امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں. . . پہلی قسط

امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں. . . پہلی قسط

قمر نقوی دنیا کے سب سے انوکھے شکاری ہیں۔وہ برصغیر کے پہلے مسلمان شکاری ہیں جنہوں نے درجنوں شیروں کا شکار کیا ،دلچسپ بات یہ ہے کہ بندوق ،شکار اور جنگل کی زندگی سے محبت کرنے والے اس بہادر شکاری کا دل حس لطافت سے بھرپور ہے اور شعروسخن میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ان کا تعلق بھارت سے ہے لیکن اب امریکہ میں مقیم ہیں۔وہ ناول نگار اور شاعر بھی ہیں، کئی ناول اور شاعری کی کتابیں لکھ چکے ہیں ۔ایک ادبی رسالہ بھی نکالتے ہیں۔انکی شکاربیتوں میں سے ایک کتاب آٹھ آدم خور کو یہاں پیش کیا جارہا ہے۔ 

پالی پور کا آدم خور

گڑھی اور پالی پور (بھوپال) کے درمیان چوالیس میل کا فاصلہ ہے لیکن ہر دو چار میل پر چھوٹی بڑی بے شمار آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں جن میں سے بعض ایک ہی مختصر سے گھر پر مشتمل ہیں اور بعض میں بیس پچیس گھر ہیں۔ تقریباً سات آتھ سو مربع میل کا یہ علاقہ گھنے جنگلوں، شیریں و شفاف پانی کے چشموں اور ندیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ جہاں جہاں آبادی ہے وہاں جنگل کے کسی قدر کشادہ قطعے کو صاف کرکے گندم، مئی اور جوار کی کاشت کی جاتی ہے اور ہمیشہ جاری رہنے والی ندیوں سے آبپاشی ہوتی ہے جو گاؤں کے قریب قریب ہی بہتی ہیں۔

ان آبادیوں کے رہنے والے مختلف قسم کے کاروبار کے لئے ایک آبادی سے دوسری آبادی تک زیادہ تر پیدل ہی آتے جاتے ہیں۔ سارا علاقہ پہاڑی ہے اور گھنے جنگل سے ڈھکا ہوا ہونے کی وجہ سے تنگ پگڈنڈیاں ہی سڑکوں کا کام دیتی ہیں۔ بیل گاڑی کے راستے کسی علاقے میں ہیں اور کسی میں نہیں ہیں۔

پہاڑوں اور گھنے جنگلات کے علاوہ ان غریب دیہاتوں کو ہر قسم کے خونخوار درندوں اور حشرات الارض سے بھی ہر وقت سابقہ رہتا ہے لیکن ا ن کی زندگی اسی طرح گزرتی ہے اور نہ صرف یہ لوگ درندوں سے مانوس ہوجاتے ہیں بلکہ درندے اور دوسرے جانور بھی ان سے نہیں ڈرتے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ چیتل، سانبھر اور بعض اوقات تیندوے اور چیتے بھی ان دیہاتوں کو دیکھ کر قطعی چوکنا نہیں ہوتے۔ ایک دفعہ مَیں رائے سین کے جنگلوں میں ایک بہت بڑے سینگوں والے چیتل کی جستجو میں کئی دن سے سرگرداں تھا، جن گاؤں والوں نے اس کے بارے میں مجھے اطلاع دی تھی، وہ معتبر لوگ تھے اور انہوں نے اس کو متعدد بار دیکھا تھا لیکن یہ چیتل میرے ہاتھ نہیں لگا تھا۔ جن گڑھوں یا تالابوں پر اس کو صبح و شام پانی پیتے دیکھا گیا تھا، وہاں مچان بندھوا کر دو تین راتیں خراب کیں لیکن کامیابی کی صورت نظر نہ آئی۔

جنگل کے دو تین قطعات کا ہانکہ بھی کرایا پھر بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا آخر تنگ آخر ایک روز مَیں نے دیہاتیوں کی سی دھوتی باندھی۔ سر پر پگڑی لپیٹی اور دو مقامی آدمیوں کے ہمراہ جنگل میں گیا۔ ایک دیہاتی کی رائے کے مطابق مَیں نے رائفل بھی ساتھ نہ لی کیونکہ صرف تجربہ کرنا ہی مقصود تھا۔ ہم تینوں مختلف جنگلوں، وادیوں اور پہاڑیوں پر گھومتے رہے اور مَیں برابر سوچتا رہا کہ چیتل کا ملنا تو بڑی بات ہے، دور سے جلوہ ہی نظر آجائے تو کم از کم ذوق تماشا ہی کی تسکین ہوجائے گی۔

