’ لڑکا چاہیے یا لڑکی ‘ صدی کی سب سے بڑی خبر ، اب حاملہ خواتین اپنے ہونے والے بچے کی جنس کا خود فیصلہ کر سکتی ہیں، سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ آسان ترین طریقہ بے نقاب کر دیا

’ لڑکا چاہیے یا لڑکی ‘ صدی کی سب سے بڑی خبر ، اب حاملہ خواتین اپنے ہونے والے ...
’ لڑکا چاہیے یا لڑکی ‘ صدی کی سب سے بڑی خبر ، اب حاملہ خواتین اپنے ہونے والے بچے کی جنس کا خود فیصلہ کر سکتی ہیں، سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ آسان ترین طریقہ بے نقاب کر دیا

  

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) قدرت اپنی مرضی اور مصلحت کے مطابق اولاد کے خواہشمندوں کو بیٹا عطا کرتی ہے یا بیٹی کی نعمت سے نواز دیتی ہے،لیکن حضرت انسان مسلسل اس کوشش میں لگا ہے کہ یہ فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے سکے۔ اس ضمن میں اب ایک بہت بڑی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کینیڈا کے سائنسدانوں نے اعلان کر دیا ہے کہ خواتین حمل سے قبل اپنے بلڈ پریشر کو کم یا زیادہ کر کے بچے کی جنس کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔

مزیدپڑھیں:’میرا 17 مرتبہ حمل ضائع ہوا اور ڈاکٹر نے کہا اب کبھی ماں نہیں بن سکتی لیکن پھر ایسا کام ہوگیا کہ میں نے یکدم 9ماہ میں 4 بچوں کو جنم دے دیا‘

اخبار مرر کی رپورٹ کے مطابق ٹورنٹو کے ماؤنٹ سنائی ہسپتال سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ڈاکٹر روی رتنا کرن کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حمل سے قبل جن خواتین کا بلڈ پریشر زیادہ ہوتا ہے ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جن خواتین میں بلڈ پریشر کی سطح بلند ترین پائی گئی ان میں بیٹے کی پیدائش کی شرح 45 فیصد زیادہ تھی۔

ڈاکٹر روی رتنا کرن کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے اس تحقیق کے دوران حصول اولاد کیلئے کوشاں 1,441 چینی خواتین کے بلڈ پریشر اور ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کی جنس کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا۔ حمل سے اوسطاً 26.3 ہفتے قبل خواتین کا بلڈ پریشر معلوم کیا گیا۔ بعدازاں جن خواتین کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ان کی قبل از حمل سسٹولک بلڈ پریشر کی ریڈنگ چیک کی گئی تو یہ اوسطاً 106 تھی، جبکہ جن کے ہاں لڑکی کی پیدائش ہوئی ان کی ریڈنگ اوسطاً 103.3mm hg تھی۔

سائنسی جریدے امریکن جرنل آف ہائپر ٹینش (American Journal of Hypertension) میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ڈاکٹر راوی رتنا کرن نے اس تحقیق کے نتائج کو ایک بڑی دریافت قرار دیا، تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ اس دریافت کے سامنے آنے کے بعد لوگ اپنی مرضی سے بچے کی جنس منتخب کرنے کیلئے متوقع ماں کا بلڈ پریشر کم یا زیادہ کر سکتے ہیں، جس کے ماں اور بچے دونوں کیلئے منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس