کیا چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوسکتی ہے ؟

کیا چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوسکتی ہے ؟
کیا چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوسکتی ہے ؟

  

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

پیپلز پارٹی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے متحرک ہوگئی ہے اور اس مقصد کیلئے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی بہت سرگرم ہیںیہ وہی صادق سنجرانی ہیں جنہیں پیپلز پارٹی نے بڑے اہتمام کے ساتھ چیئرمین منتخب کرایا تھا اس وقت تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی دونوں ہی ایک صفحے پر تھیں کیونکہ ہدف یہ تھا کہ کسی صورت چیئرمین کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے نہیں ہونا چاہئے ان دنوں صادق سنجرانی کیلئے پیپلز پارٹی کی محبت کا پیمانہ اس حد تک چھلک رہا تھا کہ وہ کوئی دوسری تجویز سننے کیلئے ہی تیار نہیں تھی یہاں تک کہ مسلم لیگ (ن) نے پیش کش کی تھی اگر پیپلز پارٹی رضا ربانی کو چیئرمین کا امیدوار بنائے تو مسلم لیگ (ن) بھی ان کی حمایت کرے گی اگر یہ تجویز مان لی جاتی تو ایک اور ٹرم کیلئے رضا ربانی کو چیئرمین بنایا جاسکتا تھا لیکن وہ اتنے ناپسندیدہ تھے کہ پہلے تو انہیں سینیٹ کا ٹکٹ ہی ملنے کا امکان مخدوش تھا، کہا جاتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے سخت موقف اختیار کرکے رضا ربانی کو سینیٹر تو منتخب کرا دیا لیکن اس سے آگے ان کے بھی پر جلتے تھے چنانچہ اپوزیشن کا یقینی چیئرمین سینیٹ منتخب نہ کرایا جاسکا۔ معلوم نہیں اب صادق سنجرانی میں کیا خرابی پیدا ہوگئی ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ انہیں ہٹانے پر تل گئے ہیں۔ چیئرمین کے انتخاب سے پہلے بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کرنے کی راہ ہموار کی گئی۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف اس وقت تحریک عدم اعتماد لائی گئی جب وہ بیرون ملک تھے اور صورت حال سے بڑی حد تک بے خبر تھے، شروع میں ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے خلاف تحریک کو ناکام بنا دیں گے لیکن واپسی پر انہیں احساس ہوا کہ ان کے وہ دوست بھی ان کے خلاف ہوگئے ہیں جو ان کے بہت قریب تھے اس تحریک کے پس منظر میں بہت کچھ تھا گفتی بھی اور ناگفتی بھی زرداری صاحب بھی ’’دامے، درمے سخنے‘‘ اس تحریک کی حمایت کر رہے تھے یہاں تک کہ اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کوئٹہ گئے تو انہیں بھی اندازہ ہوگیا کہ اب حکومت بچانا مشکل ہے۔ غالباً اس کے بعد ہی نواب ثناء اللہ زہری نے استعفا پیش کردیا۔ اب خورشید شاہ اور پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنما اس پر نواب صاحب سے معذرتیں تو کر رہے ہیں لیکن جو کچھ ہو چکا اس کا ازالہ تو ممکن نہیں، تو پھر سوال یہ ہے کہ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا جذیہ محرکہ کیا ہے؟ یہ درست ہے کہ جب وہ اس منصب پر فائز ہوئے تو نسبتاً غیر معروف سیاستدان تھے لیکن انہوں نے جس طرح ایوان بالا کو چلایا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے بطور چیئرمین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ انہوں نے پچھلے اجلاس سے وزیراطلاعات فواد چودھری کو نکال دیا تھا تو انہوں نے چیلنج کیا تھا ان کے متعلق سوچنا پڑے گا لیکن کیا پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اس معاملے میں پہلے کی طرح ہم آواز ہو جائیں گی، دونوں جماعتوں میں جو لفظی گولہ باری مختلف محاذوں پر جاری ہے اور سعید غنی جس طرح وفاقی وزراء کی گرفتاریوں اور سندھ میں ان کے داخلے پر پابندی کی باتیں کر رہے ہیں اس سے تو نہیں لگتا کہ دونوں اس معاملے میں متحد ہو جائیں گی۔ ان حالات میں یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ کیا یہ تحریک کامیاب ہو پائے گا؟

پیپلز پارٹی کو اپنی اس مہم جوئی میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل ہوگی یا نہیں اس بارے میں حتمی طور پر اس وقت کچھ کہنا مشکل ہے جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ کیا اس مرحلے پر مسلم لیگ (ن) سینیٹ کے چیئرمین کی تبدیلی کے حق میں بھی ہے یا نہیں، خورشید شاہ کہتے تو یہی ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں لیکن بہت سے مواقع پریہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ اتحاد اتنا ڈھیلا ڈھالا ہے کہ کسی ایک معاملے پر اس کا متفقہ موقف اختیار کرنا یقینی نہیں ہے، اس وقت پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) نیشنل پارٹی، جے یو آئی (ف) پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور اے این پی کے ارکان کی تعداد 49ہے۔ جبکہ تحریک کی کامیابی کیلئے 53 ارکان کی ضرورت ہے (ایوان کل تعداد 104) آزاد ارکان کی تعداد 29ہے اس لئے ان کا کردار اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایک چوتھائی ارکان (26) کے دستخطوں سے پیش کی جاسکتی ہے، یہ تحریک سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ تحریری نوٹس ملنے کے بعد سیکرٹری سینیٹ اس نوٹس کی نقول تمام ارکان میں تقسیم کریں گے جب تحریک ایوان میں پیش کردی جائے گی تو اس پر رائے شماری خفیہ طریقے سے ہوگی۔ جس کا طریق کار اس وقت اجلاس کی صدارت کرنے والے پریذائیڈنگ آفیسر طے کریں گے۔ تحریک کے حق میں کل ارکان سینیٹ کی اکثریت کے ووٹ آجائیں تو وہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کو صادق سنجرانی سے کیا شکایات ہیں؟ اس کی کوئی تفصیل تو سامنے نہیں آئی اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اچانک یہ فیصلہ کیوں کرلیا، ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیپلز پارٹی شاید یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ اگر سینیٹ کے ارکان کو جمع کرکے صادق سنجرانی کو چیئرمین منتخب کراسکتی ہے تو انہیں ان کے منصب سے ہٹا بھی سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اگر پیپلز پارٹی کا ساتھ نہ دیا اور آزاد ارکان نے بھی ماضی کی تاریخ نہ دہرائی تو تحریک کی کامیابی مشکل ہے۔ پیپلز پارٹی سے البتہ یہ سوال ضرور پوچھا جاسکتا ہے کہ جب مارچ 2018ء میں وہ صادق سنجرانی کو جوش و جذبے سے منتخب کرا رہی تھی تو اس وقت ان کی ذات میں انہیں کیا خوبیاں نظر آئی تھیں جو اب ان میں باقی نہیں رہیں؟

تحریک عدم اعتماد

مزید : تجزیہ