متحدہ مجلس عمل کو بچانے کیلئے ساجد میر اور اعجاز ہاشمی سر گرم

متحدہ مجلس عمل کو بچانے کیلئے ساجد میر اور اعجاز ہاشمی سر گرم

لاہور(شہزاد ملک) متحدہ مجلس عمل سے جماعت اسلامی کے الگ ہونے کے بعد اس اتحاد کو بچانے کیلئے اس اتحاد میں شامل دوسری سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما پروفیسر ساجد میر اور پیر اعجاز ہاشمی میدان میں نکل آئے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہے کہ یہ اتحاد قائم رہے اورتحفظات مل بیٹھ کر حل کر لیے جائیں ،ایم ایم اے ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے الگ ہونے کی وجہ جے یو آئی (ف) کے ساتھ الیکشن کے وقت سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور بعد ازاں ضمنی الیکشن کے وقت بھی جماعت اسلامی کو ایڈجسٹمنٹ نہ ہونا بتائی جاتی ہے ، جماعت اسلامی کا واضح طور پر کہنا ہے یہ اتحاد صرف الیکشن میں حصہ لینے کے لئے بنایا گیا تھا اس لئے اب الیکشن کے گذر جانے کے بعد اس اتحاد کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے جماعت اسلامی اس سے الگ ہو گئی ہے، دیگر جماعتوں کا موقف ہے ایم ایم اے کے قیام کا سب سے بڑا مقصد تمام مکاتب فکر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر دین اسلام اور وطن عزیزکی خدمت کرنا بھی مقصود ہے۔ پروفیسر ساجد میر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے ساجد میر اس وقت بیرونی دورے پر ہیں لیکن جب سے ان کو یہ معلوم ہوا ہے کہ ایم ایم اے سے جماعت اسلامی نے الگ ہونے کااعلان کیا ہے تو وہ اپنا دورہ مختصر کرکے واپس آر ہے ہیں جبکہ دوسری جانب پیر اعجاز ہاشمی کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ وہ جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کو ایک میز پر لا کر ان دونوں جماعتوں کے مابین جو بھی کوئی مجوزہ تحفظات ہیں ان کو ختم کروانے کے لئے اپنا کر دار ادا کر سکیں ۔ایم ایم اے کے ترجمان نے اس امید کااظہار کیا ہے کہ جلد ہی اس اتحاد میں شامل جماعتوں کے مابین اختلافات کو دور کر لیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول