معاشی استحکام کیلئے بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کئے جائیں: پیاف

معاشی استحکام کیلئے بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کئے جائیں: پیاف

  



لاہور(کامرس ڈیسک)  چیئرمین پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسو سی ایشنز فرنٹ(پیاف)  میاں نعمان کبیرنے کہا ہے کہ حکومت بزنس کمیونٹی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے اقدامات کرے.۔حکومت مارک اپ کی بلند شرح اور ریفنڈز میں تاخیر کے صنعتوں پر گہرے اثرات کو نظر انداز نہ کرے اور جتنی جلد ممکن ہو سکے  مارک اپ کی شرح سنگل ڈیجٹ کرے۔ اس وقت صنعتوں کیلئے  شرح سود13.25 فیصد ہے صنعتوں کے لئے ان پٹ کاسٹ بھی زیادہ ہے۔ برآمدی صنعتوں کو پہلے ہی  کئی مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ریفنڈز کی ادائیگیوں میں تاخیر اور انرجی کی قیمتیں بڑھنے سے بھی کاروباری برادری میں بے چینی بڑ ھ گئی ہے۔ پیداواری لاگت کے بڑھنے کی وجہ سے انڈسٹریز اور ٹریڈرز کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اگر سٹیٹ بینک مارک اپ کی شرح سنگل ڈیجٹ تک لائے تو اس سے نہ صرف انڈسٹریز کو فائدہ ہو گا بلکہ اسکے واضح مثبت اثرات برآمدات  اور معیشت  پر بھی دیکھے جا سکیں گے۔ اسکے علاوہ نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی اور برآمد کننگان کے ریفنڈز فوی طور پر ادا کرے تاکہ کاروباری برادری کی مشکلات میں کمی آسکے۔چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے سیئنر وائس چیئرمین ناصر حمید اور جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بزنس کمیونٹی اور صنعتوں کے مسائل کو فوری ایڈریس کرے۔ سٹیٹ بینک کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ مارک اپ کی شرح خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پہلے ہی بہت زیادہ ہے جس سے صنعتی شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ زیادہ شرح سود کیوجہ سے معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ اگر زمینی حقائق کو مد نظر نہ رکھا گیا تو نہ صرف صنعت و تجارت کے مسائل مزید بڑھیں گے بلکہ مالی خسارہ بھی بڑھے گا جو کسی طرح بھی ملکی مفاد میں نہیں جس کو توازن میں رکھنا لازمی ہے۔برآمدات میں اضافے کے لئے ریفنڈز بلا تاخیر جاری کیے جائیں اور صنعتی شعبے کے لئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے ۔

مزید : کامرس


loading...