ترکی، جیل میں قید خاتون رکن پارلیمنٹ کی جان کو خطرہ لاحق

ترکی، جیل میں قید خاتون رکن پارلیمنٹ کی جان کو خطرہ لاحق

انقرہ(این این آئی)ترکی میں کْردوں کے معاملے کی حمایت کرنے والی سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے کہا ہے(بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

کہ پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن پارلیمنٹ لیلی گوفن کی طبی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ جیل میں موجود رکن پارلیمنٹ لیلی نے گزشتہ دو ماہ سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے بیان میں بتایا کہ بھوک ہڑتال کے آغاز کے بعد سے لیلن گوفن کا 15 کلو گرام وزن کم ہو چکا ہے یہاں تک کہ وہ قضاء حاجت کے واسطے چل کر نہیں جا سکتیں۔ لیلی کی دل کی دھڑکن بہت ہلکی اور فشار خون انتہائی نیچے آ چکا ہے۔ ان کے لیے پانی سمیت کوئی مشروب پینا ممکن نہیں رہا۔ پارٹی کے مطابق جزیرہ امرالی میں لیلی کو جیل میں الگ تھلگ اور تنہا رکھنے پر ترکی کی جیلوں میں اس وقت 171 سیاسی قیدیوں نے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ لیلی گوفن اور دیگر تمام بھوک ہڑتالیوں کی بگڑتی حالت کی تمام تر ذمے داری ترکی کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔لیلی گوفن کو جنوری 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے 8 نومبر 2018 کو جیل میں رہتے ہوئے بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ یہ بھوک ہڑتال کردستان ورکرز پارٹی کے تاریخی سربراہ عبداللہ اوگلان کے حراست کے ناگفتہ حالات کے خلاف احتجاجا کی گئی۔ اوگلان کو ترکی نے 1999 میں گرفتار کیا تھا اور اب وہ عمر قید گزار رہے ہیں۔ترکی صدر رجب طیب ایردوآن یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی درحقیقت کردستان ورکرز پارٹی کا سیاسی چہرہ ہے ۔

جس کو انقرہ حکومت ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر