عوام کو معیاری ٹرانسپورٹ کب میسر آئے گی

عوام کو معیاری ٹرانسپورٹ کب میسر آئے گی

مکرمی! لیجئے ملک میں مدینہ جیسی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرنے والی پی ٹی آئی حکومت نے نارنگ تا لاہور ،لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے تحت چلنے والی بس سروس بند کر دی ہے اسی طرح لاہور سے شیخوپورہ بس سروس میں بسوں کی تعداد انتہائی کم کر دی ہے ۔ نارنگ تا لاہور B.30 بس سروس سے خواتین، طلبا، طالبات، مزدور، ملازمت پیشہ افراد سفر کی سہولت سے مستفید ہوتے تھے اور یہ روٹ کمپنی کے لیے منافع بخش بھی تھا لیکن اچانک بس سروس کو اس روٹ پر بند کر دینا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ زنی کے مترادف ہے ۔عام مسافروں سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے طبقات مقررہ وقت پر اپنے تعلیمی اداروں ،دفاتر ،مارکیٹوں میں پہنچتے تھے اور اپنے کاروبار زندگی کو احسن طریقے سے انجام دے کر واپس منزل مقصود پر پہنچتے تھے۔ حکومت پنجاب نے پنجاب میٹرو بس سروس لاہور،ملتان،راولپنڈی میں سبسڈی دینے کے عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے یہ خوش آئند اقدام ہے عوام کو سفر کی بہتر معیاری اور سستی ٹرانسپورٹ فراہم کر کے اگر8 ارب روپے کی سالانہ سبسڈی پنجاب میٹرو بس اتھارٹی کو دینی ہے تو یہ گھاٹے کا نہیں عوام کے دل جیت لینے کا عمل ہے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سبسڈی دینے کے عمل کو خسارہ نہیں کہا جا سکتا بہر حال ہم اسے دیر آ یددرست آید کہتے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ کہ ڈیرہ غازی خان تونسہ میں بھی سپیڈو بس سروس کا اجرا کیا جائے گا بالکل کریں جنوبی پنجاب کے عوام کا بھی حق ہے کہ ان کو بھی آرام دہ ،معیاری ،سستے سفر کی سہولت ملے لیکن ہماری ان سے گزارش ہے کہ وہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں میٹرو بس سروس ،سپیڈو بس سروس ،لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی اور نجی ٹرانسپورٹ سروس میں عوام الناس کو معیاری ،محفوظ ،سستے سفر کی سہولیات سمیت سپیڈو بس سروس ،میٹر وبس سروس میں سابقہ حکومت کے اقدام سے ایک قدم آگے بڑھا کر معذور اور بزرگ شہریوں کے لیے مفت سفر کی سہولت کے اجرا کافیصلہ صادر فرمائیں۔ سینیٹر صوبائی وزیر عبد العلیم خان نے کہا ہے اورنج لائن ٹرین منصوبہ جون یا جولائی میں مکمل ہو جائے گا منصوبہ ختم نہیں کر رہے کیونکہ اس پر عوام کے 300 ارب لگ گئے ہیں ۔سابق حکمرا ن توچلے گئے لیکن ہمیں قرضے کے بوجھ تلے دبا گئے اورنج لائن ٹرین پرماہانہ 10 ارب سالانہ 120 ارب روپے سبسڈی دینے پڑیں گے اس حوالے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں ہم وزیر اعلیٰ پنجاب سے استدعاکرتے ہیں کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کا فوری سٹرکچر ترتیب دیں۔ میٹرو،اورنج پر سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی ،اس سے محروم کیوں۔(چودھری فرحان شوکت ہنجرا، لاہور)

مزید : رائے /اداریہ