معیشت بے حال مگر حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی، شیخ رشید کنگلے ہوا کرتے تھے مگر آج اربوں روپے کے مالک، فواد چوہدری علیمہ باجی کا حساب دیں: رانا ثناءاللہ

معیشت بے حال مگر حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی، شیخ رشید کنگلے ہوا کرتے تھے مگر آج ...
معیشت بے حال مگر حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی، شیخ رشید کنگلے ہوا کرتے تھے مگر آج اربوں روپے کے مالک، فواد چوہدری علیمہ باجی کا حساب دیں: رانا ثناءاللہ

  

فیصل آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی ہے اور تاجر برادری کو اپنے مسائل حل کروانے کیلئے چیف آف آرمی سٹاف کیساتھ ملاقات کرنا پڑی ہے، شیخ رشید کنگلا ہوا کرتا تھا، فواد چوہدری علیمہ باجی کی پراپرٹی کے بارے میں بتائے۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پاکستانی معیشت انتہائی مشکلات سے دوچار ہے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ معاشی معاملات کی بہتری کیلئے اقدامات کرے لیکن حکومت کہیں نظر ہی نہیں آ رہی ہے حتیٰ کہ تاجر برادری نے بھی چیف آف آرمی سٹاف کیساتھ ملاقات کی اپنی کاروباری مشکلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا گھٹیا ترین انسان اور راولپنڈی کا شیطان شیخ رشید دن میں کسی نہ کسی جگہ پر نمودار ہوتا ہے اور ایک ہی بات کرتا ہے کہ میں میاں شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیئرمین تسلیم نہیں کرتا۔ اپوزیشن نے شہباز شریف پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں قائد حزب اختلاف بنایا اور پھر اپوزیشن لیڈر ہونے کے ناطے حکومت نے انہیں پی اے سی کا چیئرمین بنادیا۔

انہوں نے کہا کہ شیخ رشید حکومت کا حصہ ہیں اور وزیر ریلوے ہیں جبکہ شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے کا فیصلہ بھی حکومت کا ہے جس کیساتھ اختلاف کرنے سے پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور پھر سپریم کورٹ جائیں اور ایوان میں بھی احتجاج کریں۔ شیخ رشید میں اگر کوئی غیرت ہے تو اپنا کردار دیکھیں، یہ 1985ءسے پہلے کنگلے تھے اور ان کے پاس کوئی پراپرٹی نہیں تھی لیکن آج یہ ارب پتی ہیں۔ شیخ رشید نے جوئے اور کشمیری مہاجرین کیلئے بنائے گئے ٹریننگ کیمپ کے ذریعے پیسہ بنایا اور ناجائز دولت سے ارب پتی بن گیا۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ فواد چوہدری کی باجی پکڑی گئی ہیں وہ اس کا حساب تو نہیں دے رہے، ہمارے مشرقی معاشرے میں آدمی پر الزام لگ جائے تو اسے اتنا برا نہیں سمجھتے لیکن بہن بیٹی پر الزام لگے تو بڑی شرمندگی کی بات ہوتی ہے، لیکن فواد چوہدری صبح شام شریف برادران کیخلاف تو بات کرتے ہیں لیکن اب یہ بتائیں کہ ان کی باجی کی جو پراپرٹی پکڑی گئی ہے اور پھر ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہیں، اس کا حساب بھی دیں، یہ بھی بتائیں کہ ان کا کیا کاروبار ہے، جرمانہ تو ادا کر دیا ہے مگر اس کی منی ٹریل بھی بتائیں۔

سابق وزیر قانون نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ نمل اور شوکت خانم کیلئے لوگوں کی جانب سے ملنے والے صدقہ، زکوة اور خیرات کے پیسوں سے یہ ساری پراپرٹی خریدی گئی۔ یہ تمام پراپرٹی عمران خان نے علیمہ باجی کے ذریعے متحدہ عرب امارات اور یورپ میں خریدی اور خود وہ بے نامی دار ہیں، اس معاملے پر جے آئی ٹی بنائی جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب کا کردار جانبدارانہ ہے اور احتساب کا عمل انتقام کیساتھ کیا جا رہا ہے اور ہم اس پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم چیئرمین نیب سے بھی ملنے جا رہے ہیں اور ان کے سامنے بھی اپنے تحفظات رکھیں گے کہ اگر تفتیشی مرحلے پر میاں شہباز شریف کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو پھر پرویز خٹک کو کیوں نہیں کیا جا سکتا، جسے آپ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے، وہ کیوں گرفتار نہیں ہو سکتا، عمران خان کو گرفتار کیوں نہیں کیا جا سکتا اور دیگر لوگوں کو کیوں گرفتار نہیں کیا جا سکتا، یہ تین ماہ کی مسلسل کوشش کے باوجود شہباز شریف پر ایک روپے کی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکے۔

مزید : اہم خبریں /قومی