اس روز بھی ہم لوگوں کو گھومتے ہوئے صبح کے 10 بج گئے لیکن چیتل کا نشان نہ ملا۔ ساڑھے دس بجے میں گاؤں کی طرف واپس ہوا۔ ایک پہاڑ کے دامن میں جہاں فالسے، شہتوت اور انجیر کے درخت تھے، ہم لوگ گزررہے تھے کہ اچانک کوئی دو سو گز پر ایک چیتل نظر آیا۔ اس کے سینگ حیرت انگیز طور پر لنبے تھے۔ ان کا طول 35 انچ سے ہرگز کم نہ ہوگا۔ اتنے لنبے سینگوں کا چیتل شاذہی ملتا ہے۔ ہم لوگ آہستہ آہستہ چلتے رہے اور یہ چیتل بالکل لاپروائی سے کھڑا شہتوت کھارہا تھا، افسوس کہ اس وقت میرے ہاتھ میں رائفل نہیں تھی۔

اس تمام بیان سے صرف یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ جنگی جانور دیہاتیوں کی وضع قطع سے مایوس ہوجاتے ہیں اور ان سے ڈرتے نہیں۔ اسی طرح دیہاتی بھی شیر، چیتے اور تیندوے کو خانگی کتے، بلیوں سے زیادہ وقعت نہیں دیتے۔ دن اور رات کے ہر حصے میں یہ لوگ ایک آبادی سے دوسری آبادی تک صرف ایک کلہاڑی ہاتھ میں لے کر آتے جاتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی زندگی کا انحصار اسی آمدورفت پر ہے اور وہ ان جنگلوں، نالوں اور پہاڑیوں سے گزرنے پر مجبور ہیں تاہم ان کی زندگی پرسکون ہوتی ہے اور ان کے کھیتوں کی پیداوار ان کی ضروریات کے لئے کافی ہوتی ہے۔

ان حالات کے پیش نظر اگر کسی نواحی جنگل کا شیر آدم خور ہوجائے تو نہ صرف ان آبادیوں کے درمیان آمدورفت میں ہی تعطل پیدا ہوجاتاہے بلکہ ان غریبوں کو روزمرہ کی ضروریات حاصل کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے جب تک دس پندرہ آدمی کلہاڑیوں سے مسلح ہوکر سفر نہ کریں، اس وقت تک جنگل میں قدم رکھنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ مگر ان آبادیوں میں اتنے سارے آدمیوں کا بیک وقت جمع ہونا اور باہر نکلنا خاصا دقت طلب کام ہے کیونکہ بعض آبادیاں ایک دو گھروں پر ہی مشتمل ہوتی ہیں۔

شیر کے آدم خور ہوجانے کے اسباب خواہ کچھ ہی ہوں، لیکن اس کی تاخت و تاراج کا آگاز ہوتے ہی دیہاتیوں پر وہشت و سراسمیگی کا تسلط ہوجانا قدرتی بات ہے۔ عام طور پر اس ایک شیر تیس چالیس مربع میل رقبے کو اپنی جولاں گاہ بنالیتا ہے اور اس جولاں گاہ میں بسنے والے ہر ذی روح کی زندگی ہر وقت خطرے میں رہتی ہے۔ شیر کو قدرت نے مختلف جانوروں کو مختلف داؤ پیچ سے مارنے کے طریقوں کے سوا کچھ نہیں سکھایا۔ نہ جنگل کا کوئی جانور شیر پر حملہ کرنے کی حماقت کرتا ہے اور نہ شیر کو اپنی مدافعت کے طریقے معلوم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ شیر کی تیس چالیس سالہ زندگی میں سور کے سوا اور کوئی جانور اس کے مقابل نہیں ہوتا۔ سور بھی لازماً شکست کھا کر لقمہ بن جاتا ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو اور سور کسی وجہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو بھی جائے تب بھی شیر کی بجلی جیسی تیزی و چستی، قوت و ہیبت اور چلت پھرت کے سامنے سور کی کوئی حیثیت نہیں۔

لیکن ادھر انسان سے سابقہ پڑا، ادھر قدرت نے شیر کی عادات و اطوار میں انقلاب عظیم برپاکیا۔ اب تک تو مقابلہ جانوروں سے تھا، لیکن اب اشرف المخلوقات سے نپٹنا پڑا۔ لہٰذا شیر کو نہ صرف مخیر العقول عیاریاں ہی آجاتی ہیں، بلکہ اس میں صبر و برداشت، عاقبت اندیشی اور موقع محل کا اندازہ کرنے کی قوتیں بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انجان دیہاتی ان چالاکیوں اور عیاریوں سے متعجب ہوکر اسے خبیث روح یا بھوت سمجھنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی جہالت اور ارواح خبیثہ پر یقین، اس قدر پختہ ہوتا ہے کہ شیر کی ہلاکت میں کسی قسم کا حصہ لینا شیر کو خفا کرکے اپنی طرف متوجہ کرنے کے مترادف سمجھنے لگتے ہیں۔پالی پور کے آدم خور شیر نے بھی بہت کم مدت میں خبیث روح ہونے کی شہرت حاصل کرلی۔

جاری ہے

مزید : کتابیں /شیروں کا شکاری

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...