صوبائی دارالحکومت پشاور میں نشہ آورٹیکوں اور سیرپ کی فروخت کھلے عام جاری

صوبائی دارالحکومت پشاور میں نشہ آورٹیکوں اور سیرپ کی فروخت کھلے عام جاری

پشاور(سٹی رپورٹر)صوبائی دارالحکومت پشاور میں نشہ آور ٹیکوں اور سیرپ کی فروخت کھلے عام جاری ہے جس کے باعث نشے کے عادی افراد کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہونے لگا نشہ آور ادویات کے باعث۔ ، تفریحی مقامات سمیت مختلف علاقوں کے گلی محلے نشیں سے بھر گئے زرائع کے مطابق انتظامیہ کی لاپرواہی کیوجہ سے شہر بھر کے میڈیکل سٹوروں میں نشہ آور ٹیکے اور سیرپ دیدہ دلیری کے ساتھ فروخت کیا جانے لگا۔محکمہ صحت سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاروں نے چپ سادھ لی جس کے باعث منشیات فروشی کا دھندا بھی عروج پر پہنچ گیا ہے ، نشے میں ملوث افراد کی تعداد میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہو چکا ہے ،پڑھے لکھے خوبصورت نوجوان نشے کے ٹیکوں اورسیرپ سے نشے کا آغاز کرتے ہیں اور اسکے بعد منشیات فروشوں کے ساتھ روابط قائم کرکے نشے کے عادی ہونے کی وجہ سے زندہ لا شیں بن جاتے ہیں نشئی افراد محنت مزدوری کے بجائے نشہ پورا کرنے کیلئے کچرا جمع کر کے اس سے حاصل ہونے والی رقم سے منشیات اور نشہ آور ادویات خرید تے ہیں یا پھر چوریاں کرتے ہیں جس سے سٹریٹ کرائم میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے ، قانون نافذ کرنے والے ادارے نشہ آور ادویات فروخت کرنے والے بااثر میڈیکل سٹورمالکان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں،اسی وجہ سے ان میڈیکل سٹوروں پر کھلے عام نشہ آور ٹیکوں ،گولیوں اورسیرپ کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ میڈیکل سٹور مالکان پیسوں کے لالچ میں نشے کے عادی افراد کو موت بانٹ رہے ہیں۔زرائع کے مطابق بعض میڈیکل سٹورز پر ٹیکہ وغیر ہ لگوانے کی سہولت بھی میسر ہے، نشہ آور ٹیکوں کی بلا روک ٹوک فروخت کی وجہ سے نشے کے عادی افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہاہے شہر کی گلی محلوں کے علاوہ تفریحی مقامات ، بازاروں ،گلی محلوں میں نشے کے عادی افراد سرعام نشے کے ٹیکے لگاتے نظر آتے ہیں۔نشہ کرنے کی وجہ سے متعدد افراد ان ٹیکوں کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں اس کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے نشہ آور ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل سٹورمالکان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جارہی جو کہ ضلعی انتظامیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے جبکہ پولیس بھی ان سماج دشمن عناصر کیخلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ جس کی وجہ سے نئی نسل شدید خطرات میں گھر چکی ہے۔اس حوالے سے سماجی تنظیموں نے محکمہ صحت کے ارباب اختیار سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر