ایک اور یو ٹرن لے لیں، بہتری کے لئے!

ایک اور یو ٹرن لے لیں، بہتری کے لئے!
ایک اور یو ٹرن لے لیں، بہتری کے لئے!

  

قارئین اُلجھیں نہ، خود محترم کپتان صاحب نے اچھے لیڈر کی نشانی یہ بتائی تھی اور ہم بھی اِس کالم میں ان کو ایسا ہی مشورہ دینے والے ہیں، جو خفت نہیں، بہتری کا نشان بنے گا۔ بہرحال یہ ہماری نظر میں ہے اور اس کے لئے استدلال بھی، تاہم وزیراعظم اور ان کے پیاروں کو یہ پسند آتا ہے یا نہیں،اِس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال ہم تو زنجیر ہلائے دیتے ہیں، اب عدل (انصاف) خود ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

حکومت سنبھالنے سے پہلے کپتان نے نعرہ مستانہ بلند کیا۔ایوانِ صدر، ایوانِ وزیراعظم اور گورنر ہاؤسز سمیت ایسی سرکاری عمارتوں کو غلامی کی یاد گار قرار دے کر ان کو تبدیل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا،اِس سلسلے میں لاہور کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس کو بھی ریسرچ سنٹر میں تبدیل کر دینے کا دعویٰ کیا،اس مہمان خانے کی تبدیلی کے لئے کمیٹی (ٹاسک فورس) بھی بن گئی، جس نے اس مقام کا تفصیلی معائنہ بھی کیا،اس کے بعد اس تبدیلی کے لئے کاغذی کارروائی شروع ہوئی۔اب معلوم ہوا ہے کہ اس تبدیلی کو موخر کر دیا گیا ہے۔

ایوانِ وزیراعظم کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا یقین دلایا گیا تھا تو وہاں ایک تقریب منعقد کر کے اسے تحقیقی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا،ایک روز لاہور تشریف لائے تو ہدایت کر دی کہ72گھنٹوں کے اندر گورنر ہاؤس کی دیواریں مسمار کر دی جائیں، متعلقہ محکمے والے اتنے سمارٹ اور چست ثابت ہوئے کہ72گھنٹوں کا انتظار کئے بغیر ہی کدالیں لے کر پہنچ گئے اور دیواریں مسمار کرنا شروع کر دیں، بھلا ہو، ہمارے ایڈووکیٹ بھائی کا کہ تیزی سے درخواست مکمل کی اور فریاد لے کر ہائی کورٹ پہنچ گئے کہ ایک تاریخی عمارت کو کسی ضابطے اور قانون کے بغیر ہی مسمار کیا جا رہا ہے۔عدالتِ عالیہ نے حکم امتناعی جاری کیا اور مسماری کا یہ عمل رُک گیا۔ گری ہوئی دیوار کی جگہ شامیانے لگا کر بند کی گئی اور پہرہ بڑھایا گیا۔

اِس سلسلے میں سول سوسائٹی نے احتجاج کیا اور بتایا تھا کہ تاریخ سے لاعلم ہونا بھی اچھی بات نہیں،کیونکہ ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیراعظم شاندار تو ہیں،لیکن غلامی کی یاد گار نہیں۔یہ تو جنرل ایوب کے اس نقشے کے مطابق ہیں، جو اسلام آباد کو دارالحکومت بناتے وقت بنایا گیا تھا، اس کے مطابق ایوانِ صدر، ایوان وزیراعظم،پارلیمینٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، وزیراعظم سیکرٹریٹ اور دفتر خارجہ اور وفاقی سیکرٹریٹ ایک کمپلیکس کی صورت میں ایک دوسرے سے ملحق ہیں، اور ان کی تعمیر ایوبی دور میں ہی شروع ہو گئی تھی۔

