ٹوینٹی ٹوینٹی

ٹوینٹی ٹوینٹی
ٹوینٹی ٹوینٹی

  



کرکٹ کے کھیل میں سب سے مختصر فارمیٹ ٹوینٹی ٹوینٹی کا ہوتا ہے۔اس میں دونوں ٹیمیں صرف بیس بیس اوور کھیلتی ہیں اور میچ تین ساڑھے تین گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ بہت سال سے پاکستان ٹوینٹی ٹوینٹی کرکٹ میں آئی سی سی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے، یعنی سب سے مختصر دورانیہ کی کرکٹ میں پاکستانی ٹیم دُنیا میں سب سے بہتر ہے۔ موجودہ حکومت کی کارکردگی دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ بھی مختصر دورانیہ کی ٹوینٹی ٹوینٹی حکومت ہے۔کسی بھی شعبے میں اس کے جم کر کھڑا ہونے کی صلاحیت نظر نہیں آتی، اس لئے بہت مشکل ہے کہ یہ ٹیسٹ میچ کی طرح لمبی اننگ کھیل سکے، لگتا ہے کہ یہ ٹوینٹی ٹوینٹی کی طرح چھوٹی اننگ ہی کھیلے گی۔ یہ پہلی حکومت ہے، جس کی پشت پر اسے لانے والے تمام ادارے پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اسے ہر طرح کا تحفظ اور سپورٹ دے رہے ہیں۔ اسی طرح یہ پہلی حکومت ہے، جس میں دیوار سے لگی اپوزیشن،صرف اپنے آپ کو جیلوں میں جانے سے بچانے پر لگی ہوئی ہے۔ ایسے یکطرفہ اور بیٹنگ کے لئے سازگار ماحول میں حکومت کو بہت اچھی بیٹنگ کرنی چاہئے تھی، لیکن ناقص ترین کارکردگی کی سب سے بڑی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ ان میں حکومت چلانے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، ورنہ ایسا ”واک اوور“ اس سے پہلے کبھی کسی حکومت کو نہیں ملا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے قریبی ذاتی دوستوں کو اہم عہدوں پر لگایا ہوا ہے، جس کی وجہ سے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں سے زیادہ ان کے ذاتی دوستوں اور فنانسرز کے پاس ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی منتخب حکومت ہے، جس کی وفاقی کابینہ میں غیر منتخب لوگ 40 فیصد سے بھی زائد ہیں۔ دو اہم صوبوں …… پنجاب اور پختونخوا…… جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،یہ دونوں صوبے انتہائی غیر موثر وزرائے اعلیٰ کی وجہ سے گورننس فیلیور کی بدترین مثال بن چکے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کو کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے کہ ان پر عثمان بزدار جیسا نا تجربہ کار اور نااہل وزیراعلیٰ مسلط کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے پاس کسی بھی شعبے میں کوئی ہوم ورک یا پروگرام نہیں تھا، صرف بلند بانگ دعوے تھے۔ ایک کروڑ نوکریاں ہوں،پچاس لاکھ گھر ہوں،معیشت، برآمدات، زراعت، صنعت، تعلیم، صحت، انسانی ترقی، روزگار، وغیرہ وغیرہ…… کسی بھی چیز کے لئے کوئی تیاری نہیں تھی۔ صرف بڑی بڑی باتیں تھیں، کھوکھلے دعوے اور جھوٹے وعدے تھے، غیر شائستہ لب و لہجہ اور مخالفین کے خلاف بھرپور انتقامی جذبے تھے۔

عمران خان نے حکومت ملنے کے بعد عوام کی حالت سدھارنے کی بجائے صرف انتقامی سیاست پر توجہ دی اور اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے لئے بہت سے اپوزیشن رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں جیل بھیج دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ مقدمات جھوٹے ہونے کی وجہ سے ایک ایک کر کے ان اپوزیشن رہنماؤں کی ضمانتیں ہو رہی ہیں اور وہ جیلوں سے باہر آ رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر عمران خان انتقام کی بجائے مثبت مائنڈسیٹ کے ساتھ حکومت شروع کرتے،جھوٹے مقدمات کی بجائے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلتے اور عوام کی بہتری کے لئے قانون سازی کرتے۔ اپوزیشن کو بائی پاس کرکے صرف آرڈی ننسوں کے ذریعے حکومت کرنا سیاسی طور پر ایک وقتی اور محدود آپشن ہے، لیکن لانگ ٹرم میں اس کے نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ سیاسیات کا ایک ادنیٰ سا طالب علم بھی یہ بات جانتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں جمہوریت کی گاڑی کے پہئے ہوتے ہیں، اپوزیشن کا پہیہ نکال دینے سے گاڑی کا چلنا ناممکن ہوتا ہے۔ ڈیڑھ سال تک انتقام کے جذبے میں سرشار ہو کر عمران خان نے اپوزیشن کے بغیر حکومت چلانے کی ناکام کوشش کی، لیکن ہونا وہی تھا، جو ہوا کہ وہ حکومت چلانے کے معاملات میں بُری طرح ناکام ہوئے۔

اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ عمران خان اپنی طبیعت میں منتقم مزاج ہیں اور دوسری وجہ شائد اس سے بھی اہم ہے کہ وہ کرکٹ کے کھلاڑی تھے اور ان کی سیاسی گرومنگ ہوئی ہی نہیں تھی۔ عوام میں کرکٹ کی وجہ سے اپنی مقبولیت کو انہوں نے سیاسی مقبولیت کے لئے استعمال ضرور کیا، لیکن بنیادی سیاسی ذہن سازی اور تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ سیاسی طور پرمشکلات میں گھر گئے ہیں ……پی ٹی آئی حکومت کی گورننس فیلیور کے بعد سب سے زیادہ نا اہلی معیشت کے شعبے میں نظر آتی ہے،ڈیڑھ سال کے بعد بھی حکومت کے پاس معیشت کو درست طریقے سے چلانے کے لئے پروگرام نظر نہیں آتے۔ کچھ عمران خان کے اپنے غلط اندازے تھے کہ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی ان کے اتنے بڑے پرستار ہیں کہ ان کے وزیراعظم بننے کے بعد یورپ، امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں آباد پاکستانی ڈالروں کی بارش کر دیں گے۔ ان کا یہ اندازہ خوش فہمی ثابت ہوا اور بیرونی ترسیلات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔ دوسرے یہ کہ بار بار کی اپیلوں کے باوجود بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات قانونی ذرائع کی بجائے بدستور زیادہ مقدار میں ہنڈی سے ہی آ رہی ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بینک لوگوں کو وہ سہولتیں فراہم نہیں کر پا رہے کہ لوگ ہنڈی کی بجائے بینکوں سے پیسے بھیجنے میں آسانی محسوس کریں۔دوسرے ملکوں میں آباد پاکستانی بہت محب وطن ہیں اور وہ ملک کی مدد کے لئے قانونی ذرائع سے رقومات بھیجنا بھی چاہتے ہیں، لیکن انہیں وہ سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں،جن سے وہ اس طرف راغب ہو سکیں۔

سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے گیارہ جنوری کو کہا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے آنے والی رقومات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا یہ اعتراف وزیراعظم عمران خان کی یہ خوش فہمی دور کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان کے کہنے پر لوگ پیسے قانونی ذرائع سے بھیجنا شروع کر دیں گے۔ لوگ یقینا قانونی ذرائع سے پیسے بھیج سکتے ہیں، لیکن اس کے لئے حکومت کو آسانی بہم پہنچانے والی پالیسیاں بنانا پڑیں گی، محض کہہ دینے اور اپیل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے وقت ایف بی آر کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ٹارگٹ چار ہزار ارب روپے تھا۔ عمران خان بہت تواتر سے کہتے تھے کہ اگر حکمران ایماندار ہو تو زیادہ لوگ ٹیکس دیں گے اور اگر وہ اقتدار میں آگئے تووہ اس کادوگنا یعنی آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا کر کے دکھائیں گے۔ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا ٹارگٹ چار ہزار ارب کی بجائے ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے رکھا۔ اب آدھے سے زیادہ سال گزر چکا ہے اور اب تک کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ہونے والااضافہ معمولی ہو گا۔

