مقبوضہ وادی، 162ویں روز بھی کرفیو برقرار، پلوامہ میں 3کشمیری شہید، شدید احتجاج 

  مقبوضہ وادی، 162ویں روز بھی کرفیو برقرار، پلوامہ میں 3کشمیری شہید، شدید ...

  



سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) مقبوضہ

 وادی کو جیل میں تبدیل ہوئے 161 روز ہوگئے، ایک ہفتے کے دوران 36 سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ سرینگر میں حریت کانفرنس کے زیر اہتمام طلبہ نے بھارت کے خلاف مظاہرہ کیا۔بھارتی فورسز نے سرینگر، کلگام، بڈگام اور بارہمولا سمیت مختلف اضلاع سے متعدد نوجوانوں کو گھرگھرتلاشی کے دوران گرفتارکیا گیا، شہریوں کا کہنا ہے کہ قابض فوجی بغیرکسی وجہ کے گھروں میں گھس کرحراساں کرتے ہیں۔دوسری طرفمقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں اتوار کو ضلع پلوامہ میں تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کوضلع میں ترال کے علاقے گلشن پورہ میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ نوجوانوں کو فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا۔ پولیس نے کہاکہ شہید ہونیوالے نوجوانوں میں سے ایک کی شناخت حماد خان کے طورپر ہوئی ہے۔دوسری طرف مودی کی ہندو انتہا پسند حکومت نے بھارتی فورسز میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افسروں کو دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے ضلع کولگام کے علاقے میر بازارمیں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس دیوندر سنگھ کو گرفتار کیا ہے۔ انہیں مجاہدین کی مدد کرنے کے جھوٹے الزام میں گرفتارکیا گیاہے۔ سکیورٹی فورسز نے جموں سرینگر قومی شاہراہ ونپوہ السٹاف کے مقام پر ایک ناکہ لگایا اور اس دوران تلاشی کی کاروائی کے دوران دو حریت پسندارکان نوید بابو اور نصیر احمد اور ان کے ساتھ ایک ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کو گرفتار کیا۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ ڈی ایس پی گرفتار شدہ نوجوانوں پسندوں کے ساتھ آئی 20گاڑی نمبر جے کے 03ایچ 1738 میں سوار تھا اور وہ سرینگر سے جموں کی جانب جا رہے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ ان کی تحویل سے ایک پستول اور اے کے 47برآمد کیا گیا ہے۔پولیس نے دیویندر سنگھ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ہے اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ دیویندر سنگھ ماضی میں عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں میں کافی سرگرم رہے ہیں۔

کشمیر

مزید : صفحہ اول


loading...