انگلش میڈیم اور’’چغتائی آرٹ‘‘ بچے

انگلش میڈیم اور’’چغتائی آرٹ‘‘ بچے
انگلش میڈیم اور’’چغتائی آرٹ‘‘ بچے

  

نجی اسکولوں کی ہوش رُبا فیسیں کم کرنے کے حکم پہ یاد آیا کہ چند سال پہلے روزنامہ ’ڈان‘ میں ایڈیٹر کے نام ایک خط میں پنجاب کے دانش اسکولوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ مراسلہ نگار کی رائے میں مذکورہ اسکیم کے لئے مختص رقم صوبے کے مجموعی تعلیمی ڈھانچے پہ خرچ ہونا چاہییے تھی جہاں بچوں کی اکثریت آج بھی دیہی اسکولوں کی غیر علمی فضا میں دقیا نوسی نصاب کا مطالعہ کر رہی ہے ۔ سابق اور موجودہ حکومتِ پنجاب کی تعلیمی ترجیحات کیا ہیں اور ان کا تعین کیسے کیا گیا ہے ؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم سہی ، لیکن نجی اسکوں کی فیسوں پہ جاری بحث کے پس منظر میں مجھے اعلی شہری طبقات میں مقبول تر ہوتے ہوئے پرائیویٹ تعلیم کے فیشن ایبل نعرے کو جھٹلانے کی اجازت دیجیے ۔ میرا سیدھا سانظریہ ہے کہ سب پاکستانی بچوں کے لئے یکساں تعلیمی سہولیات کسی اور کی نہیں ، مملکت کی ذمہ داری ہیں ۔

عام طور پر یہی سمجھا گیا ہے کہ تعلیم کا ابتدائی مقصد شرحِ خواندگی اور پھر معلومات کے پھیلاؤ میں اضافہ کرنا ہے ، جس کے بعد آتے ہیں تحقیق و تلاش کے مرحلے ۔ یہ آخری نکتہ ، جسے جنرل پرویز مشرف کے محبوب وزیرِ تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمان کی ’انقلابی‘ سوچ نے تقویت دی ، ذرا اونچی سطح کی بات ہے ۔

وگرنہ سچ پوچھیں تو پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں تعلیم کی افادیت اس لئے بھی ہے کہ یہ عام لوگوں کے لئے عمودی حرکت پذیری کا وسیلہ بن جاتی ہے ۔ انگریز کے دَور میں یہی ہوا کہ دسویں جماعت پاس کرنے کی دیر ہوتی اور اچھا خاصا معقول نوجوان ’بابو‘ بننے کے خواب دیکھنے لگتا ۔ افسرانہ صلاحیت رکھنے والوں کو مسلح افواج میں کمیشن بھی مل جاتا ،جبکہ سول سرشتہ میں لیلائے افسری سے ملاپ کے لئے بہر حال ڈگری کی ضرورت تھی ۔

انگریز کی حکمت عملی کے پیچھے نو آبادیاتی اغر اض تو ہوں گے ، مگر اِس پالیسی سے مقامی آبادی کو بھی فائدہ پہنچا ۔ جیسے فوجی میس کے لئے انڈے مرغی کی سپلائی سے لے کر بارکوں میں رنگ روغن کے ٹھیکیدار اور چھاؤنی میں ہوٹلوں ، سنیما گھروں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کے مالکان تک بہت سی نئی سماجی پرتیں ہمارے سامنے آئیں ۔

کوئی پسند کرے یا نہ کرے ، ہمارے وسطی اور شمالی پنجاب کے کئی اضلاع میں متوسط شہری طبقات کا ظہور بڑی حد تک اسی عمل کے تابع رہا ۔ عام خاندانوں کے براہ راست کمیشن یا نچلے عہدوں سے ترقی پانے والے افسران اِس عمودی حرکت پذیری کا پیش خیمہ ثابت ہوئے ۔ ایک جنگ آزمودہ مصنف کے مطابق ، ہم نے اپنی سلیکشن کے لئے ذاتی شجرہء نسب کو کھینچ تان کر اتنے صوبیدار چچاؤں اور کپتان چچا زادوں کا احاطہ کر لیا تھا کہ بورڈ کو مطمئن کر کے بھی کچھ بچ گئے ۔

مَیں بھی اِن مثالوں کو کھینچ تان کر سرکاری تعلیم کے حق میں اپنی مرضی کا نکتہ ابھارنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ اس کے جواز میں خود اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کے واقعات کی ترتیب بدلے بغیر یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ بطور طالب علم اور استاد میری وابستگی جن باضابطہ درسگاہوں سے رہی ان کی تعداد ڈیڑھ درجن سے اوپر بنتی ہے ۔

گنتی میں اُس نیم فوجی ’دانش‘ اسکول کو شامل نہیں کیا جہاں تقرری کے عمل میں میرے اِس مطالبے پر کہ انگریزی کے ساتھ اکنامکس پڑھانے کا اضافی مشاہرہ ملنا چاہیے ، کرنل جے ۔ ڈی۔ ایچ چیپ مین کے پاکستانی جانشین نے کہا ’’ برخوردار ، پہلے دن تنخواہ کی بات نہ کرو ۔ مَیں نے ساری زندگی ایسا نہیں کیا ‘‘۔ ’’سر ، آپ دنیا میں اپنی نوعیت کے واحد آدمی ہوں گے ، ورنہ تنخواہ کی بات پہلے ہی دن کی جاتی ہے ۔‘‘ اِس پر ’’وہ ہاتھ سو گیا تھا سر ہانے دھرے دھرے‘‘ ۔

کچھ لوگ کہیں گے کہ چلو ، یکے بعد دیگرے آٹھ تعلیمی اداروں میں انگریزی اور پراڈکاسٹ جرنلزم پڑھانے کا دعوی تو مان سکتے ہیں ، مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ آ دمی فیل ہوئے بغیر سولہ سترہ سال پورے ایک درجن اسکولوں اور کالجوں میں زیرِ تعلیم رہا ہو ۔ اِس سوال پر مجھے مرحوم منیر نیازی کا خیال آتا ہے ، جن سے میرے دوست اور نامور ریڈیو ٹی وی پرو ڈیوسر عارف وقار نے بالکل آخری دنوں میں قدرے اونچی آواز میں پوچھا تھا ’’ڈاکٹروں نے تو اب پینے پلانے سے منع کر دیا ہو گا‘‘۔ ’’کر دیا ہے‘‘ ، نیازی صاحب نے مخصوص دھیمے لہجے میں کہا ۔

’’پھر تو آپ بہت تنگ ہوتے ہوں گے ۔‘‘ ’’ہوتا ہوں.‘‘ ’’تو نیازی صاحب ، اس صورت میں کیا کرتے ہیں؟‘‘ ’’پی لیتا ہوں۔‘‘ میرے پاس منیر نیازی کا سا ٹھہراؤ ہوتا تو آپ کے امکانی سوال کے جواب میں پوری متانت سے کہتا ’’ہاں ، زیرِ تعلیم رہا ہوں۔‘‘

یہاں یہ راز افشا کر دینے میں کوئی حرج نہیں کہ میرے ابا اپنی چار بہنوں کے اکیلے بھائی تھے، جبکہ دادا ، جن کی دو بہنیں بھی تھیں ‘ اس لحاظ سے تنہا سمجھے گئے کہ دادا کے واحد بڑے بھائی نے لالہ سائیں کے ’قلمی نام‘ سے سنیاس لے لیا تھا ۔ میرا ارادہ لالہ جی کا نام لے کر اپنی روحانی پریکٹس چمکانے کا ہر گز نہیں ، صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میری پیدائش کے بعد پوری کوشش کی گئی کہ اُس وقت کی نو زائیدہ پاکستانی مملکت کی طرح مجھے بھی ’جدید تقاضوں اور ملی ضروریات‘ سے پوری طرح ہم آہنگ کر دیا جائے ۔ اسی جدوجہد کی بدولت میں نے تیسری جماعت چوتھے اسکول میں جاکر پاس کی ، مگر یکے بعد دیگرے اِن اسکولوں میں ماحول ، نصاب ، طرزِ تدریس اور ذریعہء تعلیم کے ساتھ مجھے اچھا خاصا ’چڑی چھکا‘ کھیلنا پڑا ۔

