قرآن کریم کی باادب طباعت

قرآن کریم کی باادب طباعت
 قرآن کریم کی باادب طباعت

  

پاکستان کے معروف دینی مجلہ ’’الفاروق کراچی‘‘ نے قرآن کریم کی مطبوعہ پلیٹ کے پانی اور کیمیکل سے اس کی دھلائی کے بعد اس پانی کو گندی نالیوں میں بہادینے کے زیر عنوان کئے گئے، سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ ایسے اقدام سے اجتناب کیا جائے اور پانی کو محفوظ کرکے دریا وغیرہ میں بہادیا جائے۔

’’الفاروق‘‘ میں طبع جواب کے مطالعہ کے دوران مجھے قیامِ پاکستان سے قبل لاہور میں قرآن کریم کے طباعت کنندگان اور اس کے ناشرین یاد آگئے۔ جن کا طرز عمل مسلم ناشرین قرآن کریم کے لئے چشم کشا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد مجھے تحریکِ ختم نبوت کے ترجمان’’روزنامہ آزاد لاہور‘‘ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمت کی سعادت نصیب ہوئی تھی، اس دوران روزنامہ آزاد وطن بلڈنگ سرکلر روڈ میں طبع ہوتا تھا، وطن پریس کا مالک چودھری خوشی محمد شعبہ طباعت کا خوب ماہر تھا، ایک روز میں نے قیام پاکستان سے پہلے لاہور میں غیر مسلم پریس کے احوال دریافت کئے تو اس نے بتایا کہ امرت الیکٹرک پریس(یا کوئی دوسرا نام) کا ہندو مالک پریس اپنے دفتر میں آتے ہی پہلے اپنے مسلمان عملے کو وضو کرنے کی ہدایت کرتا، پھر پریس کے قریب کھڑا ہو کر کچھ پڑھتا اور عملے کو سختی سے منع کرتا کہ جب تک پریس میں قرآن کریم چھپتا ہو سگریٹ ہرگز نہ پی جائے، ورنہ اس کی تنخواہ میں سے رقم کاٹ لی جائے گی، قرآن کریم کی طباعت کے بعد جب پلیٹوں کی صفائی کا مرحلہ آتا تو انہیں ایک خاص’’چوبچے‘‘ میں ڈال دیا جاتا اور پانی کے اخراج کے لئے رکھے گئے سوراخ کے نیچے بڑاکین رکھوادیتا تھا، پلیٹوں کی دھلائی کے بعد کین اپنی بگھی میں رکھوا کر اسے دریائے راوی کے کنارے پر گہرے پانی کے قریب لے جاتا اور وہیں دریائے راوی میں انڈھیل دیتا تھا۔ علاوہ ازیں کشمیری بازار میں جے سنگھ سنت سنگھ ناشران قرآن کی دوکان تھی، سکھ تو اپنے گورو کی ہدایت پر سگریٹ نہیں پیتے، لیکن وہ اپنی دوکان میں کسی مسلمان یا عیسائی کو بھی سگریٹ نوشی کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

یہ تو تھا قرآن کریم کی طباعت و اشاعت کا مودبانہ غیر مسلموں کا طرزِ عمل۔ اب ذرا مسلمانوں کا سلوک دیکھ لیجئے کہ قرآن کریم کی طباعت کے وقت نہ وہ طہارت اور وضو کا خیال رکھتے ہیں، نہ ہی چھپتے ہوئے قرآن فرموں کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہیں، نہ سگریٹ سے پرہیز کرتے ہیں، بلکہ وہ تو مطبوعہ قرآنی فرموں پر کپڑا بچھا کر دستر خوان کاکام لیتے اورسگریٹ نوشی کرتے رہتے ہیں، علامہ اقبال نے ٹھیک ہی کہا ہے:

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

قرآن کریم کی طباعت کے سلسلے میں یہ بات خصوصاً قابل ذکر ہے مسلم اور غیر مسلم پریس کے مالکان اکثر اس حقیقت کا اظہار کیا کرتے تھے کہ جب ہمیں طباعت کا کوئی کام نہیں ملتا تو ہم قرآن کریم کے طباعت شروع کردیتے ہیں، رات دن پریس چلتا ہے، قرآن کریم کی برکت سے ہمیں قطعاً مادی نقصان نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں مجھے قیام پاکستان سے پہلے ایسے قرآن کریم کے طباعت کنندگان اور دیگر اسلامی کتب کے تاجرروں اور فروخت کنند گان سے ملنے کا موقع ملا، وہ دیہاتوں میں قرآن کریم لے لو، کی آوازیں بلند کیا کرتے تھے اور گھروں کے دروازے کھٹکا کر قرآن کریم دے دیا کرتے تھے جو نقد ہدیہ ادا کرتے تھے وہ تو رہے اپنی جگہ، جس گھر کی عورتیں معذرت کرتی تھیں کہ ہمارے مرد گھر میں نہیں ہیں، اگر وہ گھر میں ہوتے تو نقد ہدیہ پیش کردیتے۔

اس پر وہ تاجر قرآن مجید پیش کرتے وقت کہتے قرآن مجید رکھ لو ہم آپ سے فصل کٹنے کے بعد دانے لے لیں گے یا رقم۔ انہیں یقین کامل ہوتا تھا کہ قرآن کریم رکھنے والے ہدیہ ادا کرنے میں پس و پیش نہ کریں گے، بلکہ دیانت داری کے ساتھ ہدیہ ادا کرکے اللہ کے ہاں اجر وثواب کے مستحق ہوں گے۔

بہر حال آج بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی طباعت و اشاعت کرنے والوں کے لئے برکت کے دروازے کھول دیئے ہیں کہ کوئی شخص کبھی یہ شکوہ نہیں کرتا کہ فلاں شخص قرآن کریم کا ہدیہ ادا نہیں کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری آسمانی کتاب کی حفاظت کی خود ذمہ داری لی ہے۔ اس لئے اس مقدس کتاب کی طباعت و اشاعت اور تلاوت کا پوری دنیا بھی ایسا ہمہ گیر نظام موجود ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگ اپنی مذہبی کتابوں توریت، انجیل وغیرہ کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

مزید : رائے /کالم