ایف بی آر نصف سال کے ٹیکس اکٹھے کرنے کا ہدف پورا نہ کر سکا

ایف بی آر نصف سال کے ٹیکس اکٹھے کرنے کا ہدف پورا نہ کر سکا

اسلام آباد(آن لائن) جولائی سے دسمبر 2018 ء کے عرصہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) 172 ارب روپے سے محصولات کا ہدف پورا نہ کر سکا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی کے وعدے کے برعکس مالی سال کے پہلے نصف میں مجموعی براہ راست ٹیکس کا حصہ 37 فیصد تک نیچے آ گیا ہے ۔ ریونیو بیس کے لئے چیلنجز درپیش رہے ۔ نہ صرف یہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان مسلم لیگ(ن) کے دور کے بری روایت کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور ریفنڈز کو بلاک کر رکھا ہے ان اقدامات کے باعث مجموعی ریفنڈز روال مالی سال کے جولائی سے دسمبر عرصے کے دوران 400 ارب روپے سے بڑھ گئے ۔ جولائی سے دسمبر کے لئے ایف بی آر صرف 1.788 ٹریلین روپے وصول کر سکا ہے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1.72 کھرب روپے محصولات کے الٹ ہیں ۔یہ محصولات صرف 3.8 فیصد یا 66 ارب روپے سے بلند رہیں ۔ یہ نصف سال کے ہدف سے کم رہیں ۔

رواں مالی سال کے لئے سالانہ محصولات کا ہدف 4.398 کھرب روپے ہے ۔ واضح رہے کہہ پچھلی حکومت نے 350 ارب روپے سے زائد ٹیکس ریفنڈ چھوڑے ہیں جس میں 310 ارب روپے کے سیلز ٹیکس بھی شامل ہیں۔

اب یہ اعداد و شمار 400 ارب روپے تک پہنچ سکتے ہیں ۔ #/s#۔( جاوید)

مزید : کامرس