قصور واقعہ:ہمارے سماجی اور سیاسی نظا م پر ایک سوالیہ نشان

قصور واقعہ:ہمارے سماجی اور سیاسی نظا م پر ایک سوالیہ نشان
قصور واقعہ:ہمارے سماجی اور سیاسی نظا م پر ایک سوالیہ نشان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

7سالہ بچی زینب کے ساتھ زیادتی اور ہلاکت کے بعد قصور سمیت پورا پاکستان ابھی تک صدمے کی کیفیت میں ہے۔ قصور کے شہریوں نے بابا بلھے شاہ کی دھرتی کی لاج رکھتے ہوئے اس واقعے کے بعد جس طرح سے بھرپور احتجاج کیا، اس سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ معاشرہ ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوا۔

اطلاعات کے مطابق قصور شہر کے تھانہ صدر کے ہی علاقے میں یہ اس نوعیت کا آٹھواں واقعہ ہے، جبکہ اس تھانے کی حدود سے باہر قصور شہر کے دوسرے علاقوں میں اس نوعیت کے 12 واقعات چند ماہ کے اندر ہی ہوچکے ہیں۔

ننھی زینب کے ساتھ اس واقعہ نے جہاں ایک طرف عوام تو دوسری طرف فوج اور عدلیہ جیسے ریاستی اداروں کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ اس واقعہ پر اپنے اپنے طور پر ایکشن لیں۔ ننھی زینب کی ہلاکت نے ہمارے سیاسی اور سماجی رویوں پر بھی بہت سے سوالات کھڑے کر دےئے ہیں۔

ہمارے ملک میں اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات ہوچکے ہیں۔’’ساحل‘‘ نامی ایک این جی او کے مطابق پاکستان میں ہر روز 11 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔

اسی این جی او کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں 2017ء کے ابتدائی 6ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1,764واقعات ہوئے، جبکہ 2016ء میں 4,139 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

تناسب کے اعتبار سے ہر روز11 واقعات سامنے آئے۔ اس رپورٹ کے مطابق جنوری 2017ء سے جون2017ء تک ہونے والے واقعات میں سے 62 فیصد کا تعلق پنجاب سے، 27 فیصد کا تعلق سندھ سے، جبکہ بلوچستان سے 76، خیبر پختونخوا سے 58 اور آزاد کشمیر سے اس طرح کے42 واقعات سامنے آئے۔ پورے پاکستان سے اس نوعیت کے 74 فیصد مقدمات دیہی علاقوں، جبکہ باقی 26 فیصد شہری علاقوں سے سامنے آئے۔ اسی رپورٹ کے مطابق 2017ء میں زمینداروں اور جاگیرداروں کے ہاں کام کرنے والے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی رپورٹ کے مطابق بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے80 فیصد واقعات ایسے تھے جن میں ان بچوں اور بچیوں کو رشتہ داروں، محلہ داروں ، عزیزوں یا جاننے والوں کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعہ کے بعد پاکستانی میڈیا کے کئی حلقوں میں اس طرح کا تاثر دیا جا رہا ہے کہ بچوں اور بچیوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات صرف پاکستان میں ہی ہو رہے ہیں۔ یہ تاثر سراسر غلط اور حقائق کے برعکس ہے۔

ہم اس حوالے سے دور نہیں، بلکہ اپنے اطراف کی ہی مثالوں کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں بھی ایسی ہی بیمار ذہنیت کے حامل واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں کام کرنے والی ایک این جی او بنگلہ دیش شیشو ادھیکار فورم (BSAF) کی 9 جنوری 2018ء کی رپورٹ کے مطابق، جسے پاکستان کے کئی اخبارات میں بھی شائع کیا گیا، بنگلہ دیش میں ہر ماہ کے دوران 28 بچوں کا قتل اور49کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آرہے ہیں، جبکہ دنیا کی ’’سب سے بڑی جمہوریت‘‘ بھارت کے اعداد و شمار تو بہت زیادہ بھیانک ہیں،جہاں پر ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 2016ء میں روزانہ کی بنیاد پر جنسی زیادتی کے 106واقعات سامنے آئے۔

زیادتی کا شکار ہونے والی ان بچیوں میں سے 2,116کی عمر12 سال سے کم تھی۔ پاکستان کی طرح بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی آئے روز پنچائتوں کے فیصلوں کے تحت خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، تاہم برصغیر کے ان ممالک میں زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اعداد وشمار پیش کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ برصغیر سے باہر ایسے واقعات نہیں ہوتے۔

