مشرق وسطیٰ میں قیام امن، امریکی جارحیت روکی جائے

مشرق وسطیٰ میں قیام امن، امریکی جارحیت روکی جائے

  



چند روز قبل عراق ایئر پورٹ پر امریکی ڈرون طیاروں نے دو کاروں پر میزائلوں سے حملہ کر کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سمیت9افراد کو شہید کر دیا۔ان مقتدر شخصیات میں استقبال کرنے والے حضرات بھی شامل تھے۔اس وقوعہ پر ایران کی صف ِ اول کی سیاسی قیادت اور عام لوگوں کو سخت رنج و غم اور افسوس سے دوچار ہونا، بلاشبہ ایک فطری عمل ہے۔مارچ 2003ء میں اس وقت امریکہ کے حکمران صدر نے عراق پر فوج کشی کی تھی۔ صدام حسین حکومت پر زیادہ تباہی پھیلانے والے ہتھیار (WMD) بنانے اور ذخیرہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس الزام کو امریکی حکومت کی جانب سے بار بار دہرایا اور وسیع پیمانے پر ذرائع ابلاغ میں زوردار انداز میں مشتہر کیا جاتا رہا، حالانکہ اعلیٰ امریکی و سیاسی عہدیداروں اور وزارتِ خارجہ کے مقتدر افسروں کو بخوبی علم و یقین تھا کہ اُن کی مذکورہ بالا بیانات پر مبنی الزام تراشی، سرا سر جھوٹی، بے بنیاد اور من گھڑت ہے،کیونکہ امریکہ بہادر کی جاسوسی امور کی کارروائیاں اپنی فنی برتری کی بنا پر دیگر ترقی یافتہ ممالک سے بھی تاحال جدید اور بہتر خیال کی جاتی ہیں،جن کی اطلاعات کی وجہ سے عراق حکومت پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی کی الزام تراشی کسی معتبر ثبوت اور مواد کے بغیر، محض بدنیتی اور بددیانتی سے پھیلائی جا رہی تھی۔

اسے واضح طور پر بُغضِ معاویہ کی مخالفانہ حرکت سے تعبیر کرنا بھی مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔قارئین کرام جانتے ہیں کہ امریکی حکمران طبقے کی مذکورہ بالا نوعیت کی الزام تراشی انہی دِنوں محض اس انکوائری اور مشکوک مقامات کی تلاش و جستجو کے بعد بالکل بے بنیاد اور غلط ثابت اور واضح ہونے کے اعلانات سے کئی بار منظر عام پر آ گئی تھی،جب اقوام متحدہ کے نامزدہ کردہ اسلحہ کے انسپکٹر وہاں دو یا تین بار کچھ وقفوں سے مقامات مذکور پر الزامات کا جائزہ لینے گئے تھے۔ان کی ایسی رپورٹوں کو امریکی حکومت کسی طرح اور معقول جواز کے ساتھ، مسترد نہیں کر سکی تھی۔ یوں دُنیا بھر کے غیر جانبدار تجزیہ کاروں کو اس حقیقت کا علم ہو گیا تھا، کہ مذکورہ بالا الزام تراشی محض صدام حکومت پر بہر صورت حملہ آور ہونے کی سازش ہے، جو عراق کے تیل کے بڑے ذخائر پر قابض ہونے کے لئے اختراع کی گئی تھی۔ اس وقت سے آج تک امریکی مسلح افواج عراق کے بعض علاقوں میں موجود ہیں۔ گزشتہ تقریباً 17 سال کے دوران عراق کے چپے چپے میں بمباری اور میزائلوں کے حملوں سے لاکھوں بے قصور افراد کو شہید کر دیا گیا ہے۔سرکاری اور ذاتی املاک کو بھی وہاں کے متعدد علاقوں میں مسلسل گولہ باری سے تباہ و برباد کر کے ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

چند سال قبل امریکی حکومت کی جانب سے بعض اوقات ایسی اطلاعات کی فراہمی کے بارے میں اعلانات ظاہر کئے گئے کہ وہاں سے بیشتر امریکی اتحادی افواج کو واپس بُلا لیا گیا ہے، لیکن تاحال بھی وہاں خاصی قابل ِ ذکر تعداد میں امریکی مسلح افواج کے دستے موجود ہیں،جن کو دفاعی اور سیکیورٹی کی ضروریات قرار دے کر اب تک وہاں تعینات رکھا گیا ہے۔ گزشتہ 17سال کے دوران جن لاکھوں بے قصور افراد بشمول خواتین اور بچوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا ہے،اس پر درندہ صفت قابض مسلح حملہ آور سیاسی حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کو کیا سزا دی گئی ہے؟ کیا وہاں انسانی حقوق کی شب و روز، وسیع پیمانے پر پامالی نہیں کی گئی؟یاد رہے کہ عراق پر حملہ آور ہونے کی مذکورہ بالا جارحانہ کارروائیاں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کسی منظور شدہ قرارداد کے بغیر روبہ عمل لائی گئی تھیں۔ عالمی پریس میں،دُنیا بھر کے بیشتر غیرجانبدار نقادوں، انصاف پسند لوگوں اور تجزیہ نگاروں نے بھی امریکہ بہادر کی اس ظالمانہ اور سفاکانہ فوج کشی پر کڑی تنقید و مذمت اور سرزنش کی تھی۔ ایسی ہی رائے زنی، ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کے حالیہ قتل پر بھی عالمی سطح کے مختلف اداروں اور طبقوں کی طرف سے بھی مسلسل کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ عراق،امریکی سرزمین سے ہزاروں کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک آزاد ملک ہے، آج تک امریکہ اور عراق کے درمیان کوئی بڑی علاقائی مخالفت یا دشمنی موجود نہیں اور نہ ہی عراق نے امریکی مفادات کو کسی مقام اور موقع پر کبھی نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے دوسری مدت کے الیکشن کو تقویت دینے کے لئے یہ تازہ جارحانہ اور مجرمانہ واردات کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان چند سال قبل،ایٹم بم بنانے پر اختلافات تھے۔اس معاملے پر ایران کے ساتھ چھ بڑے ممالک، کئی ماہ تک مذاکرات کرتے رہے۔ امریکہ بہادر، ایران کو ایٹمی صلاحیت سے باز رکھنے والا بڑا اتحادی ملک تھا اور اب بھی ہے۔ آخر کار بہت طویل اور سنجیدہ مشترکہ مذاکرات سے باہمی اتفاق رائے وقوع پذیر ہوا تھا،لیکن چند ہفتے قبل تک ان ممالک کے لیڈروں کے مابین تعلقات کشیدہ ہونے کی بنا پر ذرائع ابلاغ میں سخت مخالفانہ بیان بازی دیکھنے میں آتی رہی۔اقوام متحدہ کو بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں، آج کل، قیام امن کی خاطر اپنا مثبت، جاندار اور موثر کردار ادا کرنے کے لئے قائدانہ انداز اختیار کرنا چاہئے۔امریکہ بہادر کو عراق سے اپنی مسلح افواج واپس بلانے کی سلامتی کونسل کی قرارداد منظور کرائی جائے۔ روس، چین، جرمنی، برطانیہ، فرانس، پاکستان، ترکی اور دیگر ممالک کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا، تاکہ امریکہ کی من مانیاں روکی جا سکیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...