ووٹ کی عزت اور این آر او

ووٹ کی عزت اور این آر او
ووٹ کی عزت اور این آر او

  



ووٹ کو عزت وزیر اعظم کے الیکشن یا چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ملی یا اب آرمی ایکٹ میں ترمیم کے وقت حاصل ہوئی، یہ سوال قوم کے ہر باشعور شہری کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ وزیر اعظم کے انتخاب کے وقت تقریباً پونے دو سو ووٹ حق میں آئے، چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ہونے والی رائے شماری میں حکومتی اتحاد کو حاصل عددی قوت سے 18 ووٹ زیادہ ملے، یہ ووٹ ن لیگ کے باغی ارکان سینٹ کے تھے یا پیپلزپارٹی کے، دونوں جماعتیں اس بارے میں آج چار ماہ گزرنے کے بعد بھی کوئی فیصلہ نہ کر سکیں۔ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے سنیٹرز کا سراغ لگانے کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیاں بھی قائم کی گئیں، پیپلزپارٹی کی کمیٹی نے رپورٹ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے حوالے کی جو اب تک ان کے قبضہ میں ہے جبکہ ن لیگ کی کمیٹی کے سربراہ رانا مقبول نے رپورٹ اب تک پارلیمانی پارٹی کے سپرد نہیں کی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق رانا مقبول نے اس حوالے سے رپور ٹ شہباز شریف کے سپر د کر دی جو انہوں نے اب تک دبا رکھی ہے۔

آرمی ایکٹ میں ترمیم پر رائے شماری کے نتائج سوا تین سو ووٹ حق میں آئے، ووٹ کو عزب کب اور کس کس نے دی یہ سوال اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری یا مدت ملازمت میں توسیع وزراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ ماضی میں بھی وزیر اعظم کی سفارش پر سپریم کمانڈر صدر مملکت آرمی چیف کو توسیع دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے رہے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ادوار میں بھی یہ روایت دہرائی گئی۔ ن لیگ نے تو جنرل ضیاء الحق کی بار بار توسیع کی بھرپور حمایت کی، لیکن موجودہ آرمی چیف جن کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع روایت کے مطابق کی گئی پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے وہ گرد اڑائی کہ سرحدی صورتحال اس میں اوجھل ہونے لگی تاہم حکومت بھی پامردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے موقف پر ڈٹی رہی کہ بھارتی ناپاک عزائم، عالمی کشیدگی کشمیر کنٹرول لائن کے بدترین حالات کے تناظر میں آرمی چیف کو توسیع وقت کا تقاضہ تھا۔جماعت اسلامی، جے یو آئی (ف) بلوچ نیشنل پارٹی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور پشتون تحفظ موومنٹ نے ترمیم کی مخالفت کی۔ مخالفت کرنے والوں میں محمود اچکزئی‘ منظور پشتین کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ توسیع بارے ترمیم کی مخالفت غیر ملکی ایجنڈا تھا اور اس حمام میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی ننگے تھے مگر اچانک ان برہنہ لوگوں کی کسی طرف سے لباس کی فراہمی ممکن ہوئی تو اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے ترمیم وتوسیع کی حمایت کی اور ساتھ ہی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ پھر سے بلند کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ ایک اہم حساس قومی معاملہ کی مخالفت کے وقت یہ لوگ غلط یا حمایت کرتے ہوئے غلط ہیں اس کا فیصلہ ان جماعتوں کا ووٹر کرے گا جس کے ووٹ کو عزت دینے کا بیڑا ان جماعتوں نے اٹھایا تھا۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قانون کے ماہر چودھری اعتزاز احسن نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ نوازشریف نے اپنی پارٹی کے 80 ارکان اسمبلی کو فروخت کرکے این آر او لیا اور پیسہ بچا لیا ان کی اس بات میں کس حد تک صداقت ہے۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا مگر سیاسی حالات نشاندہی کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی سطح پر این آر او ہوا ہے رانا ثناء اللہ گاڑی سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہونے کے باوجود ضمانت پر رہا ہوگئے۔ خواجہ سعد رفیق بھائی سلمان رفیق سمیت جلد ضمانت پر رہا ہونیوالے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی بھی حکم رہائی کے منتظر ہیں کہ ان کے ساتھی مفتاح اسماعیل رہائی پا چکے ہیں۔

اب تو نوازشریف‘ شہبازشریف کی لندن روانگی بھی این او آر کا شاخسانہ ہی دکھائی پڑتی ہے اگرچہ نوازشریف کی روانگی طبی بنیاد پر ہوئی مگر شہباز شریف کی روانگی ہضم نہیں ہوتی، نوازشریف سزا یافتہ تھے مگر شہبازشریف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف کرپشن کے خلاف نوازشریف سے زیادہ کیسز ہیں جن میں سے کچھ زیر سماعت ہیں اور کچھ پر انکوائری جاری ہے۔ حمزہ شہباز بھی زیر حراست ہیں ان کیخلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ سمجھا جارہا تھا کہ حمزہ شہباز کا سزا سے بچنا ممکن نہیں مگر اب محسوس ہورہا ہے کہ انہیں بھی پروانہ رہائی مل جائے گا۔ رہ جائیں گی مریم نواز ان کی بیرون ملک روانگی پر قدغن عائد ہے لیکن شنید ہے کہ شہبازشریف رواں ماہ کے آخر تک وطن واپس آرہے ہیں۔ امکان ہے اگر شہباز شریف وطن واپس آگئے تو مریم نواز کا والد کی تیمار داری کے لئے لندن روانگی کی راہ سے رکاوٹ دور ہوجائے گی۔ شہبازشریف کے دوسرے بیٹے سلمان شہباز اور داماد علی عمران بھی نیب کو مطلوب ہیں مگر شاید ان کی فوری وطن واپسی ممکن نہ ہوسکے۔ مریم نواز بھی اگر روانگی کا پروانہ حاصل کرلیتی ہیں تو نوازشریف اور مریم کی جلد وطن واپسی خارج از امکان ہے۔ صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز تو خود کو پاکستانی شہری ہی نہیں کہتے، اس تمام صورتحال میں ضمانتوں اور رہائی کا ملبہ عدلیہ پر ڈالا جارہا ہے جبکہ تفتیشی ادارے خاص طور پر نیب تفتیش کرنے میں سستی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ گواہوں اور ثبوت و شواہد پیش کرنے میں چھ چھ ماہ لگادیئے جاتے ہیں

ان حالات میں عدالتوں کے پاس ضمانت لینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں بچتا اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل نے رضاکارانہ لوٹی رقم کی واپسی، وعدہ معاف گواہ بننے اور ثبوت کا بوجھ ملزم پر ڈالنے کی نیب کی شقوں کو غیر اسلامی قرار دیدیا ہے اور تجویز دی ہے کہ بار ثبوت الزام عائد کرنے والے پر ڈالا جائے اور جو شخص خود کسی جرم میں شریک ہو وعدہ معاف گواہ بننا دراصل اعتراف جرم ہے اور اقبال جرم کے بعد وعدہ معاف گواہ بھی سزا کا حق دار ہے۔ نیب آرڈیننس جسے حکومت نے بڑی شدومد سے جاری کرایا تھا کو بھی حکومت واپس لینے اور اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز کے مطابق ترمیم کرکے اسے پارلیمنٹ سے منظور کرانے پر آمادگی ظاہر کرچکی ہے، نیب آرڈیننس کا تمام فائدہ سیاستدانوں کو ہورہا تھا اس کے باوجود ان کو اعتراض تھا زد میں بیوروکریسی آرہی تھی مگر اسے زبانی کلامی طفل تسلی دے کر خوف و دہشت سے نکال کر کھل کر کام کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے مگر تاحال 3بیوروکریٹس سیاستدانوں کے جرائم کی سزا بھگت رہے ہیں انہیں کئی کئی ماہ بعد بھی ریلیف نہیں ملا، ریفرنس تک دائر نہیں ہوئے صرف پیشیاں ہورہی ہیں ساری دنیا کو خبر ہے کہ صنعت کار، تاجر،درآمد، برآمدکنندگان کی اکثریت سیلز ٹیکس، ڈیوٹی، انکم ٹیکس چوری کرتی اور ریفنڈز کلیم میں کرپشن کرتی ہے مگر ان کو بھی کلین چٹ دے دی گئی ہے، اس منظرنامے میں کون عقل کا اندھا ہے جو ڈیل، ڈھیل یا این آر او کو نظرانداز کردے۔

مزید : رائے /کالم


loading...