تعلیم اور تبدیلی کے تقاضے

تعلیم اور تبدیلی کے تقاضے
تعلیم اور تبدیلی کے تقاضے

  

تعلیم کا محکمہ بڑا حساس محکمہ ہے۔ پوری قوم کے مستقل کی تعمیر نو اسی شعبے کی ذمہ داری ہے۔ مرکز میں تعلیم کی وزارت ایک سابقہ بیوروکریٹ شفقت محمود صاحب کو دی گئی ہے۔ بھلے آدمی ہیں۔ مگر چال ڈھال سے کچھوے کو عزیز تر جانتے لگتے ہیں۔ پھرتی ان کے مزاج میں نہیں ۔ تعلیم کا محکمہ بڑی تیزی سے ریفارمز کا متقاضی ہے۔ اگر تعلیم ٹھیک ہو جائے تو لوگوں کے مزاج، اندازاور فکر سب ٹھیک ہو جائیں گے۔تعلیم کی اصلاح کا نظام بڑا مربوط ہونا چاہیے۔

سب سے پہلے اس نظام کی موجودہ حالات کے تناظر میں ضروریات کو جاننا ضروری ہے ۔ہم نے تعلیم کے ضرورت سے زیادہ بٹوارے کر دیے ہیں ۔ ابتدائی تعلیم۔ مڈل ، ہائی، ہائر سیکنڈری، اور پھر ہائر ایجوکیشن، فنی تعلیم اور پھرتعلیم بالغاں ۔

ان سب کا نظام چلانے کے لئے الگ الگ محکمے، حتیٰ کہ وزیر اور سیکرٹری بھی الگ کر دئیے ہیں۔ ان محکموں میں آپس میں جو ربط ضروری ہے وہ بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ مختلف مافیاز اپنے اپنے دلچسپی کے شعبوں پر قابض ہیں اور اپنے شعبے کی اہمیت کو اس انداز سے اجاگر کرتے ہیں کہ وزرا اور سیاستدان ان کی دلفریب جال سے باہر نکل ہی نہیں سکتے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن پی ایچ ڈی مافیہ کا ترجمان ہے۔ اس کمیشن کے باوا آدم جناب ڈاکٹر عطاالرحمان نے اپنی فنکاری اور خوبصورت گفتگوکے زور پر ایجوکیشن فنڈ کا بڑا حصہ سمیت لیا یہ کہہ کر کہ ریسرچ کے لئے فنڈز درکار ہیں۔ یقیناً درکار ہیں مگر جو فنڈ لئے ان سے کیا ریسرچ ہوئی کوئی نہیں جانتا۔البتہ اس فنڈ کی مدد سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ بعض اشخاص تو کانفرنسوں میں شرکت کے نام پر پیسے بٹورنے کے چکر میں ہی رہے۔

ڈاکٹر عطاالرحمان پہلے مائیکرو ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی بات کرتے رہے پھر نانو ٹیکنالوجی میں مہارت کی نوید دی لیکن عملی طور پر پاکستان میں نہ تو مائیکرو ہے اور نانو تو ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ البتہ ریسرچ کے نام پر بہت سی یونیورسٹیوں میں اپنی پسند کے ریسرچرز کو بڑی بڑی مشینیں خریدنے کے لئے فنڈ مہیا کئے گئے ۔

ہر مشین کے ساتھ جو لٹریچر آیا اس کی مدد سے ایک شاندار مقالہ لکھا گیا۔ مشین چلانے کے لئے مہارت اور ماہرشخص نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔ایسی بہت سی انتہائی قیمتی مشینیں آج زنگ آلود نیلام ہونے کی منتظر ہیں۔ اب ایسے اشخاص کی ضرورت ہے جو یہ سب راز دروں جانتے ہوں۔

جن کو کوئی فنکار اپنی چرب زبانی اور داؤ پیچ سے مرعوب نہ کر سکے۔ یونیورسٹیوں میں ریسرچ کے نام پر پرانے تجر بہ کار اساتذہ کو نا پید کر دیا گیا۔ دوسرا ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سرکاری یونیورسٹیوں میں غیر ضروری مداخلت اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو غیر ضروری چھوٹ بھی پوری طرح سمجھنے اور ان معاملات کو صحیح خطوط پر لانے کی ضرورت ہے۔ ہائر ایجو کیشن کمیشن نے جو فنڈ دیے ان کا حساب بھی لیا جائے۔

