ڈی پی او قصور نے کوڑھے کے ڈھیر پر زینب کی لاش دیکھتے ہی ایسی بات کہی کہ لوگوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی

ڈی پی او قصور نے کوڑھے کے ڈھیر پر زینب کی لاش دیکھتے ہی ایسی بات کہی کہ لوگوں ...
ڈی پی او قصور نے کوڑھے کے ڈھیر پر زینب کی لاش دیکھتے ہی ایسی بات کہی کہ لوگوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قصور میں پیش آنے والے کمسن بچی کے قتل کے اندوہناک واقعے نے پوری قوم کا سرشرم سے جھکا دیا ہے، پوری قوم کی جانب سے اس وحشی مجرم کو فوری گرفتار کر کے عبرتناک انجام سے دوچار کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔افسوسناک پہلویہ ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی درجنوں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا جاچکاہے ، ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج بتاتے ہیں کہ اس سے قبل زیادتی کا شکار ہونے والے سات آٹھ بچوں کو اسی درندہ صفت سفاک قاتل نے اپنی وحشت کا نشانہ بنایا ہے، یہاں واضع رہے کہ قصور کے اس 2 کلومیٹر کے ایریا میں ایک برس کے دوران 12 بچوں کے اغواء، زیادتی اور قتل کے واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اور پولیس کی جانب سے قبل ازیں ایسے واقعات کی روک تھام اور مجرمان کو کیفر کردار تک پہچانے کے لئے کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا، بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہیں، ان کو سفاکیت اور حیوانیت کا نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، مجرموں کو قرار واقعی سزا نہ دے کر ہم نے اپنی نسل نو کو کیوں غیر محفوظ کر دیا۔ 

معصوم زینب بھی 4 جنوری کو اغواء ہوئی ، حکومت اور پولیس اس دوران سوئی رہی، اور اس اس وقت متحرک ہوئی جب معصوم زینب کے قتل کے دلخراش واقعہ کا سول سوسائٹی اور میڈیا نے نوٹس لیا۔ بلاشبہ اگر ریاست اور ذمہ دار ادارے اپنا کردار ادا کرتے تو یہ دلخراش واقعہ پیش ہی نہ آتا جس نے ہر دل مغموم اور ہر آنکھ کو اشکبار کردیا ہے۔ کمسن بچی کے اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کی لرزہ خیز واردات انسانیت کی ذلت اور درندگی کی بدترین مثال ہے ، اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ درحقیقت یہ صرف زینب کا قتل نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قتل ہے، یہ عصمت و پاکیزگی کا قتل ہے ، یہ عدل و انصاف کا قتل ہے، یہ شرم و حیا کا قتل ہے ، یہ عقل و شعور کا قتل ہے۔

زینب کا قتل دور جاہلیت کی یاد دلا تا ہے جب بیٹیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا، اور اب ننی معصوم بیٹیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر کے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے۔ معصوم زینب کی تدفین تو ہوگئی مگر اس کے قتل پر اٹھنے والے سوال کبھی دفن نہیں ہو سکیں گے۔ زینب کی روح ہم سے سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا یہ ملک صرف صاحب اقتدار افراد کے بچوں کے لیے بنایا گیا تھا، اور کیا عام افراد کی بیٹیاں درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہیں؟ زینب کی روح ہم سے پوچھ رہی ہے کہ اس ریاست کا کیا مستقبل ہے جو اپنے معصوم بچوں کو بھی تحفظ نہیں دے سکتی؟ اور اس معاشرے کا کیا انجام ہو گا جہاں بیٹیوں کے قاتل دندناتے پھر تے ہیں؟ زینب کی روح حکومت سے پوچھ رہی ہے کہ اس کی رٹ اتنی کمزور کیوں ہے کہ اس کے باپ کو انصاف کیلئے بھی آرمی چیف سے اپیل کرنا پڑی؟ لیکن زینب کی روح کو ان سوالوں کے جواب شایدکبھی نہ مل سکیں۔

انتہائی افسوسناک امر ہے کہ پورے پاکستان میں معصوم بچوں کے ساتھ بدفعلی کے ارتکاب کی وارداتیں ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد وشمار کہتے ہیں کہ سال 2017ء کے دوران پاکستان میں 1465خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، جن میں سے نصف سے زائد یعنی769 نو عمر بچیاں تھیں۔ سال 2017ء میں دل دہلادینے والے گینگ ریپ کے واقعات کی تعداد 447تھی، جبکہ 118 مرد بھی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنے، اعداد و شمار کے مطابق گینگ ریپ کے کئی واقعات میں قریبی رشتے دار اور پڑوسی ملوث پائے گئے۔

کمسن زینب کے بڑے بھائی ابوذر امین نے میڈیا کو بتایا کہ جب زینب کی لاش کچرے کے دھیر پر ملی تو ڈی پی او قصور ذوالفقار علی سرکاری جیپ پر وہاں آئے اور گاڑی سے نیچے اترنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہاں سے بدبو آ رہی ہے۔ اور جب اس دلخراش واقعہ پر احتجاج اور انصاف مانگنے سڑکوں پر آئے تو نہتے مظاہرین پر پولیس نے سیدھی فائرنگ کر کے بربریت کی انتہاء کردی ۔ معصوم زینب! کہنے کو بہت کچھ ہے، لکھنے کو مگر کچھ نہیں!تم جاتے جاتے کس طرح اس معاشرے کی سنگ دلی اور بے حسی کو عیاں کرگئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی ادارے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اپنا موثرکردار ادا کریں ، اور کمسن زینب کے درندہ صفت قاتل کو گرفتار کرکے عبرتناک سزادی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا جرم کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