!ڈاکٹر شاہد مسعود کا قصور

!ڈاکٹر شاہد مسعود کا قصور
!ڈاکٹر شاہد مسعود کا قصور

  

ارض پاک میں ہر دہائی میں احتساب کے نام پر ایک ڈرامہ رچایا جاتا ہے، کسی بھی ٹی وی ڈرامے کی طرح اس ڈرامے کے بھی باقاعدہ کردار ہوتے ہیں، اس ڈرامے کے رائٹرز بھی ہوتے ہیں، پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز بھی ہوتے ہیں ، اداکاروں کا بھی انتخاب کیا جاتا ہے، حقیقت اور سنسنی خیزی پیدا کرنے کے لئے کچھ عارضی کرداروں کی بھی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، ہر کردار کی اپنی قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت قومی خزانے سے ادا کی جاتی ہے کیونکہ نام نہاد ہی سہی مگر قومی احتساب کا نعرہ تو بلند کیا جاتا ہے۔

 اس احتساب نامی ڈرامے سے نہ تو ملکی خزانے کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے اور نہ عوام کو اس کے ثمرات ملتے ہیں، بلکہ احتساب کرنے والے اور کروانے والے دونوں اپنی آنے والی نسلوں کی پر تعیش زندگی کا بندو بست کر جاتے ہیں، جہاں عامتہ الناس اس کا نقصان اٹھاتی ہے وہیں محب وطن طبقہ جو اس ڈرامے کو حقیقت سمجھ کر اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا وہ اس کا سب سے زیادہ شکار ہوتا ہے، کیونکہ جن کا نام نہاد احتساب کیا جا رہا ہوتا ہے وہ اس ڈرامے کے ختم ہوتے ہی محب وطن عناصر کو اپنے غضب کا نشانہ بناتے ہیں۔

 اس دہائی کے ڈرامے کی شروعات انقلاب مارچ اور آزادی مارچ دو ہزار چودہ کے ختم ہوتے ہی ہو جاتی ہے، اٹھائیس ستمبر دو ہزار چودہ کو انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری منی لانڈرنگ کے مختلف طریقوں سے پردے اٹھاتے ہیں، دو ہزار پندرہ میں ایان علی خوبرو ماڈل اسلام آباد ائیر پورٹ سے پانچ لاکھ ڈالر لے کر جاتی ہوئی پکڑی جاتی ہیں اور اگلے ہی دن ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے پروگرام میں خبر بریک کرتے ہیں کہ یہ رقم سندھ کی بااثر ترین شخصیت کی تھی، بعد ازاں ہونے والی تفتیش سے ان کی یہ خبر درست ثابت ہوئی آیان علی کے تانے بانے بلاول ہاؤس سے جا ملے۔

 ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرامز میں ملک میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن پر کھل کر بات کی اور اس کرپشن میں ملوث ہر شخص کا نام بار بار دہرایا یہاں تک کہ ان کو اربوں روپے کے ہتک عزت کے نوٹسز وصول ہونا شروع ہو گئے، مگر ڈاکٹر صاحب ہر طرح کی بلیک میلنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے اور حب اکوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرپٹ ایلیٹ کو بے نقاب کرتے رہے، انہوں نے ملک میں ہونے والی معاشی دہشت گردی کے خلاف مسلسل پروگرامز کیے، بدمعاشیہ اور آپریش دھبڑ دھوس جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے ملک دشمن کرپٹ عناصر کو للکارہ، ڈاکٹر عاصم سے لے کر اسحاق ڈار تک اور ادی فریال سے لے کر فواد حسن فواد تک تمام   کے کرتوت عوام کے سامنے رکھتے رہے۔

 منی لانڈرنگ کیس پر حالیہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں جن افراد کے نام آئے ہیں ان تمام افراد کے نام ڈاکٹر صاحب اپنے پروگرامز میں بارہا لے چکے ہیں، معاشی دہشت گردوں کو بے نقاب کرنے پر انہیں ڈرایا دھمکایا گیا لیکن ڈاکٹر صاحب نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ان دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اپنا فرض نبھاتے رہے،  اس کرپٹ نظام کے محافظوں نے ڈاکٹر صاحب کو سبق سکھانے کے لئے ایک بے بنیاد مقدمے میں پھسوا کر ان کی تذلیل کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر دیا ہے ، اس نظام کا ظلم دیکھیں کہ یہ تذلیل نہ تو ملک جا کوئی وزیر رکوا سکا اور نہ وزیر اعظم، سب کے سب ہی اس مسئلہ پر بے بس نظر آ رہے ہیں، تبدیلی سرکار کی اس سے بڑھ کر ناکامی کیا ئو گی کہ وہ ایک پاکستانی کی تذلیل نہ رکوا سکے، نعیم الحق کے بیان کے باوجود ابھی تک ڈاکٹر صاحب کی تحقیر و تذلیل ہو رہی ہے۔

 میڈیا پرسنز کے مطابق  ڈاکٹر صاحب حکومت سے مقدمے پر کوئی ریلیف نہیں مانگ رہے، ان کا تو صرف ایک مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھ عزت سے پیش آیا جائے ۔باقی کیس عدالت میں ہے وہ جو فیصلہ کرے ان کو قبول ہو گا، ہمارے ملک کی تاریخ یہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ اپنے محسنوں کے ساتھ برا سلوک کیا ہے ۔آپ کو   ڈاکٹر شاہد مسعود کے نظریات سے  اختلاف ہوسکتا ہے مگر آپ انکی قابلیت کو یک جنبش قلم نہیں جھٹلاسکتے ۔انکی صحافتی کمٹ منٹ کے نتیجہ میں الیکٹرانک میڈیا پر قابلیت اور لیاقت کا دور آیا ہے ۔انہوں نے اگر جرم کیا ہے تو انہیں سزا ملنی چاہئے مگر اسطرح  رسوا کرکے نہیں،یہ تو سزا سے پہلے ملنے والی دوہری سزا ہے جس کو قانون خود پسند نہیں کرتا۔

۔۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