دکھ ہے کہ آسٹریلیا میں اپنی ٹیم کے کام نہیں آسکا ، دو ماہ کا وقت ہے سوچ بچار کے بعد ریٹائر منٹ کا فیصلہ کرلوں گا:مصباح الحق

دکھ ہے کہ آسٹریلیا میں اپنی ٹیم کے کام نہیں آسکا ، دو ماہ کا وقت ہے سوچ بچار کے ...
دکھ ہے کہ آسٹریلیا میں اپنی ٹیم کے کام نہیں آسکا ، دو ماہ کا وقت ہے سوچ بچار کے بعد ریٹائر منٹ کا فیصلہ کرلوں گا:مصباح الحق

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ ٹیم نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے آسٹریلیا میں جیتنے کا سنہری موقع ضائع کر دیا،مجھے دکھ ہے کہ اپنی ٹیم کے کام نہیں آسکا ہوں،میرے پاس دو ماہ کا وقت ہے سوچ بچار کے بعد ریٹائر منٹ کا فیصلہ کرلوں گا۔

آسٹریلیا سے وطن واپسی کے بعدبرطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں کہا ہے کہ میری اپنی کارکردگی بہت مایوس کن رہی جبکہ بحیثیت مجموعی ٹیم بھی خراب کھیلی، ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ کپتان کی اپنی کارکردگی ٹیم کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے اسی لیے بے حد دکھ ہے کہ دورے میں اپنی ٹیم کے کام نہ آسکا اور رنز نہ ہونے کا ٹیم کو بہت نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا ہے کہ سینئربلے باز پر جب دباو¿ آتا ہے تو وہ اپنی شارٹ سلیکشن میں غلطی کر بیٹھتے ہیں اور یہی کچھ میرے ساتھ ہوا ہے،کرکٹرز کے کریئر میں اس طرح کی صورتحال سامنے آتی ہے جب تمام تر کوشش کے باوجود ان سے رنز نہیں ہو پاتے۔

ون ڈے کرکٹ بدل گئی پاکستانی بیٹسمینوں کا انداز نہیں بدلا ،ہیڈ کوچ بلے بازوں پر برہم

انہوں نے کہا ہے کہ میرے پاس دو ماہ کا وقت ہے جس میں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرسکوں گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم سری لنکا کی نوجوان ٹیم سے وائٹ واش ہو کر جا چکی ہے وہ انڈیا میں ہارچکی ہے وہ پاکستان سے متحدہ عرب امارات میں وائٹ واش ہو چکی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسے ایشیا میں نہیں آنا چاہیے؟ این چیپل کا تبصرہ بے معنی اور غلط ہے،میلبرن ٹیسٹ کی پریس کانفرنس میں جو کچھ بھی کہا میچ ہارنے کی مایوسی کا نتیجہ تھا ۔

انہوں نے کہا ہے کہ مجھ پر تنقید کرنے والے دو طرح کے لوگ ہیں، پہلا حلقہ حقیقی شائقین کا ہے جنھیں پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر بہت دکھ پہنچا ہے اور ان کی تنقید اسی دکھ کا نتیجہ ہے جو قابلِ فہم ہے لیکن دوسرا حلقہ ان چند لوگوں کا ہے جو پاکستانی ٹیم کے عالمی نمبر ایک بننے کا غصہ اب نکال رہا ہے، اسے اس ہار کا غصہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ یہ بات حقیقت پسندی سے سوچنی چاہیے کہ جو ٹیم مسلسل جیت رہی ہوتی ہے اسے شکست کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، یہ کھیل ہے جس میں بڑی بڑی ٹیموں کو بھی مشکل صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پچھلے چھ سال کی کامیابیوں کو بھلا دیا جائے اور یہ کہہ دیا جائے کہ چھ سال میں کچھ بھی اچھا نہیں ہوا اور یہی ہونا تھا۔

مزید : کھیل