سیالکوٹ کے اولین اسکول میں ، جسے اُس زمانے میں لوگوں نے سٹی میموریل کی بجائے یحیی شاہ کا اسکول ہی کہا ، مجھے آج کے گلی محلہ انگلش میڈیم ادارے کی جھلک دکھائی دیتی ہے ۔ شاہ صاحب نے ، جو بیک وقت کاروباری اور محبتی آدمی تھے ، اپنی فیس کھری کر کے میری انگریزی کتنی ’ہائی‘ کی ، مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ۔

اتنا یاد ہے کہ ایک دن ایک کمرے میں بڑی کلاس کی کچھ لڑکیاں مولانا ظفر علی خاں کی ’’وہ شمع اجالا جس نے کیا‘ ‘ والی نعت اپنے طور پر کو رَس کی شکل میں پڑھ رہی تھیں ، جو مجھے اچھی لگی ۔ اگلے برس سیالکوٹ کینٹ کے جونئیر پبلک سکول میں ایک اُور طرح کا ڈرامہ ہوا ، یعنی نتیجہ نکلنے پر پتا چلا کہ جس بچے کو بصد اہتمام دوسری جماعت میں داخل کرایا گیا تھا ، وہ سارا سال ایک کلاس پیچھے ’کے جی ٹو‘ میں پڑھتا رہا ہے ۔ لہذا اب اسے ترقی دے کر دوسری جماعت میں کیا گیا ہے ، تیسری میں نہیں ۔

آج یہ سخت حیرت کی بات سمجھی جائے گی ، مگر پچاس کی دہائی میں میرے داخلے کے وقت ماں اور پھوپھی دونوں کو ’بے جی‘ کے معانی تو معلوم تھے ’کے جی‘ کا کچھ پتا نہیں تھا ۔ اصل میں ہمارے اُس دور کے اصلی انگلش میڈیم اسکول میں سابق نو آبادیاتی روایت کے تحت اردو تھی ہی نہیں یا کم از کم مجھے نہیں پڑھائی گئی ۔

بس ’’پَیٹ کین سِنگ ، مدر کین سِنگ‘‘ کے ساتھ ’’کھب صورت ، کھب صورت کر کے لکھنا ہے ‘ ‘ پر گزارا چل رہا تھا ۔ مجھے داخل کرانے والی پھو پھو ، جنہوں نے تدریسی تربیت جموں میں حاصل کی ، خود ایک ہائی اسکول میں پڑھاتی تھیں ۔ البتہ کڑے تعلیمی معیار کا حامل یہ ایک روایتی گرلز اسکول تھا جہاں انگریزی چھٹی جماعت سے شروع ہوتی اور استانی کو ’آپا جی‘ اور ہیڈ مسٹریس کو ’بڑی آپا جی‘ کہہ کر بلایا جاتا ۔ اب اتنی اپنائیت اور ادب کی عادی ’آپا جی‘ کو میرے داخلے کے وقت بالکل پتا نہیں تھا کہ کنڈر گارٹن تعلیم میں جماعت شماری کا ’اعشاری نظام‘ ذرا مختلف ہے اور وہاں ’کے جی ٹو‘ کا مطلب دوسری جماعت نہیں ہوتا ۔

میرے گھر والوں نے اپنی غلطی تو تسلیم نہ کی ، بس خفت مٹانے کے لئے میونسپل بورڈ ، سیالکوٹ کا ایسا اسکول تلاش کر لیا جہاں مجھے تین ماہ بعد تیسری جماعت میں ’چڑھا‘ دینے کا وعدہ کر لیا گیا تھا ۔ ان دنوں اپنے ’کیس‘ کو مضبوط بنانے کے لئے والدین نے دو قومی نظریہ کا سہارا بھی لیا تھا کہ بچے کے لئے اردو پڑھنا اور لکھنا از حد ضروری ہے ۔

بہر حال ، ایم ۔ بی ۔ پرائمری سکول ، اڈہ پسروریاں کے نام سے یہ ایک اور دنیا تھی ۔ مسز میسی کی جگہ آزادی کے وقت پاکستان میں رہ جانے والے ایک ہندو استاد ، ماسٹر وزیر چند ، کرسی اور ڈیسک کی جگہ گرد آلود ٹاٹ ، کاپی پنسل کو چھوڑ کر سلیٹ سلیٹی ، تختی لکھنے کے لئے دھات یا مٹی کی دوات اور بعض حالتوں میں پونڈز کریم کی ’متروکہ‘ شیشی ۔

ہمارا یہ اسکول ، جس میں پہلی بار اردو حروفِ تہجی اور عربی ہندسوں کی صحیح پہچان ہوئی ، دو ملحقہ احاطوں پر مشتمل تھا ، جنہیں الگ الگ آہنی اور چو بی پھاٹکوں کی وجہ سے لوہے والا اور لکڑ والا اسکول کہتے ۔ یہاں انگریزی کا نام و نشان نہیں تھا، بلکہ صبح اسکول لگتے ہی پہلے حساب کے سوال ہوتے ۔ پھر املا اور اردو کی کتاب ، جس میں ’ہمارے پیارے نبی ؐ ‘ ، ’حضرت عمرؓ اور بڑھیا‘ ، ’چڑیا اور جگنو‘ ، ’بہادر لڑکا‘ اور ’سلمی کی گڑیا نے خوب مزا دیا ۔ آگے چل کر ’گیت اسی کی حمد کے گائیں ‘ ، ’چاند سہانی رات میں نکلا ‘ ، ’وہ دیکھو ہوائی جہاز آ رہا ہے‘ ۔

جس چیز نے طبیعت کا ترنم سیٹ کیا وہ آدھی چھٹی کے بعد شمشاد بیگم اور سَکھیوں کے انداز میں لہک لہک کر پہاڑے گانے کا پُر جوش عمل تھا ۔ کسی کسی دن اِس میں باقاعدہ سُر تال کے ساتھ ضلعی جغرافیہ کے مشہور مقامات ، ندی نالے اور ریل کے رابطے بھی شامل ہو جاتے ۔ ۔ ۔ ’’سیالکوٹ سے وزیر آباد ، سیالکوٹ سے نارووال ، سیالکوٹ سے جموں ‘‘ ۔

لوہے والے اسکول میں ایک سال گزرا ہو گا کہ والد کا تبادلہ واہ ہو گیا جہاں کنٹونمنٹ ماڈل پرائمری اسکول میں بھولی بسری ’’اے ، بی ، سی پھر سے یاد کرنے کی مشق شروع ہوئی‘‘ ۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ اِس کے ساتھ اردو بھلا دینے کی شرط عائد نہ کی گئی ۔

بعد میں ’دانش ‘ اسکولوں سمیت کئی تعلیمی اداروں سے پالا پڑا ۔ پر آج تک بازار میں کسی ایک آئیٹم کی قیمت پوچھ کر آدھی یا پوری درجن کا حساب لگانے لگتا ہوں تو ذہن میں ’بارہ چھِیک بہتر ، تیرہ چھیکے اٹھہتر ، سولہو بارھیا ایک سو بانوے ‘ کا ترنم مادری زبان کا نغمہ بن کر گونجنے لگتے ہیں ۔

پس منظر میں اسکول کے دروازے پر تازہ گنڈیری کٹنے کی مہک ، نِکے فالودے والے کے باہر چھڑکاؤ کے قطرے ،حسن دین کا تر تراتا ہوا حلوہ پوری اور بنٹے والی بوتلوں کی ’چزززز ٹھک‘ ۔ میرا بس چلے تو سارے پاکستان میں اپنے ’لوہے والے‘ اسکول جیسے پرائمری اور ہائی اسکولوں کا جال پھیلا دوں اور وہ ادارے بند کر دیے جائیں جہاں مہنگے داموں ٹیڑھی میڑھی ’چغتائی آرٹ‘ مخلوق پیدا ہو رہی ہے ۔

مزید : رائے /کالم