار لوگوں کو مسلمان کیا۔ جب وہ انھیں مسلمان کر کے واپس تشریف لائے تو آ کے اپنی والدہ سے کہتے ہیں کہ ’’ماں! میں ستر ہزار لوگوں کو مسلمان کر آیا ہوں۔‘‘ ماں نے کہا کہ ’’تو اس قابل نہیں ہے خواجہ، کہ تو کسی کو مسلمان کر سکے۔ یہ برکت تو اُس دودھ کی ہے جب تو بچہ تھا تو میں تجھے پلاتی تھی۔ دُودھ پلانے سے پہلے میں وضو کیا کرتی تھی۔ یہ اُس وضو کی برکت ہے کہ تو نے لوگوں کو مسلمان کیا۔

اس کے دوسرے پہلو پہ غور کریں کہ آپ خدا کو تلاش کہاں کر رہے ہیں؟ ابراہیم بن ادھم رحمتہ اﷲ علیہ اپنے وقت کے بہت بڑے سلطان تھے اور وہ اپنی سلطانی میں اللہ کو ڈھونڈنا چاہتے تھے۔ ایک دن اُن کی چھت کے اوپر ایک آدمی چڑھ کے شور کرنے لگ گیا۔ ابراہیم رحمتہ اﷲ علیہ نے پوچھا کہ اوپر کون ہے؟ اُس نے کہا کہ میں ہوں ۔ آپ کہتے ہیں کہ کیا کر رہے ہو؟ بولا، اونٹ ڈھونڈ رہا ہوں۔ اُنھوں نے کہا ’’ بد بخت کیا چھتوں پہ بھی اونٹ ہوتے ہیں؟‘‘ کہتا ہے ’’ اگر تیرے محلوں میں خدا ہو سکتا ہے تو تیر ی چھتوں پہ اُونٹ بھی ہو سکتا ہے‘‘

یہ ایک جملہ تھا جو ابراہیم بن ادھم رحمتہ اﷲ علیہ کو بزرگی کی طرف، رحمت کی طرف لے گیا۔ جب ہلاکوبغداد پہ حملہ آور ہوا تب وہاں ہماری لائبریری میں سات لاکھ کتابیں تھیں جو شاید ہی آج کسی لائبریری میں ہوں۔ اُس نے مسلمانوں کو اس لیے نہیں مارا کہ وہ مارنا چاہتا تھابلکہ جب وہ آیا تو مسلمان علمااس لائبریری میں بیٹھے بحث کر رہے تھے، اور وہ بحث پتا کیا تھی؟ کہ سوئی کی ناکے کے اُوپر چالیس فرشتے بیٹھ سکتے ہیں یا ستر۔ اُس نے کہا یہ قوم ٹھیک ہو ہی نہیں سکتی، یوں اس نے سب کو قتل کر دیا۔لقمہ حلا ل شکم میں جائے گا تو باطن میں طہارت پیدا ہوگی۔پاکیزگی اختیار کرنے سے روح مطہر و منزہ ہوتی ہے اور انسان میں غصہ و بے چینی کم ہوگی۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید : بلاگ