تعلیم بالغاں اور ابتدائی تعلیم پر دوست ممالک ہمارے انتہائی معاون اور مدد گار ہیں۔ وہاں فنڈز کے صحیح استعمال کا یقینی بنانا حکومت کا کام ہے۔ فنی تعلیم اور کمرشل تعلیم پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ لوگوں میں اس تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا بھی حکومت کا بنیادی نصب العین ہونا چاہیے۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے جس انداز میں عوام کو لوٹ رہے ہیں اس کو سدباب بہت ضروری ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اس معاملے میں مکمل ناکام ہے۔ اول تو حکومت کے ہوتے کسی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر بنانا بھی ہے تو ایک ایجو کیشن کمیشن بنایا جائے جو تعلیم کے ہر شعبے کے لئے اپنی سفارشات دے۔تاکہ بنیاد سے لے اوپر تک ہر جگہ تعلیم کی بالادستی نظر آئے۔

تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لئے ماضی میں جب بھی کوئی کمیٹی یا کمیشن بنایا جاتا رہاہے اس میں کلاس روم ٹیچر کو کبھی نمائندگی نہیں ملی۔ سکول ، کالج، یونیورسٹی اور ٹیچر کی بہتری کے حوالے سے ماہر تعلیم بن کر کمیٹیوں اور کمیشنوں میں سجے سجائے وہ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جنہوں نے شاید اپنی سروس کے ابتدائی چند ماہ تدریس کی کوشش کی ہوتی ہے اور ناکامی سے گھبرا کر یا افسری کے شوق میں کسی دفتر کا رخ کیا اور پھر کبھی پلٹ کرکسی تعلیمی ادارے کو نہیں دیکھا یا ممبران بیوروکریسی کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوتے ہیں۔

ان لوگوں کو زمینی حقائق کا پتہ ہی نہیں ، وہ خاک اصلاح کر پائیں گے۔ایجوکیشن سے ایسے عہدوں پرجانے والے لوگ تو عموماً اصلی بیورو کریٹ سے بھی بدتر رویہ اپناتے ہیں اورسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں موجود اپنے ساتھیوں حتیٰ کہ سینئرز سے بھی اچھا رویہ نہیں رکھتے۔ لیکن اہل اقتدار سے اس طرح بچھ بچھ کر ملتے ہیں کہ لگتا ہے کہ ان سے بہتر کوئی نہیں اور اہل اقتدار بھی بس ایسے ہی ہیں کہ ان کے دام فریب میں آسانی سے آ جاتے ہیں۔ اس لئے میری گذارش ہے کہ ہر جگہ کلاس روم ٹیچر کی نمائندگی ہی ان تمام مسائل کے حل کی بنیادی چابی ہے جو حکومت کو ایک بڑی بنیادی تبدیلی کے لئے درکار ہیں۔

ابتدائی کلاسوں کے سلیبس کو مختصر اورہماری اسلامی، اخلاقی اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق مرتب کرنا بہت ضروری ہے۔ ابتدائی کلاسوں کے اساتذہ کو ایسی تربیت بھی دی جائے کہ وہ بچے کے رحجان کو سمجھ کر اس کے مطابق اسے اگلی کلاسوں کے لئے تیار کر سکیں۔

مسائل انتہائی زیادہ ہیں اور ان کے لئے خاصی لمبی بحث درکار ہے۔یہ مسائل انتہائی وسیع اور گھمبیر ہیں لیکن سب سے پہلے حکومت کو ایسے اشخاص تلاش کرنا ہونگے جو واقعی تعلیم کو موجودہ حالات کے تناظر میں سمجھتے، تبدیلی کے تقاضوں کو جانتے اور صحیح معنوں میں درد دل سے کام کرنا جانتے ہوں۔فنکار مافیاز کی رٹی رٹائی باتوں پر عمل درآمد سے کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ امید ہے حکومت تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دے گی اور تمام فریقوں خصوصاً کلاس روم ٹیچرز کو سننے کے بعد بہتر اور اچھے فیصلے کرے گی۔

مزید : رائے /کالم