آٹے کی حکومتی نرخوں پر ٖفراہمی ہر صورت یقینی بنائے جائے گی،خلاف ورزی کی مرتکب فلور ملز کو بند کر دیا جائے: اعظم سلیمان

آٹے کی حکومتی نرخوں پر ٖفراہمی ہر صورت یقینی بنائے جائے گی،خلاف ورزی کی ...
آٹے کی حکومتی نرخوں پر ٖفراہمی ہر صورت یقینی بنائے جائے گی،خلاف ورزی کی مرتکب فلور ملز کو بند کر دیا جائے: اعظم سلیمان

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں آٹے کی حکومتی نرخوں پر ٖفراہمی ہر صورت یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کی مرتکب پائی جا نے والی فلور ملز کو بند کر دیا جائے،تمام فیلڈ افسران فلور ملز پر ڈسپیچنگ سسٹم اور آٹے کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کریں۔

یہ ہدایات انہوں نے صوبائی وزیر انڈسٹریز میاں اسلم اقبال کے ہمراہ کیمپ آفس لاہور میں ایک اعلی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔اس موقع پر چیف سیکرٹری نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے بھی ہدایا ت جاری کیں اور کہا کے مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نپٹنے کے لیئے اپناکردار ادا کریں۔ اجلاس میں تمام فیلڈ افسران کو کہا گیا کہ دیگر اشیائے خوردونوش، پھلوں، سبزیوں، چینی، دالوں اور گھی کی حکومتی نرخوں پرفراہمی کو بر قرار رکھنے کے لئے ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور منڈیوں کے عہدیداران کے ساتھ قریبی روابط رکھیں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف منظم کاروائیاں کریں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم ہو سکے۔چیف سیکرٹری کے استفسار پر سیکرٹری خوراک نے بتایا کہ منڈیوں میں پھلوں اور سبزیوں کے گریڈنگ سسٹم کے متعارف ہونے سے صارف کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے۔کیونکہ اس سسٹم کے آنے سے صارف کو غیر ضروری اور اضافی ناپ تول کی قیمت کی ادائیگی سے نجات مل گئی ہے۔ اسی طرح سبزیوں اور پھلوں کی ہوم ڈیلیوری سروس کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری انڈسٹریز نے بتایا کہ آن لائن ہوم ڈیلیوری سسٹم تین شہروں راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد میں فعال کر دیا گیا ہے۔جبکہ لاہور اور گوجرانوالہ میں بھی جلد یہ سروس شروع کر دی جائے گی۔اجلاس میں آنے والے کرشنگ سیزن کے پیش نظر شوگر ملزکی فعالیت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع میں کم از کم ایک شوگر مل کو ہر صورت فعال رکھا جائے اور اگر کوئی مل کسی بھی وجہ سے فعال نہیں ہے تو فیلڈ افسران دو دن میں انہیں فعال کر کے رپورٹ پیش کریں۔ چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ پنجاب میں اس وقت 35 شوگر ملز کام کر رہی ہیں جبکہ مزید 04 شور ملز کو اگلے دو دنوں میں فعال کر کے رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور