جعلی عدالتی آرڈر بنانے پر 2سابق پولیس کانسٹیبلز کو 12،12سال قید ،20،20ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنا دی گئی

جعلی عدالتی آرڈر بنانے پر 2سابق پولیس کانسٹیبلز کو 12،12سال قید ،20،20ہزار روپے ...
جعلی عدالتی آرڈر بنانے پر 2سابق پولیس کانسٹیبلز کو 12،12سال قید ،20،20ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنا دی گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار)سینئرسپیشل جج اینٹی کرپشن مریدحسین نے نوکری سے برطرف ہونے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کے بحالی کے جعلی آرڈر پیش کرنے کے مقدمہ میں ملوث تھانہ نولکھا کے 2سابق کانسٹیبلوں کو12، 12سال قید اور 20،20ہزارروپے جرمانے کی سزا کا حکم سنا دیا ہے ۔

سینئرسپیشل جج اینٹی کرپشن کی عدالت میں اینٹی کرپشن نے دو پولیس کے سابق کانسٹبل ذکاءاللہ اور شبیر حسین کے خلاف جعلی مجسٹریٹ کے آڈر دے کر بحالی کی کوشش کرنے کے الزام میں چالان پیش کیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں کانسٹیبلوں 2014ءمیں نولکھا تھانے تعینات تھے ،ان کے خلاف مقدمہ بننے پر محکمہ پولیس نے ان کو نوکری سے نکال دیاتھا۔ دونوں کانسٹیبلوں نے ضلع کچہری کے مجسٹریٹ کا ایک فیصلہ اپنے حق میں تیار کیا اور محکمہ پولیس میں بحالی کے لئے درخواست دی کہ ان کو عدالت نے بری کردیا ہے۔ اس پر ڈی ایس پی وقاراحمد نے آڈرزکی تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ آڈر جعلی ہیں عدالت نے دونوں کو بری نہیں کیا اس پر تھانہ لوئرمال میں مقدمہ کی درخواست دے دی گئی،بعد میں ان کا چالان اینٹی کرپشن نے عدالت میں پیش کردیاتھا، عدالت نے گزشتہ روز سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر دونوں مجرموںکے خلاف مذکورہ بالا سزاﺅں کا حکم جاری کردیا ہے ۔

مزید : لاہور