وزیراعظم کا عوام کی نبض پر ہاتھ نہیں!

وزیراعظم کا عوام کی نبض پر ہاتھ نہیں!
وزیراعظم کا عوام کی نبض پر ہاتھ نہیں!

  

میرا گمان تھا کہ جب کپتان کی حکومت آئے گی تو اُس کا عوام کی نبض پر ہاتھ رہے گا۔وہ عوام کو مرنے نہیں دے گی اور نہ ہی ایسے فیصلے کرے گی، جو عوام کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث بنیں، مگر لگتا ہے کہ یہ صرف ایک خوش گمانی تھی، حکومت مہنگائی پر مہنگائی کئے چلی جا رہی ہے اور اُسے اتنا ہوش بھی نہیں کہ عوام کی قوتِ خرید بھی ایک حد تک بوجھ برداشت کر سکتی ہے،اس کے بعد تو اُس نے ٹوٹ کر گرنا ہی ہے۔ ایسی کون سی قیامت آ گئی تھی کہ ادویات کی قیمتوں میں9سے15فیصد اضافہ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

اگر عوام مسائل کا شکار ہیں تو ادویہ ساز ادارے بھی کچھ عرصہ اپنا منافع کم رکھتے، وہ تو صبر نہیں کر سکے، اب عوام کیسے صبر کریں، جو سفید پوش تھے، اُن کی آمدنی بھی پہلے سے کم ہو گئی،اُس کے مقابلے میں مہنگائی سو گنا بڑھ گئی ہے۔ آخر حکومت ہے کہاں،کنٹرول کیا کر رہی ہے، مینجمنٹ کی اتنی بُری حالت کیوں ہے، کون ہے جو اِن سوالوں کے جواب دے؟

ادویات کی قیمتیں بڑھانے کے لئے بہت پرانا حربہ آزمایا گیا ہے، پہلے ادویہ ساز کمپنیوں نے ایک منصوبے کے ساتھ ادویات کی سپلائی کم کی، بازاروں سے ادویات غائب کرا دیں، شور مچا تو محکمہ صحت والے چیخے، وزارتِ صحت کو ہوش آیا، بجائے اس کا سخت نوٹس لینے کے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، ادویہ ساز کمپنیوں کے سامنے چاروں شانے چت ہو گئی،اُن کے مطالبے پر قیمتیں بڑھانے کی منظوری دے دی،اس بات کا جائزہ لیا نہ فرانزک آڈٹ کرایا کہ کمپنیاں جو ادویات بنا رہی ہیں،اُن پر لاگت کیا آتی ہے اور وہ بیچ کتنے کی رہی ہیں۔

یہ الزام تو کئی دہائیوں سے وزارتِ صحت پر لگ رہا ہے کہ وہاں بھاری کمیشن اور رشوت دے کر ادویات کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں، صرف ایک بار ایسا ہوا کہ بڑھی ہوئی قیمتوں کو وزیر صحت کے حکم سے واپس لیا گیا اور یہ وزیر صحت جاوید ہاشمی تھے۔

امید تھی کہ عمران خان اقتدار میں آئیں گے تو اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ ملٹی نیشنل ادویات ساز کمپنیاں بھارت میں اپنی ادویات کس بھاؤ بیچ رہی ہیں اور پاکستان میں اُن کی کیا قیمت وصول کر رہی ہیں؟ سروے کے مطابق جو گولی بھارت میں ایک روپے کی ہے، وہ پاکستان میں 10روپے کی دی جا رہی ہے، دیگر ادویات کی قیمتوں کا تناسب بھی یہی ہے۔کیا وجہ ہے کہ پاکستان ہر نوع کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جنت بنا ہوا ہے۔

پچھلے دِنوں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے بارے میں بھی یہی حقائق سامنے آئے کہ اُن سے کئے جانے والے معاہدے ابھی تک برقرار ہیں اور انہیں اربوں روپے بغیر بجلی خریدے ادا کئے جا رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے تمام معاہدے دُنیا میں ختم ہو چکے ہیں،مگر ہمارے ہاں جاری ہیں، یہ کون سا مافیا ہے، جو ایسی غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان کے عوام پر ظلم ڈھانے کی اجازت دیتا ہے؟

پاکستان میں صحت کی سہولتوں کا جو حال ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، سرکاری ہسپتالوں اور رورل ہیلتھ سنٹروں میں مریضوں کو ادویات باہر سے لانا پڑتی ہیں، ہر بڑے سرکاری ہسپتال کے باہر بیسیوں میڈیکل سٹورز کھلے نظر آتے ہیں اور اُن پر ہر وقت رش لگا رہتا ہے،جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہسپتال میں داخل مریضوں کے لئے لواحقین ادویات باہر سے لانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ایک عام ڈاکٹر بھی کھانسی بخار کی دوائیاں لکھتا ہے تو بل تین چار سو روپے بن جاتا ہے، ایسے میں ادویات کی قیمتیں15فیصد تک بڑھا دینا ایک بہت بڑا ظلم ہے۔

یہ اضافہ پانچ فیصد تک بھی رکھا جا سکتا تھا۔ ڈالر مہنگا ہونے کا بہانہ کر کے سو روپے کی دوائی کو ایک سو پندرہ روپے میں بیچنے والے کیا عوام کو بتائیں گے کہ جو سالٹ وہ ٹنوں کے حساب سے منگواتے ہیں، وہ ایک چھوٹی سی بوتل یا گولی میں کتنا پڑتا ہے؟ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات بھی اُس معیار کی نہیں،جو خطے کے دیگر ممالک بھارت، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ایران میںیہ کمپنیاں اپنے صارفین کو دے رہی ہیں۔