دنیا کی سپر پاور مانے جانے والے ملک امریکہ میں بھی 2016ء میں عورتوں کے ساتھ زیادتی کے 84767 واقعات سامنے آئے، ان میں سے اکثر واقعات ایسے ہیں جن میں عورتوں اور بچیوں کو ان کے قریبی رشتے داروں، بعض واقعات میں تو باپ کی طرف سے بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

جرمنی جیسے انتہائی ترقی یافتہ اور مہذب ملک میں بھی2015ء میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے7724 واقعات سامنے آئے، مگر اس سب کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ برصغیر اور پسماندہ ممالک کے مقابلے میں مغربی دنیا میں زیادتی کے اکثر واقعات میں ملزمان گرفتار بھی ہو جاتے ہیں اور ان کو سخت سزا بھی دی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ معاشی اعتبار سے تو پاکستان اور بھارت جیسے سماج کسی حد تک 21ویں صدی میں داخل ہوچکے ہیں، مگر ان معاشروں کے سماجی روےئے میں آج بھی قرون وسطیٰ کے عہد کی چھاپ ملتی ہے۔

آج بھی ان سماجوں میں مردوں کو صرف اس بناپر بالادستی حاصل ہے، کیونکہ وہ مرد ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں خواتین اور بچیوں کو پیچھے رکھا جاتا ہے۔ دنیا کے144ممالک میں خواتین کی تعلیم میں رینکنگ کے اعتبار سے پاکستان 136ویں نمبر پر کھڑاہے۔

دیہاتوں، قصبوں اور چھوٹے شہروں میں کئی خاندان اپنی بچیوں کو سکول کا منہ بھی نہیں دیکھنے دیتے۔ اسی طرح خواتین کی صحت اور علاج کو دیکھیں تو دنیا کے144ممالک میں سے ہم140ویں نمبر پر کھڑے ہیں۔ خواتین کی سیاست میں حصہ داری کی بات کی جائے تو پاکستان دنیا کے 144ممالک میں 95 ویں نمبر پر ہے۔

سیاست میں شراکت کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر دیگر شعبوں کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے، مگر سیاست میں خواتین کی شرکت کی رینکنگ قدرے بہتر اس لئے ہے، کیونکہ پاکستانی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کے لئے مخصوص نشستیں موجود ہیں اور ان مخصوص نشستوں پر بھی اکثر ایسی ہی خواتین کو نامزد کیا جاتا ہے، جن کا تعلق جدی پشتی سیاسی یا جاگیر دارانہ گھرانوں سے ہو تا ہے۔

7سالہ زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعے نے ایک مرتبہ پھر ہمارے سیاسی، قانونی اور پولیس کے نظام کو بھی جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو کوئی بھی حکومت جیسے مرضی دعوے کرے، مگر حقیقت یہی ہے کہ دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب کے اکثر اضلاع میں بھی پولیس کو سیاسی بنیادوں پر ہی تعینات کیا جاتا ہے۔

حکومت جس بھی سیاسی جماعت کی ہو، سرکاری جماعت کے حامی ایم این ایز اور ایم پی ایز کی مرضی کے ساتھ ہی اضلاع میں پولیس کے اعلیٰ عہدے داروں کی تقرریاں کی جاتی ہیں اور ان تقرریوں میں کسی بھی قسم کے میرٹ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔

سادہ سی بات ہے کہ سفارش اور سیاسی پسند کی بنیاد پر تعینات ہونے والے پولیس افسران عام شہری کی نہیں، بلکہ اپنے سیاسی آقاؤں کی خدمت ہی بجا لائیں گے۔

زینب کے واقعے کے بعد جس طرح قصور میں انارکی کی صورت حال پیدا ہوئی، عام شہریوں نے پر تشدد مظاہرے کرکے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی، اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ قانون اور انصاف کے نظام پر سے یقین اٹھتا جا رہا ہے۔

زینب کے ملزمان کو گرفتار کر بھی لیا جائے تو یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات جنم نہیں لیں گے۔ ایسے واقعات کے مکمل سدباب کے لئے سماجی رویوں کے ساتھ ساتھ سیاسی، قانونی اور عدالتی نظام میں بھی انقلابی تبدیلیاں متعارف کروانا ہوں گی، مگر یہاں پر بنیادی سوال یہی ہے کہ ہمارے حکمران طبقات ایسے نظام میں حقیقی تبدیلی کیوں متعارف کروائیں گے، جس نظام کی پسماندگی سے فائدہ اٹھا کر وہ اقتدار حاصل کرتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم