وسیم اکرم پلس، پلس، پلس

وسیم اکرم پلس، پلس، پلس
وسیم اکرم پلس، پلس، پلس

  



استاد محترم بچوں کو پڑھا رہے تھے، ان کے پاس بہت سے لفافے پڑے تھے۔ دو دن پہلے انہوں نے بچوں کا امتحان لیا تھا، آج ہر بچے کو بلا کر آہستہ سے اس کا رزلٹ بتا رہے تھے۔ بچہ آتا اور مارک کیا ہوا اپنا پرچہ ان سے وصول کرتا۔ کسی کسی بچے کو وہ پرچے کے ساتھ ایک لفافہ بھی تھما دیتے۔ لفافہ ملتا توکچھ بچے مسکراتے، مگر کچھ اداس اداس لوٹ جاتے۔جس بچے کو لفافہ دیتے، وہ چاہے مسکراتا ہوا یا اداس واپس جاتا، اس کے جانے پر استاد محترم ”میرا پلس بیٹا“کا نعرہ لگاتے۔ مجھے یہ بات عجیب سی لگی۔ پوچھا تو کہنے لگے، دو ہفتے بعد آنا، سب سمجھا دوں گا۔ابھی کیوں نہیں؟ جواب ملا، سکون سے سمجھانا ضروری ہوتا ہے، دوسرا اس دن کچھ کام مکمل ہو گیاہو گا تو گفتگو بہتر انداز میں ہو سکے گی……”حکم حاکم مرگ مفاجات“…… استاد محترم کا حکم تھا،اس وقت چپ چاپ چلا آیا۔ مقرر ہ دن، ایک بار پھر میں ان کے پاس موجود تھا……بورڈ پر انہوں نے بہت سا کام لکھوایا اور بچوں کو ہدایت کی کہ جس بچے کو وہ بلائیں، وہ ان کے پاس آ جائے، باقی بچے پوری توجہ سے بورڈ پر لکھا ہوا کام مکمل کریں۔جس بچے کو پہلے بلایا گیا،اس سے مخاطب ہوئے،بیٹا چاروں پرچے دیکھ لئے ہیں۔ سمجھ آ گئی ہے کہ کہاں کیا غلطی ہوئی؟ پھر پرچے پکڑ کر اسے کچھ سمجھاتے رہے۔پھر پوچھا کوئی پلس ملا۔

بچے نے نہیں کہا تو کہنے لگے، بیٹا، مقابلے کا دور ہے، ہمت کرو۔اتنا تو کرو کہ ایک آدھ پلس تمہارے حصے میں آ جائے۔بچے نے سر جھکا کر اچھا کہا اور واپس اپنی سیٹ پر چلا گیا۔ یوں بچے باری باری آتے اور وہ ان سے بات چیت کرتے، سمجھاتے اورا نہیں پوچھتے کہ اس مہینے میں کوئی پلس ملا کہ نہیں؟ کچھ بچے ایسے آئے کہ جنہوں نے تین یا چار پلس سمیٹ رکھے تھے۔ ان سے اگلا سوال تھا کہ سفید ہیں یا کالے؟ سب سے پہلے جس بچے نے چار پلس اور وہ بھی سفید بتائے،اسے ساتھ لے کر کھڑے ہو گئے۔ ساری کلاس کو بتایا کہ یہ بچہ اقبال پلس، پلس پلس پلس ہے۔ مَیں بھی اسے سیلیوٹ کر رہا ہوں، آپ سب بھی کرو۔ سب بچوں نے اسے سیلیوٹ کیا اور پھر مجھے بتانے لگے کہ اقبال ہمارے سکول کا ہونہار طالب علم تھا۔ پچھلے سال بورڈ میں فسٹ آیا تھا۔ میری خواہش ہے کہ آج میرے سارے بچے اقبال سے بہتر ثابت ہوں۔ یہ بچہ جس نے چار پلس لئے ہیں، یہ اقبال پلس، پلس پلس پلس ہے۔یہ سب اس کی حوصلہ افزائی کے لئے ہے، یقیناً بہت بہتر کارکردگی دکھائے گا۔

بہت سے بچے جن کے ایک یا دو سفید پلس تھے، انہیں استاد محترم نے تھپکی دی اور مزید بہتری کا کہا۔ وہ جب جانے لگتے تو استاد محترم اعلان کرتے کہ یہ اقبال پلس ہے اور یہ اقبال پلس پلس ہے۔اتنی تھوڑی سی حوصلہ افزائی بچوں کے لئے بہت بڑا ٹانک تھی، وہ سینہ تان کر واپس اپنی سیٹوں پر جا رہے تھے۔دلچسپ صورت حال اس وقت بنی جب چند بچے کالے پلس کے لفافے ساتھ لائے۔ ایک یا دوکالے پلس والے بچوں کو استادمحترم نے بڑے پیار سے سمجھایاکہ بیٹا اس قدر بری کارکردگی کہ کالا پلس ملے، کتنی بری بات ہے۔ ان بچوں کی خاصی حوصلہ افزائی کی اور وعدہ لیا کہ آئندہ وہ بچے بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔ بچے کے واپس جانے پر میرا پلس بیٹا بھی کہا۔جو بچے تین اور چار کالے پلس والے آئے،ان سے بات کرتے ہوئے استاد محترم کی آنکھوں میں واقعی آنسو نظر آئے،لگتا تھا انہیں شدید دکھ پہنچا ہے۔ انہیں کہہ رہے تھے کہ بیٹا، چار پلس اور وہ بھی کالے۔ یہ تو تم نے میرے چہرے پر بھی کالک مل دی ہے۔ لوگ سنیں گے تو کیا کہیں گے کہ کس نالائق کا شاگرد ہے۔

تمہارے والدین کیا سوچیں گے، بیٹا مجھے تو شرم آ رہی ہے۔ کل سے چھٹی کے بعد آدھ گھنٹہ یہیں کلاس روم میں میرے ساتھ بیٹھ کر پڑھوگے۔ ماشا اللہ تم ان بچوں سے کم ذہین نہیں، بلکہ بہتر ہو، پھر یہ کارکردگی کیوں؟اب ساری کسر پوری کرنا ہے، اگلے مہینے کلاس میں فسٹ آنا ہے۔بچہ کچھ نادم تھا، اس نے وعدہ کیا آئندہ کوشش کرے گا کہ وہ کلاس میں فسٹ آئے۔یہ کھیل کافی دیر چلنے کے بعد ختم ہوا تو مَیں نے اجازت چاہی اور جاتے جاتے پوچھا کہ استاد محترم ہونہار بچوں کو پلس تو سمجھ آتا ہے، مگر نالائقوں کو پلس کچھ سمجھ نہیں آیا۔ جواب ملا، یہ سب میرے بچے ہیں،ان کی دل آزاری کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ میرا فرض سب کی حوصلہ افزائی او ر ان سے بہتر کارکردگی کی امید رکھنا ہے۔آپ استاد ہوں، ٹرینر ہوں یا ٹیم لیڈر، آپ کو اپنی اسی ٹیم ہی سے کام لینا ہوتا ہے، اس لئے ہر حال میں ان کی حوصلہ افزائی کرو۔کالے پلس والوں کو خوبصورت انداز میں تھوڑا شرمندہ کر کے بہتری کی امید رکھو،اللہ بہتر کرے گا۔

پھر بتانے لگے کہ ریاضی دنیا کا سب سے خوبصورت مضمون ہے۔یہ آسان ترین اور دلچسپ ترین مضمون ہے۔ دنیا کا کوئی سائنسی علم ایسا نہیں جو اس کی مدد کے بغیر مکمل ہو، اسی لئے کہتے ہیں کہ ریاضی سائنسی علوم کی ماں ہے۔ یہ ایک کھیل ہے۔ دنیا کے ہر کھیل میں ریاضی کا عمل دخل ہے۔ کمپیوٹر کی کھیلیں،جوآج دنیا بھر میں بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہیں،ان سب کے بارے میں جان لیں کہ ہر کمپیوٹر کھیل کی اساس اسی پر ہے۔ ریاضی کو سمجھنا اور سمجھ کر استعمال کرنا انسان کو تفریح، خوشی اور مسرت سے ہم کنار کرتا ہے۔اسے سمجھنا بہت آسان ہے، بشرطیکہ سمجھانے والے کو اس پر عبور ہو۔جو سمجھتے ہیں، وہ اس کا بھر پور استعمال کرتے اور لوگوں کو اس کے کمالات سے روشناس کرتے یا لوگوں کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ریاضی میں چار بنیادی عمل ہیں …… جمع، نفی، ضرب اور تقسیم……دنیا کے ہر عمل میں کہیں جمع،کہیں نفی، کہیں ضرب اور کہیں تقسیم کا کچھ نہ کچھ کمال نظر آتا ہے۔ اس سارے عمل میں راز کی بات یہ ہے کہ عام طور پر ریاضی کے اساتذہ جمع اور ضرب کی بات کرتے ہیں۔ نفی اور تقسیم کی بات نہیں ہوتی، کیونکہ نفی کا مطلب ہے کسی عدد میں منفی عدد جمع کرنا اور تقسیم کا مطلب ہے کسی عدد کو اس کے الٹ عدد سے ضرب دینا۔

جیسے دس نفی چار کا مطلب ہے…… دس جمع منفی چار 10- 4 = 10 + (-4)} = 6 { اب ہے نا یہ راز کی بات ہے کہ جمع کی جانے والی چیز مثبت ہے یا منفی۔ لوگ تاثر مثبت ہی کا لیں گے۔ جیسے ہمارے وزیر اعظم نے کیا ہے، وسیم اکرم کو آئیڈیل بنایا ہے۔ اگر وسیم اکرم میں بہت سی نا اہلیاں جمع کر دی جائیں تو چاہے وہ بہت منفی ہو جائے، ریاضی دان اسے ہر صور ت میں مثبت ہی مانیں گے اور ریاضی کی زبان میں وہ وسیم اکرم پلس ہی کہلائے گا۔ لگتا ہے ریاضی کی بات کسی نے وزیراعظم کو بتا دی تھی۔ اب وہ اپنے نامزد وزیراعلیٰ عثمان بزدارکو پورے زور و شور کے ساتھ وسیم اکرم پلس کہتے ہیں۔ لوگوں کے نزدیک وہ وسیم اکرم پلس،پلس، پلس۔ پلس ہیں، بلکہ بقول استاد محترم کالک ہیں،جو تحریک انصاف کے چہرے پر بڑی نمایاں ہے، مگر حوصلہ افزائی بڑی ضروری ہے۔ مَیں نے ہنس کر پوچھا، استاد محترم عمران خان بھی آپ کے شاگرد لگتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...