دنیا بھر کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی مدد کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے،بگرام جیل کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس

دنیا بھر کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی مدد کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ...
دنیا بھر کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی مدد کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے،بگرام جیل کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے بگرام جیل میں قید پاکستانیوں کے بارے میں وفاقی حکومت سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی ۔

فاضل عدالت نے بگرام جیل میں قید پاکستانیوں کو بازیابی کے کیس میں وزارت خارجہ کا مبہم جواب مسترد کر تے ہوئے وزارت خارجہ کو قونصلر پروٹیکشن پالیسی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔درخواست گزار سلطانہ نون کی وکیل بیرسٹر سارہ بلال نے کہا کہ کئی سال گزرنے کے باوجود بگرام کے حراستی مراکز میں موود پاکستانیوں کی بازیابی کا عمل مکمل نہیں ہوا۔وزارت خارجہ کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب داخل کراتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے 43 پاکستانیوں کو 2015ءمیں پاکستان کے حوالے کر دیا تھا۔ امریکہ نے جاتے ہوئے تمام پاکستانی افغان اتھارٹی کے حوالے کر دئیے تھے جبکہ اس وقت بگرام جیل میں پچپن پاکستانی موجود ہیں،انہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت پاکستان اور افغانستان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں تاہم کابل میں موجود پاکستانی سفارتخانہ پاکستانیوں کی بازیابی کے لئے کوشیش جاری رکھے ہوئے ہے۔جس پرعدالت نے وزارت خارجہ کا مبہم جواب مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ دنیا بھر کی جیلوں میں قید یا نظر بند پاکستانیوں کی قانونی مدد کرنا اور انہیں بازیاب کرانا ریاست پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے،دنیا کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تمام معلومات کو ریکارڈ پر کیوں نہیں لایا جاتا،عدالت کو آئندہ تاریخ سماعت پر آگاہ کیا جائے کہ بیرون ملک قید پاکستانیوں کے تحفظ کے لئے حکومت نے کیا اقدامات کئے۔

مزید : لاہور