ہائی کورٹ نے ٹیکسٹائل انڈسٹری پر عائد دو فیصد اضافی ٹیکس کالعدم کردیا

ہائی کورٹ نے ٹیکسٹائل انڈسٹری پر عائد دو فیصد اضافی ٹیکس کالعدم کردیا
ہائی کورٹ نے ٹیکسٹائل انڈسٹری پر عائد دو فیصد اضافی ٹیکس کالعدم کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے ٹیکسٹائل انڈسٹری پر دو فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف دائر درخواستوںپر سیلز ٹیکس کی دفعہ 3کی ضمنی دفعہ ون (اے )کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے جبکہ اس کے تحت ٹیکسٹائیل انڈسٹری پر عائد دو فیصد ٹیکس کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے ۔درخواست گزاریونی ڈائینگ سمیت دیگر ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے دائر درخواستوں کی پیروی کے لئے محسن ورک ایڈووکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کرموقف اختیار کیا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ٹیکس کی زیرو ریٹیڈ کیٹگری میں آتی ہے۔ زیرو ریٹیڈ ہونے کے باوجود 2 فیصد فردر ٹیکس لگایا گیا۔لاہور ہائیکورٹ نے فریقین کے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 3 کی ضمنی دفعہ ون اے غیر قانونی قرار دے دی۔ فیصلے کے تحت ٹیکسٹائل انڈسٹری سے سیلز ٹیکس کی دفعہ4 کے تحت ہی ٹیکس لیا جا سکتا ہے۔

مزید : لاہور