مارکیٹ میں بھارت اور ایران سے سمگل ہو کر آئی ہوئی انہی معروف کمپنیوں کی ادویات بآسانی دستیاب ہیں،جن کی قیمت بھی کم ہوتی ہے اور معیار بھی اچھا ہوتا ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس سارے نظام کو چلانے والے جو لوگ ہیں، وہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے قوم کے سرمائے کا ہی نہیں،بلکہ صحت کا بھی سودا کر لیتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں کا دورہ کیا، بدانتظامی پر ناپسندیدگی بھی ظاہر کی، مگر شاید اُن کے علم میں ہو گا کہ یہ کام شہباز شریف بھی اکثر کیا کرتے تھے۔

یہ سب کچھ صرف خانہ پُری کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان بہت بڑا اور دور تک پھیلا ہوا مُلک ہے، بڑے شہروں میں رہنے والے تو پھر بھی مختلف معیار کے علاج سے اپنے وسائل کے مطابق مستفید ہو سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ اُن چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے کروڑوں پاکستانیوں کا ہے،جن کے پاس آج روٹی کھانے کے بھی پیسے نہیں، انہیں بیماری گھیر لے تو علاج کے لئے گھر کا سامان تک بیچنا پڑ جاتا ہے۔انہیں اگر بلاواسطہ طور پر کوئی ریلیف نہیں دیا جا سکتا تو کم از کم ادویات کی قیمتیں نہ بڑھا کر مزید بوجھ سے تو بچایا جا سکتا تھا۔

اب تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیں،کیونکہ اُن کی تو الوداعی دعوتیں شروع ہو چکی ہیں اور چند روز بعد اُنہیں چلے جانا ہے۔ جس طرح سکولوں کی فیسیں ایک خفیہ معاملہ ہے، اسی طرح ادویات بنانے والی کمپنیوں کے معاملات بہت حد تک خفیہ ہیں۔آج تک کسی ا تھارٹی نے یہ جائزہ نہیں لیا کہ کس دوائی کی تیاری پر کتنی لاگت آتی ہے اور اس کی قیمت کیا ہونی چاہئے؟کمپنیاں جو چاہتی ہیں، وہ قیمت لکھ کر حکومت سے منظور کرا لیتی ہیں۔ معاملہ دوائی کے اجراء کا نہیں، برانڈ فیم کا ہے۔ پاکستان میں اسی سالٹ سے تیار ہونے والی میڈیسن اگر سو روپے کی ہے تو ملٹی نیشنل کمپنیاں پانچ سو روپے کی بیچ رہی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو قائم کرنے کا مقصد بھی غالباً یہی تھا کہ وہ اس سارے معاملے پر نظر رکھے اور قیمتوں کو عوام کی قوتِ خرید سے باہر نہ جانے دے،مگر پاکستان میں تو سب چلتا ہے۔

چوکیدار چوروں سے مل جاتا ہے اور دونوں کا ہدف بے چارے عوام ہوتے ہیں۔ ذرا انداز کیجئے جہاں ادویہ ساز کمپنیاں ایک ڈاکٹر کو صرف دوائی لکھنے پر30لاکھ کی گاڑی تحفہ میں دیتی اور دُنیا کی سیر کا ٹکٹ بھی فراہم کرنے کو تیار ہو جا تی ہیں، وہاں منافع کس قدر زیادہ ہو گا۔ نجانے یہ شعبہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی آنکھوں سے اُوجھل کیسے رہ گیا۔

وہ منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں کے منافع سے حیرت زدہ تھے، تاہم اگر وہ ادویہ ساز کمپنیوں کے منافع کا ایف آئی اے کے ذریعے فرانزک آڈٹ کروا کر جائزہ لیتے تو اُن سمیت پوری قوم کو اندازہ ہوتا کہ اس شعبے میں عوام کے دُکھوں کی کتنی بھاری قیمت وصول کی جا رہی ہے۔ آج پورا مُلک ادویات کی قیمتوں میں اتنے بڑے اضافے پر سراپا احتجاج ہے، حتیٰ کہ ڈاکٹروں نے بھی اسے غیر منصفانہ اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔

کپتان صاحب آخر کب تک عوام سے اپنی محبت کا خراج وصول کرتے رہیں گے۔ کیا اُنہیں اندازہ نہیں کہ پچھلے پانچ ماہ میں عوام کو مہنگائی کے سوا کچھ ملا ہی نہیں، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جنہوں نے ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کی، اُن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جاتا، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی انہیں قانون کے شکنجے میں لاتی،مگر اس کے برعکس چپ چاپ اُن کے مطالبے کو مان کر قیمیں بڑھا دی گئیں۔

عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر فیصلہ کابینہ میں زیر بحث لا کر کرتے ہیں،پھر یہ قیمتیں بڑھانے والا معاملہ کابینہ میں کیوں نہیں لایا گیا اور یوں ڈریپ نے اپنے طور پر اس کی منظوری دے دی۔

اپوزیشن کو اگر منی لانڈرنگ کیس، ای سی ایل اور احتساب کے مسائل سے تھوڑی سی فرصت ملے تو اس مسئلے پر بھی توجہ دے اور عوام کے حق میں آواز اٹھائے۔ خود وزیراعظم عمران خان کو بھی اس اضافے کے مضمرات کا جائزہ لینے کے لئے فوری ایکشن لینا چاہئے،کیونکہ ایسے فیصلے اُن کے امیج کو بُری طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم