لیگی احتجاج رنگ لے آیا ،جیل میں نواز شریف سے ذاتی معالج کی ملاقات

لیگی احتجاج رنگ لے آیا ،جیل میں نواز شریف سے ذاتی معالج کی ملاقات

لاہور (کرائم رپورٹر، این این آئی) مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے نواز شریف کو علاج کی سہولیات نہ ملنے کیخلاف اورقائد سے اظہار یکجہتی کیلئے کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہرہ کیا،احسن اقبال کی قیادت میں تین رکنی وفد نے جیل حکام سے ملاقات کر کے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا،بعد ازاں احتجاج رنگ لے آیا اور جیل میں سابق وزیر اعظم سے ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی ملاقات کرا دی گئی، انہوں نے رپورٹس کا معائنہ کیااور بائیں بازو میں درد کی تشخیص کو ضروری قرار دیا،ان کے کمرے میں ایل ای ڈی بھی لگا دی گئی۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے نواز شریف کو علاج کی سہولیات نہ ملنے کیخلاف اورقائد سے اظہار یکجہتی کیلئے کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہرہ کیا ، احسن اقبال کی قیادت میں تین رکنی وفد نے جیل حکام سے ملاقات کر کے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ،ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی اجازت دینے کے بعد ملاقات بھی کرادی گئی۔ نواز شریف کی طبیعت کی ناسازی اورذاتی معالج سے چیک اپ کی اجازت نہ ملنے پر لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہرہ کیا ۔اس موقع پر احسن اقبال،پرویز ملک ،شائستہ پرویز ، علی پرویز ملک ،عظمیٰ بخاری اور دیگر رہنماؤں نے مرد و خواتین کارکنوں کے ہمراہ جیل کے باہر نواز شریف کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔بعد ازاں جیل حکام نے احسن اقبال ، پرویزملک اور کرنل (ر) مبشر جاوید پر تین رکنی وفد کو ملاقات کیلئے مدعو کیا جہاں لیگی رہنماؤں نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا ۔جیل حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ نواز شریف کو جس طرح کی بھی طبی امداد درکار ہوں گی وہ فراہم کی جائیں گی ۔ لیگی رہنماؤں کے جیل سے باہر آنے کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔ قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ پارٹی قائدین کو دانستہ طو رپر طبی سہولیات نہیں دی جا رہیں ،یہ جیل قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ ہم نے مشرف کی آمریت کو پاش پاش کیا ،عمران کی سلیکٹڈ حکومت کا مقابلہ کرنا ہمارا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ نواز شریف کی صحت کو کوئی نقصان ہوا تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم ، وزیرا علیٰ، وزیر داخلہ اور جیل سپریٹنڈنٹ ہوں گے ۔ عمران خان کی ایمانداری کا میک اپ اتر چکا ہے اور انہوں نے قوم کے چندے سے بھی دھوکہ کیا ہے ،ڈیم کے نام پر 13ارب کے اشتہار لگا کر 9ارب اکھٹے ہوئے ،بیرون ملک پاکستانی بھی اس حکومت پر اعتماد نہیں کر رہے ، سرمایہ کار یا تو فرار ہو گیا ہے یا انڈر گراؤنڈ جا چکا ہے ،موجودہ حکومت کے دور میں5سے 7لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔آرمی چیف کو موجودہ حالات دیکھ کر خود میدان میں اترنا پڑا ہے اور وہ خود تاجروں کو حوصلہ دے رہے ہیں ۔ دریں اثناکوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف کے کمرے میں ایل ڈی لگادی گئی ہے تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ وہ کون کون سی نشریات دیکھ سکیں گے اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی بھی ملاقات کروائی گئی ہے ۔ نواز شریف کے ذاتی معالج نے تمام ٹیسٹ کی رپورٹس دیکھیں۔ ڈاکٹر عدنان کے مطابق نواز شریف کے بائیں بازو میں درد کی تشخص ضروری ہے۔ ڈاکٹر سے نواز شریف کی ملاقات تیس منٹ تک جاری رہی۔ ذاتی معالجین نے بلڈ ٹیسٹ تجویز کیا، جیل کا ڈاکٹر بھی موقع پر موجودرہا۔ ٹیسٹ رپورٹس آنے کے بعد ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا ،ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف سے ادویات بارے بھی دریافت کیا ۔خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کی رپورٹس آئیں گی، تو ہسپتال شفٹ کرنے کا فیصلہ کریں گے، ڈاکٹر عدنان نے میاں نواز شریف سے ادویات بارے بھی دریافت کیا۔

لیگی احتجاج،ڈاکٹر ملاقات

مزید : صفحہ اول