سائبر وار فیئر کی چند مبادیات

سائبر وار فیئر کی چند مبادیات
سائبر وار فیئر کی چند مبادیات

  



گزشتہ بدھ وار(8جنوری2020ء) یوکرائن کا ایک ہوائی جہاز(بوئنگ737) تہران سے کیف (Kiev)جا رہا تھا کہ ٹیک آف کے چند منٹ بعد تہران کے نواح میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اس میں 176مسافر سوار تھے، جن میں 82 ایرانی، 63کینیڈین،11یوکرائنی،10 سویڈش، 4افغانی، 3جرمن اور3برطانوی شہری شامل تھے۔ یہ تفصیل اس لئے لکھ رہا ہوں کہ ان سب ممالک نے ایران سے احتجاج کیا ہے کہ ان کے باشندوں کا جانی نقصان طیارے میں کسی تکنیکی خرابی کی بنا پر نہیں ہوا، بلکہ اس بوئنگ737 کو ایران نے خود ایک میزائل مار کر تباہ کر دیا تھا۔

یوں تو طیاروں کے حادثے ہوتے رہتے ہیں،لیکن اس حادثے میں جو جانی نقصان ہوا اس کے ڈانڈے سائبر وار فیئر (Cyber Warfair) سے ملے ہوئے ہیں۔ یہ سائبر وار کیا ہوتی ہے، اس کے مزید مضمرات کیا ہو سکتے ہیں اور پاکستان اس جدید ترین طریقہئ جنگ و جدل میں کس مقام پر کھڑا ہے، ان امور پر قارئین کو کچھ آگاہی دینا مقصود ہے۔

سب سے پہلے تو اس امر پر غور کیجئے کہ حادثے کے فوراً بعد ایرانی حکام نے یہ بیان دیا تھا کہ طیارہ متعدد ”تکنیکی خرابیوں“ کے بعد اور ان ہی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا۔لیکن جب کینیڈا اور برطانیہ کے وزرائے اعظم کے علاوہ امریکی حکام نے بھی ایران پر الزام لگایا کہ اس نے یہ طیارہ عمداً مار گرایا ہے تو ایرانی حکام اپنے پہلے بیان سے منحرف ہو گئے۔اب ایرانی صدر جناب حسن روحانی نے تسلیم کر لیا ہے کہ طیارہ ایرانی میزائل فورس کے عملے کی غلط فہمی کی وجہ سے تباہ ہوا۔اس اعتراف پر اب تک فی الحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ایرانی صدر نے مرنے والوں کے لواحقین سے معافی بھی مانگی ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ یہ سانحہ ”جنگ کی دھند“ کے باعث پیش آیا اور یہ دھند (Fog of war)ان ایرانی میزائل حملوں کے چند گھنٹے بعد پیدا ہوئی جو ارابیل اور الاسد نامی عراقی چھاؤنیوں پر کئے گئے تھے۔ان دونوں عراقی چھاؤنیوں میں ہزاروں امریکن ٹروپس اور متعلقہ سازو سامانِ جنگ بھی موجود تھا۔ دوسرے لفظوں میں ایرانی حکومت یہ استدلال کر رہی ہے کہ غلطی سے اس سویلین طیارے کو ایک فوجی طیارہ سمجھ لیا گیا اور باور کر لیا گیا کہ امریکہ، ایرانی حملوں کے جواب میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کر رہا ہے…… جس جگہ یہ طیارہ گرا اس کے نزدیک واقعی ایرانی جوہری تنصیبات موجود تھیں لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایرانی راڈار کی سکرینوں پر اس بوئنگ کے جو دستخط (Signature) آ رہے تھے، وہ کسی جنگی طیارے کے تھے؟…… اس کا جواب نفی میں ہو گا، کیونکہ بوئنگ737 کے حجم اور اس کی رفتار وغیرہ جو ایرانی راڈاروں پر نظر آ رہی ہو گی وہ نقوش ہر گز ایسے نہیں ہوں گے کہ ان کی شناخت اور پہچان کے سلسلے میں ایرانی میزائل فورس کے عملے کو غلط فہمی پیدا ہوئی اور انہوں نے طیارے کو مار گرایا۔

میرے اندازے کے مطابق ایران نے جب اپنا پہلا بیان جاری کیا تھا تو اُس وقت بھی ایرانی حکام کو معلوم تھا کہ اس کی گراؤنڈ میزائل فورس نے یہ ”کارنامہ“ انجام دیا ہے۔طیارہ گرنے کے فوراً بعد تباہ شدہ ڈھانچے کو وہاں سے کسی اور جگہ منتقل کر دیا گیا تھا۔اس کا صرف ایک جلا ہوا انجن اور ایک وِنگ میڈیا پر دکھائے گئے اور اس ایرانی اعتراف کے بعد ان کی تصاویر بھی میڈیا پر جاری کر دی گئیں۔ایران کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے جائے حادثہ سے ملبہ صاف کرنے کا عذر یہ پیش کیا ہے کہ اس کریش کی تحقیقات کرنے کے لئے یہ کارروائی ضروری تھی۔اب اس حادثے کی تحقیقات شروع ہو چکی ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ اس میں دو ہفتوں سے لے کر دو مہینے تک لگ سکتے ہیں۔امریکہ کی طرف سے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے حادثے کے بعد ایک دوسرا حادثہ اس وقت پیش آیا جب مرحوم جنرل کا جنازہ تدفین کے لئے ان کے آبائی شہر کرمان کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ ہزاوں افراد کے اس جلوس میں بھگدڑ مچ گئی اور درجنوں شہری مارے گئے اور بیسیوں زخمی ہو کر ہسپتال جا پہنچے…… اس سلسلے کا یہ تیسرا حادثہ اس طیارے کے سقوط کی صورت میں پیش آیا،جس میں 176 مسافر مارے گئے۔ان میں بھی82 ایرانی شامل تھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایرانی جانی اتلاف کی تعداد سینکڑوں تک جا پہنچی ہے، جبکہ دوسری طرف امریکیوں کا کوئی سویلین یا فوجی فرد نہیں مارا گیا۔ جوں جوں وقت گزرے گا اس حادثے کی تفصیلات منظر عام پر آتی رہیں گی،لیکن قارئین کو ان معمول کی تفصیلات کے علاوہ ایک اور طرف بھی توجہ دینی چاہئے…… میری مراد سائبر وار فیئر سے ہے۔

جنرل سلیمانی کے مارنے جانے سے لے کر ایرانی میزائل حملوں اور پھر اس بوئنگ کے کریش کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا جو پہلو جڑا ہوا ہے وہ اس جدید مظہرِ جنگ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جس پر بہت کم ممالک کی رسائی ہے،بلکہ رسائی کو چھوڑیں اس کی شناسائی بھی معدودے چند ممالک کو ہے۔

گوگل پر جا کر دیکھیں تو آپ کو ”سائبر وار فیئر“ کی ایسی جانکاری ملے گی کہ اس کو سمجھنے کے لئے گہرے تکنیکی تفکر کی ضرورت ہو گی اور جیسا کہ مَیں نے پہلے عرض کیا اس”تفکر“ کی است و بود کا علم بھی ہمارے قارئین میں خال خال پایا جاتا ہے۔ یہ سائبر وار فیئر بھی ففتھ جنریشن وار فیئر کا ایک حصہ ہے،اس کو جدید عسکری اصطلاح میں ”انفرمیشن وار فیئر“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سائبر اور یہ انفرمیشن فضا کے دوش پر سفر کرتی ہے اور ننگی آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ یہ ایک طرح کا سافٹ ویئر ہے،جس کے اثرت دیکھے تو جا سکتے ہیں، ان کو کسی ٹھوس شکل میں ہاتھ سے ٹچ نہیں کیا جا سکتا۔کمپیوٹر کی اصطلاح میں نظر آنے والے محسوس مواد کو ”ہارڈ ویئر“ اور نظر نہ آنے والے مواد کو سافٹ ویئر کہا جاتا ہے۔…… یہی نظر نہ آنے والا مواد (Soft ware) نظر آنے والے مواد (Hard ware) سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔یعنی محسوس اسلحہ جات کے مقابلے میں یہ غیر محسوس اسلحہ(سائبر) بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔

