پاکستان نے فاٹا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کا افغان الزام مسترد کر دیا

پاکستان نے فاٹا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کا افغان الزام ...
پاکستان نے فاٹا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کا افغان الزام مسترد کر دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے افغان حکومت کی جانب سے فاٹا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہدہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف دنیا بھر نے کیا ہے، جس میں امریکی قیادت سمیت یورپ اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں ، افغانستان میں سیکیورٹی کی بدترین صورتحال کے ہوتے ہوئے مشکلات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا درست نہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’پی پی پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فاٹا میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے الزامات سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی صورت دوسرے ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف دنیا بھر نے کیا ہے، جس میں امریکی قیادت سمیت یورپ اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان دہشت گردی کی لعنت سے لڑتے ہوئے ہزاروں شہریوں کی جانوں اور 100 ارب امریکی ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرچکا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ آپریشن ’ضرب عضب‘ کی کامیابیوں نے پاکستان کی سیکیورٹی اور معاشی صورتحال کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ افغانستان کے ساتھ موجود سرحد پر قائم امن اور سیکیورٹی کے صورتحال سے فوجی آپریشن کے نتائج دیکھے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پارلیمانی اراکین اور امریکی کمانڈرز نے بھی فاٹا کا دورہ کیا اور عوامی طور پر پاکستان کی انسداد دہشت گردی مہم کا اعتراف کیا۔ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال کی وجہ سے کئی دہشت گرد تنظیمیں وہاں  فعال ہیں اور اسی باعث حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، افغان طالبان، داعش، القاعدہ اور جماعت الاحرار جیسے عناصر کو جگہ مل گئی ہے، افغانستان میں سیکیورٹی کی بدترین صورتحال کے ہوتے ہوئے مشکلات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا درست نہیں، بالخصوص دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں سے متعلق بار بار دہرائے گئے دعوے صرف بیان بازی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’چند بیرونی عناصر افغانستان کی زمین کو پاکستان اور دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرکے خطے کی صورتحال کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، جبکہ خفیہ ایجنسیوں 'را' اور 'این ڈی ایس' کے گٹھ جوڑ پر پاکستان کے شدید تحفظات ہیں۔

 ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیامِ امن کے لیے سرگرم ہے کیونکہ افغانستان کا امن نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کے مفاد کے لیے بھی بہت اہم ہے، لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ افغانستان کے استحکام کے لیے ہماری پرخلوص کوششوں کو بدنام کیا جارہا ہے۔ نفیس زکریا کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لیے بارڈر مینجمنٹ کی کوششوں میں بھی مصروف ہے، پاکستان بین الاقوامی کمیونٹی سے اپنی تعاون کی پالیسی کو جاری رکھے گا، لیکن ان الزامات کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی دوسروں سے اس کی امید رکھے گا۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل نیوز بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کابل کے اس دعوے کی حمایت کی تھی کہ فاٹا میں موجود محفوظ پناہ گاہیں ہی دہشت گردوں کو افغانستان میں حملے کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہیں۔ مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو اس بات کو سمجھنا چاہیئے کہ افغانستان کی سیکیورٹی پاکستان اور بھارت کی بھی سیکیورٹی ہے، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تینوں کو ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ یہ بیان افغان پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے دو دھماکوں کے بعد سامنے آیا تھا جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی روز قندھار میں ہونے والے ایک دھماکے میں متحدہ عرب امارات کے سفیر جمعہ محمد عبداللہ الکعبی کے ساتھ ساتھ کئی سفیر بھی زخمی ہوئے تھے۔ دھماکوں کے فوراً بعد کابل میں حکومتی ترجمان نے الزام عائد کیا تھا کہ دہشت گرد جب چاہے افغانستان میں حملہ کرسکتے ہیں، کیونکہ پاکستان نے انہیں فاٹا میں محفوظ پناہ گاہیں قائم رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے، اسلام آباد کی جانب سے پہلے ہی اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا جاچکا ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں