جرمن میں مسلمانوں کو عبادت ٹیکس اداکرنے کے حوالے سے نئی بحث

جرمن میں مسلمانوں کو عبادت ٹیکس اداکرنے کے حوالے سے نئی بحث

برلن(این این آئی)جرمنی میں مسلمانوں کو بھی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرح عبادت ٹیکس ادا کرنے کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔قطری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک مسجد کے بانی ملک کے تمام مسلمانوں کو عبادت ٹیکس ادا (بقیہ نمبر15صفحہ12پر )

کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ برادریوں کو اپنے مالی معاملات خود دیکھ لینے چاہیے جس طرح جرمنی کے یہودی، کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ عیسائی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔جرمن اسلامک کونسل کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں اس طرح کی مساجد مٹھی بھر ہیں اور ان میں سے اکثر مساجد پہلے ہی اپنی مدد آپ کے تحت چل رہی ہیں۔یاد رہے کہ جرمن حکومت نے ملک میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مسلمانوں کے رہنماؤں اور امام مساجد سے رابطے شروع کر دئیے تھے اور 28 نومبر 2018 کو اس حوالے سے ایک کانفرنس بھی منعقد کی گئی تھی۔خیال رہے کہ جرمنی میں آباد تقریباً 45 لاکھ مسلمانوں میں سے اکثریت کی جڑیں ترکی سے ملتی ہیں جنہیں 1960 اور 70 کی دہائی میں مہمان مزدور کے نام پر دعوت دی گئی تھی۔بعد ازاں 2015 میں جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے عراق، شام اور افغانستان میں جنگ سے متاثر ہوکر بے گھر ہونے والے 10 لاکھ سے زائد پناہ کے متلاشی مسلمانوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول دی تھیں، جس کے بعد مسلمانوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر