قومی کھیل کی آڑمیں ہر ایک نے پیسہ کمایا: شہناز شیخ

قومی کھیل کی آڑمیں ہر ایک نے پیسہ کمایا: شہناز شیخ
 قومی کھیل کی آڑمیں ہر ایک نے پیسہ کمایا: شہناز شیخ

  

لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان کے سابق اولمپیئن شہناز شیخ نے کہا ہے کہ ہاکی کی بنیادی خصوصیات بیلجیم کی ٹیم میں نظر آرہی ہیں وہی 15 برس قبل پاکستانی ٹیم میں بھی موجود تھیں، بیلجیم آج جس مقام پر ہے وہاں تک پہنچنے کے لیے انہوں نے اپنے انفراسٹریکچر پر پیسہ لگایا، اس فتحیاب ٹیم کے پیچھے ایک مستحکم ہاکی نیٹ ورک موجود ہے۔ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے شہناز شیخ کا کہنا ہے‘پاکستان میں قومی ہاکی کا انتظام سنبھالنے والے تمام ہی افراد سیاسی بنیادوں پر تعینات ہوتے ہیں، پھر چاہے وہ ہاکی اولمپیئنز ہی کیوں نہ ہوں۔ دیکھئے ایک کلاس میں مختلف طرح کے طلبا موجود ہوتے ہیں۔ جو ہونہار اور بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرنے والے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ ابتدائی بنچوں پر نظر آئینگے ، اسی طرح کمزور اور گریس نمبر حاصل کرنے والے پچھلی بینچوں پر ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ تمام طلبا ایک ہی کلاس میں بیٹھتے ہیں مگر ہر ایک کی کارکردگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ بالکل ٹھیک اسی طرح ہمارے پاس بھی ایسے اولمپئنز موجود ہیں جن کی ہاکی سے متعلق معلومات ایک دوسرے سے مختلف ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ 2014ء میں جب وہ پاکستان ہاکی ٹیم کی کوچنگ کر رہے تھے اس وقت پاکستان نے اسی میدان میں انڈیا اور ہالینڈ کو شکست دی تھی جس میدان میں حال ہی میں بیلجیم نے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا۔’ موجودہ پاکستانی ٹیم میں ایسے ایک یا دو کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو گیند آگے بڑھانے والے کھلاڑیوں کو گیند سے محروم ہوجانے کی صورت میں انہیں ڈھال یا کور فراہم کرسکیں۔ مختلف میچوں میں کئی مرتبہ گروپ ٹیکلنگ کے دوران کور نہ ہونے کے باعث ان سے گیند چھین لی گئی۔ جب ایک کھلاڑی مدد کے بغیر اٹیکس کرتا ہے تو گیند پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے دفاع بھی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی