ڈاکٹر وحید الزمان طارق ایک عظیم علمی ادبی شخصیت جن کو اقبالیات پر عبور حاصل ہے

ڈاکٹر وحید الزمان طارق ایک عظیم علمی ادبی شخصیت جن کو اقبالیات پر عبور حاصل ...
ڈاکٹر وحید الزمان طارق ایک عظیم علمی ادبی شخصیت جن کو اقبالیات پر عبور حاصل ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی (طاہر منیر طاہر)شاعر مشرق حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی شاعری اور ان کے نظریات کو سمجھنے کا عبور چند ہی لوگوں کو حاصل ہے جن میں ایک بریگیڈیئر ریٹائرڈ وحید الزمان طارق ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے شہر العین کے ایک ہسپتال میں گزشتہ عرصہ 9 سال سے بطور ڈاکٹر خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر وحید الزمان طارق ایک عظیم اور قابل مثال علمی ادبی شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر اور آرمی آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے شاعر مشرق حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی شخصیت اور شاعری پر بہت کام کیا ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ کی شاعری کا زیادہ تر حصہ چونکہ فارسی میں ہے لہٰذا علامہ اقبال کی شاعری کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر کام کرنے کے لئے وحید الزمان طارق نے فارسی میں بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ علامہ اقبال کے نظریات اور تعلیم کو سمجھنے کے لئے فارسی زبان پر عبور ضروری ہے۔ بصورت دیگر ایک عام آدمی کے لئے علامہ اقبال کے اشعار سمجھ سے بالا تر ہیں بلکہ علامہ اقبال کے اشعار کا صحیح مطلب جاننے کے لئے کسی ماہر استاد کی ضرورت پڑتی ہے۔ وحید الزمان طارق ماہر اقبالیات بھی ہیں جو ہر ماہ نظریات اقبال کے پھیلاﺅ کے لئے اندرون اور بیرون ملک لیکچرز دیتے ہیں جسے اہل علم و دانشور طبقہ غو ر وفکر سے سنتا ہے۔ وحید الزمان طارق نے 1980ءمیں کمیشن جائن کیا۔ 1986ءمیں پاک آرمی میں میجر بنے جبکہ 1993ءمیں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ 1996ءمیں بطور کرنل عہدہ میں ترقی ملی جبکہ 2002ءمیں بریگیڈیئر کا عہدہ ملا اور بطور بریگیڈیئر ہی ریٹائر ہوئے۔ دوران ملازمت بھی علامہ اقبال پر ریسرچ کا سلسلہ جاری رکھا اور اقبالیات کو سمجھنے کے لئے دیگر ممالک کا دورہ بھی کیا۔ وحید الزمان طارق کا کہنا ہے کہ حضرت علامہ اقبال نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان اور ولی اللہ کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کے اشعار سے قرب الہٰی کی خوشبو آتی ہے۔

حضرت علامہ اقبال کی شاعری اور ان کے نظریات کا ادراک اور شعور رکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ علامہ اقبال کی صوفیانہ شاعری دلوں پر گہرا اثر چھوڑی ہے جس کا اعتراف دیگر ممالک کے مفکر اور سکالر بھی کرچکے ہیں اور علامہ اقبال کی شاعری پر ڈاکٹریٹ کرچکے ہیں۔

اقبالیات کو گہرائی سے جانچنے اور پرکھنے کا ملکہ محقق و مفکر وحید الزمان طارق کو حاصل ہے جس پر وہ مبارکباد اور خراج تحسین کے متحق ہیں۔ ان جیسے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں جو اقبال کے افکار و نظریات کو صحیح انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔ ایسے لوگ پاکستان کا اثاثہ ہیں جن کی قدر ان کی زندگی میں کی جانی چاہیے تاکہ ان کو اپنی خدمت کا ثمر مل سکے۔

وحید الزمان طارق نے 29سال آرمی میں کام کیا جبکہ مارچ 2009ءمیں ریٹائرمنٹ کے بعد حصول علم پر مزید توجہ دی۔ اس دوران انہیں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، امریکہ، انگلینڈ، قطر اور سعودی عرب میں کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی جبکہ انہوں نے یو اے ای کو منتخب کیا۔ یو اے ای میں رہتے ہوئے وحید الزمان طارق نے علامہ اقبال کے افکار و نظریات کے فروغ کے لئے مجلس قلندران اقبال بھی قائم کی اور اس کے تحت متعدد علمی ادبی تقریبات منعقد کیں جن میں امارات بھر سے اہل علم و دانشور شرکت کرتے رہے۔ اقبالیات پر عبور رکھتے ہوئے وحید الزمان طارق کو پاکستان ایسوسی ایشن دبئی، پاکستان سوشل سنٹر شارجہ اور دیگر علمی ادبی تنظیموں کے پلیٹ فارم پر خطاب کا موقع ملا اور متعدد مشاعروں کی صدارت کا اعزاز بھی ملا۔ وحید الزمان طارق نہ صرف امارات میں بلکہ دنیا بھرمیں انتہائی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور عظیم علمی ادبی شخصیت کی پہچان رکھتے ہیں۔ علامہ اقبال کے موضوع پر گھنٹوں کے حساب سے تقریر کرنا ان کا خاصہ ہے۔ ان کی تقاریر کے دوران سامعین ان کے علم پر رشک کرتے ہیں اور پوری دلچسپی و دل جمعی سے انہیں سنتے ہیں۔ سفارتخانہ پاکستان ابوظہبی میں بھی وحید الزمان کے اعزاز میں تقاریب ہوئیں اور انہیں سنا گیا۔ امارات میں ویسے تو بہت سی علمی ادبی شخصیات موجود ہیں لیکن وحید الزمان طارق ایک عظیم علمی ادبی شخصیت ہیں۔

مزید : عرب دنیا