یوکرائنی طیارے کی تباہی پر ایران میں احتجاج، سپریم لیڈر کے استعفے کامطالبہ 

      یوکرائنی طیارے کی تباہی پر ایران میں احتجاج، سپریم لیڈر کے استعفے ...

  



تہران (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ایران کی اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ حکومت کو یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کی گرین موومنٹ کے رہ نما مہدی کروبی نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم لیڈر ملک کی قیادت کے اہل نہیں رہے۔ انہیں فورا اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔مہدی کروبی جو کئی سال سے گھر نظربند ہیں نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم لیڈر ملک کی قیادت سنبھالنے کے اہل نہیں رہے، اس لیے انہیں عہدے سے سبکدوش ہونا پڑے گا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آپ کیسے کمانڈر انچیف ہیں کہ آپ کو یہ معلوم نہیں کہ آپ کی ماتحت فوج نے ایک مسافر جہاز کو میزائل مار کر اسے مارگرایا؟۔ادھرایرانی پولیس نے حکومت کے خلاف نکالے گئے ایک جلوس میں شرکت کرنے پرتہران میں متعین برطانوی سفیر روب مکائیر کو حراست میں لے لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔۔ان سے تہران حکومت کے خلاف نکالے گئے جلوس میں شرکت کے بارے میں پوچھ تاچھ کی گئی۔برطانوی حکومت نے تہران میں اپنے سفیر کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی قرار یا۔برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک ریپ نے ایک بیان میں کہاکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران میں برطانوی سفیر روب مکایر کو حراست میں لیا گیا۔ وہ ایک ایسی ریلی میں شریک تھے جس میں یوکرین کے مار گرائے گئے مسافر طیارے کے مہلوکین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا تھا۔ کسی ایسی پرامن ریلی میں شرکت پر سفیر کو حراست میں لینا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے ایرانی وزارت خارجہ میں یوکرینی طیارے حادثے کے متاثرین کو قونصلر مسائل کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے طیارے گرجانے کے نتیجے میں 176 مسافر اور عملے کے جاں بحق ہونے پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کے حکم کی پر ان متاثرین کے قونصلر مسائل کے جائزہ لینے کے لئے ایک کمیشن قائم کیا گیا ہے۔موسوی نے کہا کہ ایران کے تمام سیاسی، قونصلر، ملکی اور ہوائی اڈے کے دفاتر کو اس مسئلے کے جائزہ لینے کا حکم دیا گیا ہے یوکرین کے صدر ولادیمیر زلنسکی نے طیارہ حادثے پر ایران کے قانونی اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ  اس حادثے کی وجہ کے بارے میں ایران کا بیان یوکرین کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس مخصوص صورتحال میں تہران کا قانونی طرز عمل اور موثر تعاون قابل قدر ہے -مریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیونے کہا ہے کہ ایرانی عوام حکومت کے جھوٹ بولنے کی پالیسی اور پاسداران انقلاب کی مسلسل بربریت اور بدعنوانی سے تنگ آ چکے ہیں۔ایسے میں ہم ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، جو بہتر مستقبل کے لیے جدو جہد کررہے ہیں،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی رجیم ایک طرف اور عوام دوسری طرف کھڑے ہیں۔ ایرانی حکومت نے عوام سے جینے کا حق سلب کررکھا ہے۔ ایسے میں ہم ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، جو بہتر مستقبل کے لیے جدو جہد کررہے ہیں۔دوسری طرف ایران میں احتجاج کے بعد امریکی  صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے فارسی سمیت انگریزی میں ٹویٹ کرکے سب کو حیران کردیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا  ہے کہ ایران میں احتجاج میں ہیومن رائٹس گروپ کو مانیٹرنگ کی اجازت دی جائے۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا مزید استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ انٹرنیٹ بھی بند نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ دنیا سب کچھ دیکھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ صدر بننے سے ہی بہادر ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ایران میں ہونے والے احتجاج کو قریب سے دیکھ رہے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید قتل عام نہ کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کے اعتراف کے بعد ایران میں ہونے والے مظاہروں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرائے جانے کے اعتراف کے بعد تہران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مظاہرین اور اخبارات کی جانب سے ملک کی قیادت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ایران کی جانب سے طیارہ مار گرانے کے اعتراف کے بعد گزشتہ روز دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کیا۔مظاہرین میں ایرانی قیادت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے 'آمر کو سزائے موت دو' کے نعرے بھی لگائے

ایران

مزید : صفحہ اول