امریکہ کے بغیر پاکستان کی ترجیحات

امریکہ کے بغیر پاکستان کی ترجیحات
امریکہ کے بغیر پاکستان کی ترجیحات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل باجوہ نے امریکی عہدے داروں سے بات چیت کے بعد ان کی امداد کی پیش کش کو مسترد کردیا ہے ،ادھر امریکہ میں ٹرمپ کے لوگ بھی یہ کہنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ بعض چھوٹے قد کے لوگ امریکہ پاکستان کے تعلقات کو بگاڑنا چاہتے ہیں۔دیکھا جائے تو ان تعلقات کو خراب کرنے میں خود امریکی صدر کا اپنا ہاتھ ہے ۔پاکستان نے امریکی امداد کی پرواہ نہ کرنے کا اعلان کرکے اپنی خارجہ پالیسیوں اور ترجیحات پر کام شروع کردیا ہے اور یہ خود پاکستان کے حق میں بہت بہتر ہوسکتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات آج کل شدید سرد مہری کا شکار نظر آتے ہیں۔ماضی میں ایسا کئی بار ہوچکا ہے۔ پاکستان اور دُنیا کے حساس اشخاص خاص طور وُہ لوگ جو سیاست سے وابستہ ہیں۔ امریکی اور پاکستان کے سیاسی تعلقات کی نوعیت پر متفکر ہیں۔ امریکہ کے صدر نے پاکستان کی حکومت سے فوجی تعاون کو اُس وقت تک معطل کر رکھا ہے جب تک کہ پاکستان بقول امریکہ تعاون کی شرائط پوری نہیں کرتا۔ امر یکہ کی حسبِ معمول دو موٹی موٹی شکا ئتیں ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے سے گریزاں ہے اور دہشت گردی کو ختم کرنے کی بجائے اپنی ساری زمین پر دہشت گردوں کو محفوظ پنا گاہیں مہیا کرتا ہے۔ حقانی جیسے دہشت گرد گروپ کو امریکہ کے اصرار کے باوجود ہر طرح کی فوجی اور مالی معاونت تیار ہے تاکہ افغانستان میں پاکستان حقانی گروپ کے تعاون سے اپنی موجودگی بر قرار رکھ سکے۔ اِس کے علاوہ، امریکہ جس مقصد کے لئے مالی مدد فراہم کرتا ہے وُہ مقاصد پورے نہیں ہو رہے۔ باالفاظ دیگر، پاکستان کی حکومت دھوکہ دے رہی ہے۔اِن الزامات کی پاداش میں امریکہ نے۲۲۵ ڈالر کی مالی امداد روک لی ہے۔ امریکہ پاکستان کو کنٹرول کرنے کے لئے اِس مالی امداد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ جبکہ پاکستان امریکی الزامات کی نہ صرف تردید کرتا ہے بلکہ مختلف مواقع پر پاکستان اپنے موقف کا اعادہ کر چُکا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے مصمم ارادہ رکھتا ہے۔ اور دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کی اپنی بقاء کے لئے بھی ا شد ضروری ہے۔ لیکن بد قسمتی سے افغانستان اور بھارت امریکہ کی انتظا میہ کے کان بھرنے میں مصروف ہیں۔ بلکہ امریکہ کی افغانستان میں ناکامی کی و جہ پا کستان کو قرار دیتے ہیں۔ پاکستان اس سے انکاری ہے۔ کیونکہ امریکہ افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کرکے بھی مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

امریکی امداد کی بندش سے مالی اثرات تو زیادہ نہیں ہو نگے لیکن اِس سے پاکستان کو ذہنی طور پا صدمہ زیادہ پہنچے گا۔ پاکستان کی حکومت نے مالی امداد کی کمی کو پورا کرنے کے لئے امریکی کنٹینئرز پر اپنا ٹیکس بڑ ھانے پر زور دیا ہے۔ اِس اضافی رقم سے پاکستان ا پنا خسارہ پورا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں، پاکستان نے امریکہ کے ساتھ فوجی اور انٹیلی جنس کا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔پاکستان کے وزیر د فاع نے اپنے حالیہ بیان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔ انوں نے کہا کہ امریکی مالی امداد کے نہ ملنے سے پاکستان کی افواج کے اخراجات متاثر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مُناسب وقت پر امریکہ پر بری اور فضائی پا بندیاں عائد کر دی جائیں گے۔بیشک پاکستان کو مالی طور پر زیادہ مُشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم بین الاقوامی مالی اداروں سے قرضہ لینے میں کا فی دقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ درین اثناء پاکستان کو یہ موقعہ ملا ہے کہ وُہ اپنی خارجہ پا لیسی پر بغور نظر ڈال سکے۔ اِس علاوہ پاکستان کے پاس روس اور چین سے خارجی تعلقات بڑ ھانے کا نادر موقعہ ہے۔ جس سے پاکستان سیاسی فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس طرح پاکستان آہستہ آہستہ خود انحصاری کی راہ پر چل سکتا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