پتنگ بازی، ایک اور معصوم جان لے گئی!

پتنگ بازی، ایک اور معصوم جان لے گئی!

دھاتی تار سے بندھی گڈی(پتنگ) نے ایک اور ماں کی گود اجاڑ دی، اس سے قبل اس کھیل کے باعث جانے والی44 جانوں میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا۔مصری شاہ میں مدرسے میں حفظ قرآن کے طالب علم 14سالہ صہیب نے بجلی کی تاروں میں اُلجھی پتنگ لوٹنے کے لئے جونہی ڈور کو پکڑا تو گیارہ سو کے وی کا کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا کہ یہ پتنگ دھاتی تار سے باندھ کر اُڑائی گئی تھی، بچے کی جان کے ساتھ دھماکہ بھی ہوا اور علاقے کی بجلی بھی ٹرپ کر گئی، خبر ہے کہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے پتنگ اُڑانے والے کی تلاش شروع کر دی ہے۔ یہ زندہ دِلوں کے شہر لاہور میں ہونے والی المناک موت ہے اور اس سے پہلے44 افراد بھی اسی شہر میں اللہ کو پیارے ہوئے تھے۔ صہیب(مرحوم) کے والدین اور لواحقین نے جہاں اس کے چلے جانے کا ماتم کیا، وہاں زبردست احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اِس موت کے بدلے وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے، پولیس نے نامعلوم پتنگ باز کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جو مل نہیں سکے گا کہ اِس سے پہلے جاں بحق ہونے والے افراد کی اموات کے ذمہ دار بھی نہیں مل سکے تھے۔اس تازہ ترین المناک حادثے کی وجہ سے پتنگ بازی اور بسنت کے مخالف شہریوں کے موقف کو بہت تقویت ملی ہے،کیونکہ ان کا احتجاج یہی تھا کہ بسنت اور پتنگ بازی یہاں جان لیوا کھیل بن چکی ہے۔ یہ عجیب سی بات ہے کہ ہم کھیل میں بھی ایسی صورت پیدا کر لیتے ہیں کہ اس سے جانی اور مالی نقصان ہو، بسنت ایک موسمی تہوار کے طور پر منائی جاتی تھی اور پتنگ بازی شوق سے ہوتی تھی،اُن دِنوں ماسوا کسی حادثے(چھت سے گرنے یا سڑک پر سواری کی زد میں آنے سے) کے کوئی جانی نقصان نہیں ہوتا تھا،لیکن پھر تھڑ دلوں نے اس کھیل کو بھی خون آشام بنا دیا، تندی اور نائلون کے دھاگے سے مانجھے والی ڈور بنائی گئی کہ اپنی پتنگ نہ کٹے، مگر یہ ڈور گلا تو کاٹ دیتی ہے ٹوٹتی نہیں۔بات یہیں نہیں رکی،بلکہ پتنگ لوٹنے والے لٹیروں نے دھات کی تار استعمال کرنا شروع کر دی، جو موٹی ڈور سے بھی زیادہ ضرر رساں ثابت ہوئی کہ اس سے بجلی کی ٹرپنگ شروع ہو گئی اور ٹرانسفارمرز وغیرہ کو بھی نقصان پہنچا۔پے در پے حادثات کے بعد شدید احتجاج ہوا اور پتنگ بازی ممنوع قرار دے دی گئی۔تاہم چوری چھپے اب بھی یہ کام جاری اور حادثات کا باعث بنتا ہے، پولیس پوری طرح قابو نہیں پا سکی اور لوگ باز نہیں آتے۔حال ہی میں فیاض الحسن چوہان نے بسنت منانے کا اعلان کیا تو متاثرین بسنت اور شہریوں نے زبردست احتجاج کیا تھا، اس دوران دو حادثات بھی ہو گئے اور اب تیسرا واقعہ ہو گیا۔ بہتر یہی ہے کہ حکومت خود ہی بسنت نہ منانے اور پتنگ بازی پر پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کر دے اور سختی سے پتنگ بنانے اور اُڑانے والوں کا محاسبہ کیا جائے تاکہ اور کوئی جان ضائع نہ ہو،اگر ایسا ہوتا رہا تو خون ناحق کس کی گردن پر ہوں گے ؟

مزید : رائے /اداریہ