”کراچی کی مارکیٹوں سے ڈبے کا سارا دودھ اٹھا لو کیونکہ ۔۔۔“ چیف جسٹس کے حکم پر کمپنیوں میں سنسنی ، شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے کراچی کی مارکیٹس سے ڈبے والے دودھ کی تمام پراڈکٹس اٹھا کر ٹیسٹنگ کیلئے پی سی ایس آئی آر بھجوانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ڈبوں میں فروخت ہونے والا سفید مادہ دودھ نہیں بلکہ فراڈ ہے۔
غیر معیاری دودھ کی فروخت سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں دستیاب ڈبے کے دودھ  کی مصنوعات اٹھا کر سیمپل ٹیسٹنگ کیلئے پی سی ایس آئی آر بھجوانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے ٹیسٹنگ کے معاملے کی نگرانی ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کو سونپ دی۔

” آج رات 11 بجے تک ہر صورت یہ کام ہو جانا چاہیے “ چیف جسٹس نے بڑا حکم دے دیا
جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ڈبوں میں فروخت ہونے والا دودھ نہیں فراڈ ہے، یہ دودھ نہیں سفید مادہ ہے، حکم دیں گے کہ ڈبوں پر تحریر کیا جائے ” یہ دودھ کا نعم البدل نہیں ہے“۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کہیں ان دودھ کے ڈبوں میں یوریا تو شامل نہیں؟ پنجاب سے یوریا، بال صفا پاﺅڈر اور غیر معیاری اشیا کا خاتمہ ہوگیا ہے کھلے دودھ سے متعلق بھینسوں کو لگانے والے ٹیکوں پر پابندی عائد کی،پنجاب میں کروڑوں روپے لگا کر لیبز ٹھیک کرائیں، سندھ حکومت کو خیال نہیں آیا کہ کراچی کے لوگوں کو معیاری دودھ فراہم کریں۔

مزید : قومی /انسانی حقوق /علاقائی /سندھ /کراچی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...