فی الحال تو چیئرمین ایف بی آر مبینہ طور پر ”رخصت“ پر گئے ہوئے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ دو ہفتوں بعد ان کی واپسی ہوتی ہے یا نہیں؟……یہ بھی وہی کیس ہے کہ لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنے والی پالیسیاں بنانے کی بجائے پرانے گلے سڑے نظام سے ہی بہتری کی توقع رکھی گئی تھی، ٹیکس گزاروں کو سہولیات پہنچانے والی اصلاحات لائے بغیر ٹیکس کلیکشن زیادہ نہیں ہو گی۔ صرف اس بات پر ٹیکس کلیکشن میں اضافہ نہیں ہو گا کہ وزیراعظم ”بہت ایماندار“ ہے۔ بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات ہوں یا ٹیکس کے ٹارگٹ، ان میں بہتری مثبت پالیسیوں اور لوگوں کو سہولت اور آسانی دینے سے آئے گی۔ صرف اپیلوں، توقعات اور کرکٹ سٹارڈم سے کچھ نہیں ہو گا۔ آئی ایم ایف میں جانے کے بعد عوام چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روز گاری نے حقیقی معنوں میں عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ اس ڈیڑھ سال میں بجلی کی قیمتوں میں سولہ سترہ بار اضافہ کیا جا چکا ہے، گیس کئی گنا اور پٹرول کی قیمتیں تاریخ میں سب سے بلند سطح پر پہنچنے کی وجہ سے مہنگائی تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں اپوزیشن کو کچھ کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ عمران خان بقلم خود، ان کی نا اہل ٹیم اور آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط ہی سب سے بڑی اپوزیشن ہیں۔

اسلام آباد اور لاہور کے ڈرائنگ روموں میں یہ بحث بہت عام ہے کہ ٹوینٹی ٹوینٹی الیکشن کا سال ہے۔ویسے تو اس حکومت کا مینڈیٹ 2023ء تک اقتدار میں رہنے کا ہے، لیکن کیا کیا جائے کہ حکومت کے جو حالات ہیں، اس حساب سے تو اس کا اتنی لمبی اننگ کھیلنا مشکل لگ رہا ہے۔ عمران خان کو منتخب کرنے اور ووٹ دینے والوں میں بھی یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ حکومت چلانا کرکٹ کے کھلاڑی کے بس کی بات نہیں ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں عوام کی حالت تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ پاکستان میں جہاں ایک طرف مہنگائی کا بیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے، وہاں دوسری طرف لاکھوں لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے۔ بُرے حالات کی وجہ سے خود کشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے…… عمران خان نے یہ ڈیڑھ سال صرف اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے میں گزارا ہے۔ اس کی بجائے اگر وہ معیشت اور گورننس پر توجہ دیتے تو لوگوں کے حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔ عوام کو ریلیف دینے کے اعتبار سے پی ٹی آئی حکومت ہماری تاریخ کی ناکام ترین حکومت ثابت ہوئی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں کسی حکومت کے اقتدار میں آنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کے پاس پانچ سال کی گارنٹی ہے۔

دُنیا بھر کی جمہوریتوں کی تاریخ مڈ ٹرم الیکشنوں سے بھری پڑی ہے، خاص طور پر ایسی حکومت جسے اتحادیوں کے بغیر ایوان میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہ ہو، ایک اقلیتی حکومت جو نااہل اور بغیر پالیسیوں کے چلائی جا رہی ہو اور اس میں ذاتی دوست یار کلیدی عہدوں پر تعینات ہوں، ایسی حکومت کے لئے اپنی مدت پوری کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر ڈرائنگ روموں کی بحثوں میں ٹوینٹی ٹوینٹی الیکشن کا سال قرار دیا جا رہا ہے تو اسے سیاسی میرٹ پر دیکھنا چاہئے، اس میں سازش کا پہلو تلاش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسی ٹوینٹی ٹوینٹی حکومتوں کا اختتام ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔آرمی ترمیمی ایکٹ میں اپوزیشن کی اعلانیہ اور غیر مشروط حمایت کے بعد اب صرف عمران خان ہی لاڈلے کا سٹیٹس انجوائے نہیں کریں گے،انہیں اس میں شراکت دار برداشت کرنا پڑیں گے اور اپنی حکومت کو انتقام کی بجائے ڈلیوری سے چلانا پڑے گا،اگر وہ ڈلیور کرنے میں بدستور ناکام رہتے ہیں اور عوام کی چیخیں مزید بلند ہوتی ہیں تو میرے حساب سے ٹوینٹی ٹوینٹی ہی الیکشن کا سال ہوگا۔

مزید : رائے /کالم


loading...