آپ نے یہ تو اکثر سنا ہو گا کہ کمپیوٹر میں وائرس آ گیا ہے اور اس وجہ سے اس کی آؤٹ پٹ کرپٹ ہو گئی ہے،لیکن اگر سوال یہ ہو کہ یہ وائرس کیا بَلا ہے، کس طرح کمپیوٹر ڈیٹا کو کرپٹ کرتا ہے، اس کو صاف کیسے کیا جاتا ہے، اس کو کرپٹ کرنے والے لوگ کون ہیں، ویب سائٹس(Web-sites) ہیک (Hack) کیسے کر لی جاتی ہیں، ہیکرز یہ کام کس کارخانے یا ورکشاپ میں بیٹھ کر کرتے ہیں اور ایسا کرنے کے لئے ان کے اساسی(Basic) آلات اور اوزار (Tools) کیا ہیں، تو ان سوالوں کا جواب دینا بہت مشکل ہو جائے گا……اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہیں اور ”سائبر وار فیئر“ کی تعریف (Definition) پر نظر دوڑاتے ہیں تو وہ اس طرح کی جاتی ہے:”سائبر وار فیئر، جدید ٹیکنالوجی کا وہ استعمال ہے جو کسی بھی ملک کے خلاف حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ حملے اثر انگیزی میں ان حملوں کے مساوی ہوتے ہیں جن کو عرفِ عام میں کائی نیٹک حملے کہا جاتا ہے“۔ ان دونوں طریقہ ہائے جنگ میں (کائی نیٹگ وار فیئر اور سائبر وار فیئر) دشمن کا جو نقصان ہوتا ہے وہ جانی بھی ہو سکتا ہے اور مالی بھی۔ آج جن ممالک کے پاس سائبر وار فیئر کا علم و ہنر موجود ہے ان میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، اسرائیل، انڈیا، ایران اور شمالی کوریا پیش پیش ہیں۔اس فہرست پر نظر ڈایں تو اس میں جو مشترک عنصر نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ممالک یا تو باقاعدہ جوہری قوتیں ہیں یا کسی نہ کسی پیمانے پر جوہری اور میزائل قوت بن جانے کی تگ و دو میں شامل ہیں۔

صرف فرانس اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں،جن کے پاس اگرچہ سائبر وار فیئر کا کوئی قابل ِ ذکر انفراسٹرکچر موجود نہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آنے والے کل میں بھی یہی صورتِ حال باقی رہے گی۔فی الحال سائبر وار فیئر کے سلسلے میں پاکستان کے پاس کوئی ایسی قابل ِ ذکر اساس موجود نہیں جسے کسی طرح کی اہمیت دی جا سکے۔مَیں نے جن واقفانِ حال سے اس سلسلے میں بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سائبر وار کی تھریٹ (Threat) کوئی خیالی تھریٹ نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرہ ہے۔ہمارے دائیں ہمسائے (انڈیا) اور بائیں ہمسائے(ایران) میں سائبر وار فیئر پر بہت سا کام ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔

ایران نے ارابیل اور الاسد نامی مستقروں پر حال ہی میں جو میزائل حملے کئے اور ان میں 22 میزائل فائر کئے تھے تو ان حملوں میں سائبر سے متعلق ٹیکنالوجی کو بھی استعمال کیا۔پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس سائبر حملوں کا دفاعی میکانزم تو ایک قابل ِ لحاظ حد تک موجود ہے لیکن جارحانہ میکانزم موجود نہیں یا (شائد) وہ اس جارحانہ میکانزم کو ڈویلپ کرنے کے پراسس سے گزر رہا ہے۔

