صحت کارڈ کا کریڈٹ لینے والوں نے سرکاری ہسپتالوں کو ویران کردیا ، حیدر ہوتی

صحت کارڈ کا کریڈٹ لینے والوں نے سرکاری ہسپتالوں کو ویران کردیا ، حیدر ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ادویات کی قیمتوں میں 15فیصد اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اضافے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور حکومت وضاحت کرے کہ عوام کو زندہ درگور کرنے کی پالیسی کس کے اشاروں پر اپنائی جا رہی ہے، ہوتی ہاؤس مردان میں مختلف اضلاع کے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نام نہاد تبدیلی سرکار نے غربیوں کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبو دیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت میں مہنگائی سونامی کا روپ دھار چکی ہے جو غریبوں کو نگل رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کا کریڈٹ لینے والوں نے اپنے دور اقتدار میں سرکاری ہسپتالوں کو ویران کر دیا جبکہ پرائیویٹ ہیلتھ سیکٹر کو فروغ دینے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا گیااور پرائیویٹ ڈاکٹروں کو ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین سے مستثنیٰ کر دیا گیا،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ جان بچانے والی ادویات عوام کی پہنچ سے دور کر کے اقتدار کو دوام نہیں بخشا جا سکتا۔ عوام حکمرانوں سے مایوس ہو چکے ہیں حکومت کے پانچ ماہ کے اقتدار میں ملک میں شرح مہنگائی میں بعض اشیاء کی قیمتوں میں 100فیصد اضافہ ہوچکا ہے جبکہ ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد مہنگائی کا جن پوری طرح بوتل سے باہر نکل آیا ہے۔اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ ہوشربا مہنگائی کے باعث غریب اور سفید پوش طبقہ کے لیے اپنا بھرم قائم رکھنا مشکل ہوگیا ہے، عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے اور اقربا پروری کی پالیسی کے باعث صوبے کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی کے باعث غریب عوام زندہ درگور ہوتے جا رہے ہیں ، اامیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبائی و مرکزی حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے اور صحت سہولیات کی فراہمی کے دعوؤں پر بھی یوٹرن لے لیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کا جینا مشکل کیا اور اب مرنا بھی دشوار کر دیا ہے ،جان بچانے والی ادویات مارکیٹس میں ناپید ہو چکی ہیں،انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور عوام کی مشکلات بڑھانے کی بجائے ان میں کمی کیلئے حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔

مزید : کراچی صفحہ اول