ترشاوہ باغات کی بیماریوں پر قابو پا کر برآمد اد میں اضافہ کیاجا سکتا ہے، محمد نواز میکن

  ترشاوہ باغات کی بیماریوں پر قابو پا کر برآمد اد میں اضافہ کیاجا سکتا ہے، ...

  



لاہوراے پی پی)ترشاوہ باغات کی بیماریوں پر قابو پا کر پاکستان بہترین ترشاوہ پھل برآمداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے،ڈائریکٹر سٹرس ریسرچ انسٹیٹیوٹ سرگودھا نے اے پی پی کو بتایاکہ ملک کسی بھی پھل کی پیداوار کا 20فیصد برآمد ات کرتا ہے وہ بہترین برآمدات والے ممالک میں شامل ہوجاتاہے لیکن گزشتہ سال پاکستانی کنو کی برآمد 3لاکھ 50ہزارمیٹرک ٹن سے زیادہ رہی جو پیداوار کا 15.37 فیصد ہے۔رواں سال پاکستان بھر میں ایک لاکھ 77215ہیکٹر رقبہ پر ترشاوہ پھل کی کاشت کی گئی جس سے 22لاکھ 76ہزار میٹرک ٹن سے زائد پیداوار متوقع ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال صرف کنو کی برآمد 3 لاکھ 50ہزارمیٹرک ٹن رہی۔

 محمد نواز میکننے بتایا کہ  امسال کنو کاکوالٹی فروٹ بہت حوصلہ افزاء ہے اور پھل کے سودے تسلی بخش ریٹ پر ہو رہے ہیں،توقع ہے کہ نہ صرف پاکستانی عوام کو اچھی کوالٹی کا کنو کھانے کو ملے گا بلکہ وطن عزیز کو برآمدات کی صورت میں گزشتہ سال کی نسبت زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ترشاوہ باغات کی اکثر بیماریاں ترشاوہ نرسری سے ہی آتی ہیں، اسلئے ترشاوہ پودے اس نرسری سے حاصل کیے جائیں جو کینکر کی بیماری سے پاک ہوں اور اس بیماری کا باعث بننے والے ویکٹر (لیف مائنر) کو کیمیائی زہروں کے ذریعے کنٹرول کیا جا نا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ترشاوہ پودوں کی نرسری  کے پودوں کا مرجھاؤ کئی اقسام کی پھپھوندی مثلاً فیوزیریم، پیتھیم یا فائٹو فتھورا وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے، ترشاوہ پودوں سے بہتر پیداوار اور بیماریوں سے حفاظت کیلئے قوتِ مدافعت رکھنے والی کھٹی کی اقسام مثلاََسہہ برگہ کرائزو، ٹرائر سٹرینجزاور وولکا میری آنہ پر تیار شدہ پودے اس بیماری کے تدارک کیلئے مو ثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نرسری کی پیوند کاری کا عمل سطح زمین سے کم از کم9 انچ اوپر کیا جائے تا کہ جب تیار شدہ پودے کھیت میں منتقل کیے جائیں تو پیوندی حصہ سطح زمین سے کم از کم 6 انچ اونچارہے، بیماری کے جراثیم پودے میں داخل نہ ہو سکیں اور پودا بیماری سے محفوظ رہے۔انکا کہنا تھا کہ متاثرہ پودوں پر کاپراکسی کلورائیڈ بحساب 3گرام فی لیٹر پانی مارچ اپریل اور ستمبر اکتوبر میں سپرے کرنے سے تنے سے گوند نکلنے اور گلنے کی روک تھام کے علاوہ پھل کے گلنے کی بیماری کے موثر تدارک سے پھل کی پیداوار میں اضافہ ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ بیماریوں کے تدارک کیلئے پودے صرف تصدیق شدہ نرسریوں سے ہی حاصل کیے جائیں جبکہ بیماری پھیلانے والے ویکٹر (سٹرس سِلا) کے تدارک کیلئے موثر زہروں کا سپرے کیا جائے،تصدیق شدہ اور بیماریوں سے پاک پودوں سے پیوندی لکڑی حاصل کی جائے،بیمار پودوں کو ختم کر کے نئے پودے لگائے جائیں، بیماری سے متاثرہ پودوں کے تنوں میں آکسی ٹیٹرا سائکلین کے ٹیکے لگائے جائیں،پیوندی لکڑی کو 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم پانی میں 10منٹ تک بھگو کر رکھنے کے بعد پیوند کیلئے استعمال کیا جائے جبکہ پیوندی اوزاروں کو جراثیم کش کیمیکلز کے محلول میں ڈبو کر رکھنے کے بعد استعمال کیا جائے۔

مزید : کامرس