پولیو!نئی اور موثر مہم کی ضرورت!

پولیو!نئی اور موثر مہم کی ضرورت!

  



انسداد پولیو پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے پندرہ شہروں میں پولیو وائرس پائے گئے،ان میں سندھ کے چار، بلوچستان کے دو، پنجاب کے نو مقامات سے تصدیق ہو گئی ہے،بتایا گیا کہ 13 نمونوں میں ٹائپ ون اور دو میں ٹائپ ٹو کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ پنجاب کے سات مقامات پر سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی نشاندہی ہوئی،اس سے یہ مراد لی جا رہی ہے کہ ایسے مقامات اور شہروں میں بچوں میں کمزوری پائی گئی یا پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔حکومت ِ پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے پولیو سے نجات حاصل کرنے کی غرض سے باقاعدہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ملک بھر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے شہروں اور دیہات میں لاکھوں بچوں کو قطرے پلائے جاتے ہیں،اس مہم کے دوران عملے کو شدید دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور کم پڑھے لکھے علاقوں میں تو عملے پر حملے بھی ہوئے ہیں، حکومت کی طرف سے علمائے کرام کی خدمات حاصل کر کے عوام کو بتایا گیا کہ اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔اس کے علاوہ طبی ماہرین اور مشاہیر کی طرف سے بھی سمجھانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے اور حکومت عوام کو آمادہ کرنے کے لئے تشہیر کرتی ہے۔اس کے باوجود بعض حضرات بچوں کو قطرے پلانے سے اجتناب ہی نہیں کرتے،بلکہ عملے سے جھگڑتے بھی ہیں۔یوں یہ بڑی مہم اب بھی پولیو فری ملک نہیں بنا سکی۔ ایک زمانہ تھا جب ہم اس کامیابی کے بالکل قریب تھے، پھر دور دراز کے قبائلی علاقوں اور بعض افواہوں نے کام دکھایا اور اس مہم کے باوجود کیسز سامنے آنے لگے۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکومت اپنی مساعی کے ساتھ ساتھ پہلے کی طرح دینی سکالرز اور نمبردار، سردار اور چودھری قسم کے حضرات کی بھی معاونت حاصل کرے۔یہ مہم کامیاب تب ہو گی، جب لوگ خود خیال کر کے رضا کارانہ طور پر ویکسین پلانا شروع کر دیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