حکومت میں اتنی تاب نہیں کہ این آر او کرسکے :حبیب اکرم

حکومت میں اتنی تاب نہیں کہ این آر او کرسکے :حبیب اکرم
حکومت میں اتنی تاب نہیں کہ این آر او کرسکے :حبیب اکرم

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تجزیہ کار حبیب اکرم نے کہاہے کہ جب بھی این آر او ہواہے وہ غیر ملکی مداخلت سے ہوا ہے ، این آر او کے تین عناصر ہیں ، ایک سٹیبلشمنٹ دوسرے سیاستدان اور تیسر ی غیر ملکی مداخلت ، اس لئے ہمیں دیکھناہے کہ اس وقت یہ تینوں چیزیں نظر آرہی ہیں یا نہیں، سول حکومت میں اتنی تاب نہیں ہوتی کہ وہ کسی سے این آر او کرسکے ۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”اختلافی نوٹ“ میں گفتگو کرتے ہوئے حبیب اکرم نے کہا کہ پاکستان میںاین آر او کی تاریخ کوئی پرانی نہیں ہے ، پہلی اس طرح کی ڈیل نواز شریف نے پرویز مشرف کے ساتھ کی تھی اورملک چھوڑ کرچلے گئے تھے ، اس کے بعد دوسرا ین آر او امریکہ کی مداخلت سے پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹوکے درمیان طے پایا ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی این آر او ہواہے وہ غیر ملکی مداخلت سے ہوا ہے ، این آر او کے تین عناصر ہیں ، ایک سٹیبلشمنٹ دوسرے سیاستدان اور تیسر ی غیر ملکی مداخلت ، اس لئے ہمیں دیکھناہے کہ اس وقت یہ تینوں چیزیں نظر آرہی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول حکومت میں اتنی تاب نہیں ہوتی کہ وہ کسی سے این آر او کرسکے ، موجوہ سیاسی منظر نامے میں طعنہ تو ضرور ہے لیکن این آر او ہو نہیں سکتا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں جو اس وقت درجہ حرارت ہے ، اس لگ رہاہے کہ اب یہ موقع نہیں آئے گا کہ بات کسی تحریک کی طرف جائے ، پنجاب میں سلمان رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کیلئے قانون بننے جارہاہے ، شائد تحریک انصا ف کو احساس ہوگیاہے کہ کل علیم خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پڑسکتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصا ف اپنی زبان پر کنٹرول کرلے تو حکومت پر کنٹرول کرنا آسان ہوجائے گا ۔

مزید : قومی