پارلیمنٹ پر چڑھائی نہیں کریں گے ،وزیراعظم ،علیمہ خان ، جہانگیر ترین اورعلیم خان کے خلاف عدالت سمیت ہر فورم پر جائیں گے:ڈاکٹر نفیسہ شاہ

پارلیمنٹ پر چڑھائی نہیں کریں گے ،وزیراعظم ،علیمہ خان ، جہانگیر ترین اورعلیم ...
پارلیمنٹ پر چڑھائی نہیں کریں گے ،وزیراعظم ،علیمہ خان ، جہانگیر ترین اورعلیم خان کے خلاف عدالت سمیت ہر فورم پر جائیں گے:ڈاکٹر نفیسہ شاہ

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان  پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر  نفیسہ شاہ نے کہاکہ ہم عمران خان کی طرح پارلیمنٹ پر چڑھائی نہیں کریں گے،عوام کے ساتھ رابطہ ہے، جب حالات برداشت سے باہر نکلے تو عوامی سگنل کے مطابق باہر آئیں گے،وزیراعظم عمران خان ،علیمہ خان ، جہانگیر ترین اور عبدلعلیم خان سمیت سب کے خلاف عدالت سمیت ہر فورم پر جائیں گے،سندھ میں کسی کے داخلے پر پابندی نہیں لگائیں گے،دوہرے معیار نہیں چلیں گے اور نہ ہی 2 پاکستان بننے دیں گے ،حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہماری قیادت کے نام ای سی ایل سے نہیں نکال رہی،6 ماہ میں کون سی حکومت دوسرا بجٹ دیتی ہے ؟تیاری نہیں تھی تو قوم اورپارلیمنٹ کاٹائم کیوں ضائع کیا ؟عمران خان روزانہ قرضوں کا حساب بتاتے تھے ،اب بھی ایک تقریر کر کے قوم کو بتا دیں کہ 6 ماہ میں کتنے قرضے لئے ہیں؟ عمران خان کی طرح پارلیمنٹ پر چڑھائی نہیں کریں گے۔

پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی حسن مرتضی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر  نفیسہ شاہ نے کہاکہ علیمہ خان کی 450 ملیں ڈالرز کی پراپرٹی نیوجرسی میں نکلی، یہ ملکیت 2017 میں ایمنسٹی سکیم کے تحت ظاہر کی ،علیمہ خان وزیراعظم کی بہن اور شوکت خانم کے چندے کی رکھوالی ہیں، کیا اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ جائز نہیں؟۔انہوں نے کہاکہ سندھ میں تو بلاول ہاؤس کے کیک کا بھی حساب بتایا گیا،دوسری نیکسز جہانگیر ترین کا ہے ، پانچ سال کے کے پی کے ٹھیکوں کا ہے،پانچ سال میں کے پی کے ٹھیکوں کی انکوائری کی جائے،پارٹی فنڈنگ کے جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ بھی سامنے آ گیا۔انہوں نے کہاکہ نیویارک کی املاک کی تو بات کرتے ہیں، نیوجرسی کا کیوں نہیں؟شہزاد اکبر نے جن 800 پراپرٹیز کی بات کی ان میں علیمہ خان کا نام بھی تھا،شہزاد اکبر نے علیمہ خان کا نام نہیں لیا،ڈیسکون کو ٹھیکہ دینے پر شہزاد اکبر کہتا ہے کہ سپریم کورٹ نوٹس لے۔انہوں نے کہاکہ وزیرداخلہ شہریار آفریدی اسلام آباد میں منشیات کی بات کرتا ہے جبکہ اس کا اپنا بھتیجا منشیات کی سمگلنگ میں ملوث پایا گیا،فواد چودھری دوسروں کو چور ڈاکو کہتا رہا اور حامد خان نے خود اسے کیا کہتے رہے وہ بھی سنیں،ای سی ایل کا شوشا شروع ہوا تو جے آئی ٹی کی سیکریٹ رپورٹ پر 172 نام ای سی ایل میں ڈال دیئے تاہم حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہماری قیادت کے نام ای سی ایل سے نہیں نکال رہی جبکہ اپنے چہیتے لیاقت جتوئی کو تحقیقات میں ہونے کے باوجود ای سی ایل سے نکال دیا،دو پاکستان ہم برداشت نہیں کریں گے ۔ا نہوں نے کہاکہ ایک بار پھر وزیر خزانہ نے تیسرا یو ٹرن لیا ہے، اب کہتے ہیں آئی ایم ایف میں نہیں جا رہے مگر دوسرا بجٹ دے رہے ہیں،چھ ماہ میں کونسی حکومت دوسرا بجٹ دیتی ہے؟ یہ بجٹ ان کے اپنے پہلے والے بجٹ سے یوٹرن لیں گے،ان کی تیاری نہیں تھی تو قوم کا پارلیمنٹ کاٹائم کیوں ضائع کیا ؟ آئی ایم ایف کی شرائط پہلے ہی مان لی، روپے کی قدر گرا دی اس سال مہنگائی ڈبل ڈیجیٹ میں جائے گی۔ا نہوں نے کہاکہ اگر یوٹرن لینے تھے تو انٹرسٹ ریٹ کیوں بڑھائے؟اتنی غیریقینی ہے کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے قرضے 2.5 ٹریلین کے قرضے بڑھا دئیے ہیں ، عمران خان روزانہ قرضوں کا حساب بتاتے تھے،عمران خان اب بھی ایک تقریر کر کے قوم کو بتا دیں کہ چھ ماہ میں کتنے قرضے لئے؟ ۔انہوں نے کہاکہ سہانے خواب دکھا کر لوگوں کے گھر گرائے ہیں،چیئرمین پیپلزپارٹی نے ایشوزز کی بنیاد پر اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کی، ہم احتجاج کریں گے عوام کے سا تھ اسلام آباد جائیں گے،ہم عمران خان کی طرح پارلیمنٹ پر چڑھائی نہیں کریں گے،عوام کے ساتھ رابطہ ہے، جب حالات برداشت سے باہر نکل جائیں گے تو عوام کے سگنل کے مطابق باہر آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا نشانہ علیمہ خان نہیں وہ قابل احترام ہیں ہمارا نشانہ عمران خان ہیں، ہم عمران خان سے چاہتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر جواب دیں، وہ وزیراعظم ہیں ہم علیمہ خان ، وزیراعظم، جہانگیر ترین علیم خان سمیت سب کے خلاف عدالت سمیت ہر فورم پر جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہماری قیادت کے خلاف حکومت انتقام کی ہر حد پار کر چکی ہے،آصف زرداری ملک کے سابق صدر ہیں انہیں پانچ پانچ  عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے،جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مصنف شہزاد اکبر ہیں،بلاول ہاؤس بینظیر شہید کا گھر ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اس پر کیچڑ اچھالا گیا،ہم تو چاہتے ہیں کہ حکومت پارلیمنٹ میں آئے مگر یہ نہیں آ رہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں تو پھر کیوں نہ حکومتی شخصیات کے خلاف عدالت میں جائیں؟۔

مزید : قومی