75 سالہ شخص کی موت کے بعد جنازے کی تیاری ، اچانک تابوت کے ہلنے کی آواز آنے لگی ، کھول کر دیکھا تو ایسا منظر کہ خاندان والوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے

75 سالہ شخص کی موت کے بعد جنازے کی تیاری ، اچانک تابوت کے ہلنے کی آواز آنے لگی ، ...
75 سالہ شخص کی موت کے بعد جنازے کی تیاری ، اچانک تابوت کے ہلنے کی آواز آنے لگی ، کھول کر دیکھا تو ایسا منظر کہ خاندان والوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیجنگ (نیوز ڈیسک) گزشتہ اتوار کی شام چین کے ایک دوردراز گاﺅں میں ایک ایسا عجیب و غریب واقعہ پیش آیا کہ جسے گاﺅں والے ہی نہیں بلکہ پورا چین مدتوں یاد رکھے گا۔ ششوان صوبے کے یو جینگ گاﺅں سے تعلق رکھنے والے ایک معمر شخص کچھ روز بیمار رہنے کے بعد وفات پا گئے تھے۔ یہ صاحب ہوانگ منگ کوان نامی کسان کے عمر رسیدہ والد تھے جن کی وفات پر پورا گاﺅں سوگوار تھا۔ 

بڑے میاں کی وفات کی خبر جلد ہی پورے گاﺅں کو مل گئی اور لوگ ان کی آخری رسومات کیلئے اکٹھے ہونے لگے۔ ہوانگ نے اپنے والد کی لاش ایک تابوت میں ڈال کر مقامی روایات کے مطابق گھر کے سامنے رکھ دی۔ سب لوگ تابوت کے گرد جمع ہونے لگے اور اس پر پھولوں کے گلدستے رکھنا شروع کر دیئے۔ گھر کے اندر دور دراز سے آنے والے مہمانوں کے قیام و طعام کی تیار ی شروع ہو گئی۔

جب گھر والے آہ و بکا کر رہے تھے تو ہوانگ کی نظر اچانک والد کے تابوت پر پڑی، جس کا ڈھکنا ہل رہ اتھا۔ ابھی وہ ڈھکنے کو غور سے دیکھ ہی رہا تھا کہ تابوت کے اندر سے عجیب و غریب آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ کسی کو بھی یقین نہ آ رہا تھا کہ یہ بڑے میاں ہی تھے جو تابوت کو اندر سے خوب کھٹکھٹا رہے تھے۔ ہوانگ اور وہاں موجود دوسرے لوگ پہلے تو سخت گھبرائے لیکن پھر ہمت کر کے تابوت کا ڈھکنا اٹھا دیا گیا۔ یہ دیکھ کر سب کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیںکہ بڑے میاں ہانپتے ہوئے انہیں گھور رہے تھے۔ ذرا سانس بحال ہوئی تو وہ بولے ” یہ کیا ہو رہا ہے؟ “

مزیدپڑھیں:’جہاز کے انجن میں یہ چیز پھنس گئی تھی اس لئے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی‘ پائلٹ جہاز میں ایسی چیز اُٹھا کر لے آیا کہ ہر مسافر دنگ رہ گیا

ہوانگ نے فوری طور پر جھک کر اپنے نحیف ونزار والد کو اٹھایا اور تابوت سے باہر نکا ل لیا۔ وہ اسے گھر کے اندر لے گئے اور ان کے اوپر گرم کمبل ڈالا۔ آگ جلا کر انہیں حرارت پہنچائی گئی اور ان کے ہاتھ پاﺅں سہلائے گئے تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھلے چنگے ہو گئے اور اٹھ کر بیٹھ گئے۔

کچھ دیر پہلے تک ان کی موت پر اظہار غم کرنے والے گاﺅں کے لوگ اب ہوانگ اور اس کے گھر والوں کو بڑے میاں کے پھر سے دنیا میں لوٹ آنے کی مبارکباد دے رہے تھے۔ ہوانگ کا کہنا تھا کہ اسے یقین نہیں آرہا کہ اس کے والد پھر سے زندہ ہو گئے ہیں۔

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس وقت ان کے والد نے تابوت کو پیٹنا شروع کیا تو انہیں مرے ہوئے 8 گھنٹے گزر چکے تھے۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ تدفین سے کچھ وقت پہلے انہوں نے تابوت کو پیٹ کر اپنی جان بچا لی۔ بڑے میاں کی حالت اب پہلے سے بہت بہتر ہے اوروہ گھر پر آرام فرما رہے ہیں ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس