دنیا میں طلاق کے مسیحی قوانین تبدیل ہوچکے ہیں ،پاکستان میں مسیحی خواتین کی مدد کرنا چاہتے ہیں ،چیف جسٹس منصور علی شاہ

دنیا میں طلاق کے مسیحی قوانین تبدیل ہوچکے ہیں ،پاکستان میں مسیحی خواتین کی ...
دنیا میں طلاق کے مسیحی قوانین تبدیل ہوچکے ہیں ،پاکستان میں مسیحی خواتین کی مدد کرنا چاہتے ہیں ،چیف جسٹس منصور علی شاہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے مسیحی خواتین کو طلاق دینے کے موجودہ طریقہ کار کے خلاف دائر درخواست پروزیر اقلیتی امورکے خلیل طاہر سندھو کو جواب داخل کرانے کے لئے مہلت دیتے ہوئے سماعت 20جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

ایک مسیحی شہری کی طرف سے دائر اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے لیکن مسیحی طلاق کے قانون کے لئے اسے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام عائدکرنا پڑے گاجبکہ وہ ایسا الزام عائد نہیں کرنا چاہتے ۔انہوں نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق سے متصادم اس ایکٹ کو کالعدم قرار دے۔دوران سماعت وزیراقلیتی امورخلیل طاہر سندھو نے پیش ہوکر بتایاکہ مسیحی مذہب میں خواتین کے طلاق کا نکتہ طے ہو چکا ہے،ہم مسیحی برادری بھی چاہتی ہے کہ خواتین کا تحفظ ہو لیکن مذہب سے بالاتر نہیں۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ پوری دنیا میں مسیحی خواتین کی شادی اور طلاق کے قوانین تبدیل ہو چکے ہیں ۔عدالت مسیحی برادری بالخصوص خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس نے باور کرایا کہ عدالت چاہتی ہے کہ مسیحی برادری کے تمام سٹیک ہولڈرز کا نقطہ نظر سامنے آئے، عدالت نے وزیراقلیتی امور کو تحریری جواب پیش کرنے کے لئے مہلت دیتے ہوئے مزیدسماعت 20جنوری تک ملتوی کردی۔

مزید : لاہور