سائبر وار فیئر کی مائیکرو تفصیلات کو سمجھنے کے لئے اس امر پر بھی غور فرمایئے کہ جدید ترین سلاحِ جنگ (جن میں جوہری اور میزائل اسلحہ جات بھی شامل ہیں) میں کمپیوٹر کا استعمال عام ہے۔آپ اگر کوئی طیارہ اڑا رہے ہیں تو اس کے کاک پٹ پر آپ کے سامنے، دائیں بائیں اور سر کے اوپر بہت سے بٹن لگے ہوئے،ان کو دبانے سے طیارے کے آپریشن میں فوراً مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔یہ سب بٹن جس ہارڈویئر میں نصب ہیں ان کے ساتھ سافٹ ویئر بھی موجود ہے۔اگر آپ کی رسائی اس سافٹ ویئر تک ہے اور آپ اس کو کرپٹ بھی کر سکتے ہیں یا ہیک کر سکتے ہیں تو اندازہ کیجئے آپ کو کس خطرناک ماحول کا سامنا ہے۔آج تقریباً تمام بھاری جنگی ہتھیاروں میں کمپیوٹر استعمال ہو رہے ہیں اور ان کے ساتھ سافٹ ویئر بھی منسلک ہیں اور ان سافٹ ویئر بنانے والوں نے اگرچہ اینٹی ہیکنگ ڈیوائس بھی لگائی ہوتی ہیں اس لئے ان کو آسانی سے نہ کرپٹ کیا جا سکتا ہے اور نہ ان میں داخل ہو کر اس کے ایکشن کو روبہ تغیر کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے اکثر کسی بینک میں یا کسی اور ادارے (مثلاً ریلوے سٹیشن یا ائر پورٹ) وغیرہ میں جا کر سنا ہو گا کہ ”سسٹم ڈاؤن“ ہے…… اس کا مطلب کیا ہے؟…… اس کا یہی مطلب ہے کہ سسٹم میں یا تو کوئی وائرس آ گیا ہے یا کسی بھی اور وجہ سے وہ ٹھیک کام نہیں کر رہا……اگر یہی وائرس کسی اُڑتے طیارے، برسر جنگ ٹینک، آبدوز یا میزائل میں ڈال دیا جائے تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

سطور بالا میں جن ممالک کا نام لیا گیا ہے کہ ان کے پاس سائبر وار فیئر کا انفراسٹرکچر(کسی نہ کسی حجم یا حد تک) موجود ہے تو آنے والے کل میں اس فن میں مزید ڈویلپمنٹ بھی متوقع ہے اور اس ڈویلپمنٹ کا کاؤنٹر بھی متوقع ہے تو یہ دوڑ ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ ہے۔ سائبر ٹیکنالوجی کا مبلغِ علم جن ممالک کے پاس ہے ان کی تعداد اگر آج کم ہے تو آنے والے کل میں اس میں اضافہ ہو سکتا ہے (بلکہ یقینا ہو گا) اگر ایسا ہونا نوشتہ ئ دیوار ہے، اس آنے والے وقت میں انسان کیا کرے گا؟ آج اگر کوئی فرد یا افراد ایسا سافٹ ویئر بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو بڑے بڑے ممالک کی وار مشینری کو کرپٹ کرنے کا اہل ہے تو کیا اس مشینری کی کارکردگی کی تاثیر معرضِ خطر (Vulneradle) میں نہیں جا پڑے گی؟……

اس موضوع پر مزید لکھنے کو جی چاہتا ہے لیکن کالم کی تنگ دامانی حائل ہے۔ انشاء اللہ اگلے کسی کالم میں اس سلسلے میں مزید بات کریں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...