ایک زمانہ تھا جب کمپلیکس کی تعمیر جاری تھی اور پارلیمینٹ ہاؤس تعمیر نہیں ہوا تھا، تو قومی اسمبلی کا اجلاس سٹیٹ بینک کی بلڈنگ کے آڈیٹوریم میں ہوا کرتا تھا۔ بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں یہاں اجلاس ہوتے رہے،تب ایوانِ وزیراعظم راولپنڈی میں تھا،سپریم کورٹ بلڈنگ بھی راولپنڈی میں تھی، صدر بھی راولپنڈی ہی میں رہتے تھے، جیسے جیسے تعمیر مکمل ہوتی گئی ویسے ویسے ان عمارتوں کا استعمال اسی طرح ہونے لگا، جس کے لئے ان کو بنایا گیا تھا۔

رہ گئی بات گورنر ہاؤسوں کی تو یہ انگریزی دور میں تعمیر ہوئے اور بعد میں آنے والی حکومتیں بھی ان کو اسی طرح استعمال کرتی رہیں، جہاں تک لاہور کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس کا تعلق ہے تو یہ بھی بعد میں تبدیل ہو کر مہمان خانہ بنا تھا کہ جو غیر ملکی معززین تشریف لائیں اور لاہور میں ان کا قیام ہو تو ان کو یہاں ٹھہرایا جا سکے،پہلے یہ سول سروس اکیڈمی تھی جو اب بھی ایک ملحقہ حصے میں ہے، مجموعی طور پر یہ سب بیرونی ممالک سے آنے والے سرکاری مہمانوں کی دیکھ بھال اور ان کی عزت افزائی کے مراکز بن گئے۔

ایوانِ وزیراعظم اور ایوانِ صدر میں دفاتر، کانفرنس روم اور رہائش ایک عمارت کی صورت میں ہیں،باقی حصہ ملازمین کی رہائش کے علاوہ وسیع سبزہ زاروں اور میٹنگز ہالوں پر مشتمل ہے۔ یہاں سرکاری اجلاس ہوتے ہیں، اور بیرون مُلک سے آنے والے مہمانانِ خصوصی کو بھی یہیں خوش آمدید کہا جاتا تھا۔

یوں بنیادی طور پر یہ مُلک کی عظمت یا آن بان کا سلسلہ بن گئے تھے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کے اس کمپلیکس کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ حفاظتی نظام کے مطابق بھی مخصوص علاقہ ہے، یونیورسٹی بنا دینے سے سیکیورٹی متاثر ہونا لازم ہے۔جہاں تک گورنر ہاؤسوں کا تعلق ہے تو ان کے رقبے یقیناًبڑے ہیں، تاہم یہ بھی مُلک کی عزت کا نشان بن جاتے ہیں، جب یہاں معزز مہمان تشریف لاتے ہیں۔

یہ گذارشات اِس لئے پیش کیں کہ اب تو خود کپتان کو بھی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ تعمیر ہو کر فنکشنل ہو جانے والی ان عمارتوں یا پہلے سے موجود ایسی عمارتوں کے فوائد کیا ہیں کہ جب امارات کے ولی عہد تشریف لائے تو ان کو گارڈ آف آنر ایوانِ وزیراعظم ہی میں دیا گیا اور مذاکرات بھی یہیں ہوئے۔

معزز مہمانوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی،اِس لئے بہتر یہی ہے کہ جو ہو چکا اُسے ہوا رہنے دیں۔ البتہ ان کے اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لئے اصلاحات بھی کریں اور ان کے استعمال کے لئے بھی مفید تجاویز پر غور کریں، ہم تو کہتے ہیں کہ گورنر ہاؤسوں کا استعمال بہتر بنائیں، جو سرکاری تقریبات بڑے ہوٹلوں میں ہوتی ہیں، ان کو یہاں منعقد کرا کے بچت کریں اور جگہ کی قلت بھی ختم ہو جاتی ہے،لہٰذا ہم تو یہی مشورہ دیتے ہیں کہ اِس سلسلے میں یو ٹرن لے لیں، ایسا ہوا تو یہ قومی مفاد میں ہو گا۔

مزید : رائے /کالم