سرکاری پیسوں سے حج کرانا جائز نہیں، ڈاکٹر محمد حسین اکبر

سرکاری پیسوں سے حج کرانا جائز نہیں، ڈاکٹر محمد حسین اکبر

لاہور(پ ر)سرکاری خزانے سے پیسے لے کر یا دے کر فریضہ حج ادا کرانا جائز نہیں،حج صرف مستطیع مسلمان زن و مرد پر فرض ہے غیر مستطیع پر حج ہی فرض نہیں ،اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے سابق رکن ادارہ منہاج الحسین کے سربراہ متحدہ علماء بورڈ پنجاب اور پنجاب قرآن بورڈ کے رکن علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے اپنے فتویٰ میں فرمایا کہ فریضہ حج صرف مالی اور جسمانی طور پر ،ستطیع مسلمان زن و مرد پر فرض اور واجب ہے،غیر مستطیع کسی دوسرے فرد سے قرض لے کر تو فریضہ حج ادا کر سکتا ہے لیکن سرکاری خزانہ جو کہ پوری امت اسلامیہ پاکستان کی امانت ہے اس سے پیسے لے کر یا حکومت کا رقم دے کر لوگوں کو سستے حج کا لالچ دینا صرف جائز نہیں بلکہ ایسے افراد کا حج کا صحیح ہونا بھی باعث اشکال ہے ،سنا ہے کہ وزارت مذہبی امور حکومت پاکستان گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی سرکاری عازمین حج کوسرکاری خزانے سے ساٹھ سے ستر ہزار روپے فی حاجی کو سبسڈی دینے کا پروگرام بنا رہی ہے جو کہ نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر میں حجاج اکرام کی خدمات سر انجام دینے والی حج آرگنائزنگ کمپنیوں کے خلاف سازش ہے بلکہ اس کے جائز ہونے میں شرعی طور پر اشکال ہے جس کی پہلے سے مثال موجود ہے کہ سرکاری خرچے پر حج کے لیے جانے والے وزراء ا،این این اے ایم اپی اے اور اعلیٰ عہدیدار تمام سرکاری اداروں کے ذمہ داران کا سلسلہ عوامی دباؤ اور شرعی طور پر ناجائز ہونے کی وجہ سے حکومت نہ صرف بند کر چکی ہے بلکہ ایک عرصہ سے پابندی بھی عائد کر چکی ہے موجودہ وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور وزیر اعظم پاکستان کو خصوصی طور پر توجہ دیتے ہوئے ایسے اقدام کی اجازت نہیں دینی چاہیے،ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے معیشت زبوں حالی کی پہلے ہی شکار ہے حج کو سستا کرنے کے اور ذرایع موجود ہیں جن کو اگر حکومت استعمال کرے تو حج سستا ہو سکتا ہے حکومت کے اس اقدام کے خلاف دینی حلقوں میں نفرت اور تشویش پائی جا رہی ہے ایسے اقدام سے حکومت کو باز رہنا چاہیے۔

مزید : صفحہ آخر