ایران کا ساتھ دینے کو درست سمجھنے کے باوجود پاکستان ایسا نہیں کرسکتا: نیو ز ویک

      ایران کا ساتھ دینے کو درست سمجھنے کے باوجود پاکستان ایسا نہیں کرسکتا: ...

  



واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) ”نیوز ویک“  کے جائزے کے مطابق امریکہ ایران کے مقابلے میں اپنی قوت کا مظاہرہ کر رہا ہے  لیکن اس سے نالاں یورپ میں  نیٹو اتحادی اسے روکنے کیلئے کچھ نہیں کرسکتے۔ امریکی موقر جریدے نے امریکہ اور ایران کی کشیدگی پر تازہ شمارے میں جو تبصرہ کیا ہے اس کا پہلا حصہ گزشتہ روز پیش کیا جا چکا ہے۔ اس جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ جب ایران بھی سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا تو پاکستان اخلاقی طور پر محسوس کرتا ہے کہ اسے امریکہ کو سمجھانا چاہئے۔ تاہم پاکستان  ایران کے ساتھ کھڑا ہونے کو درست سمجھنے کے باوجود ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ پاکستان کے اس کردار کو سعودی عرب پسند نہیں کرے گا جو اس کے تیس لاکھ محنت کشوں کو واپس بھیج سکتا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لئے اس کی مالی مدد کی۔ جبکہ ایران نے کچھ بھی نہیں دیا۔ اس کے باوجود یہ پاکستان اسے اخلاقی اعتبار سے اپنا کمزور نکتہ سمجھتا ہے اور یہاں سوسائٹی کے اعلیٰ طبقے کے ڈرائنگ روموں میں اپنے آپ کو کوسا جاتا ہے جبکہ ملک کا شیعہ طبقہ ایران کی حمایت میں سڑکوں پر نکلا ہے اور اس نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے سامنے مظاہرے کرنے کی کوشش کی ہے۔ ”نیوز ویک“ لکھتا ہے کہ پاکستان اگر کوالالمپور چلا جاتا اور اسلامک کانفرنس میں شرکت کرلیتا اور سعودی عرب کو انکار کردیتا تو کیا ہوتا؟ کیا ایسی صورت میں ترکی اور ملائیشیا اسے معاشی بحران سے نکالنے کیلئے سرمایہ اور ملازمتیں فراہم کرسکتے تھے؟ کیا ایران پاکستان کی کوئی مدد کرتا؟ امریکی فلاسفر نوعم چومسکی کو پڑھنے کے بعد نچلی سطح کے امریکی سامراج کی مخالفت کرنے والا لبرل سیکولر اور آزاد خیال پاکستانی محسوس کرتا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اس کی خفیہ انداز سے سوسائٹی کو آزادی دینے کے نظام سے آیت اللہ کی حکمرانی میں ایران سے زیادہ توقع وابستہ کرسکتا ہے جہاں ابھی تک آزادی کاتصور بہت دور ہے۔ پاکستان اس وقت اپنے آپ کو بہت مشکل میں محسوس کرتا ہے جب امریکہ اور ایران کی جنگ کے سبب خلیجی خطہ شعلوں کی لپیٹ میں آرہا ہے۔ ایسی صورت میں اس کی گیس اور پٹرول کی سپلائی بند ہوسکتی ہے اور اس کے ان ممالک میں کام کرنے والے محنت کش واپس آگئے تو انہیں سنبھالنا مشکل پڑ جائے گا۔ ایران کا رویہ حقیقت پسندانہ ہے وہ نہیں چاہتا کہ خلیجی ممالک کی اقتصادی کشتی ڈوب جائے کیونکہ امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے باعث اس کے شہری پہلے ہی سادہ زندگی گزارنے سے تنگ آچکے ہیں۔ ”نیوز ویک“ اپنے جائزے میں مزید لکھتا ہے کہ ٹرمپ کے حکم پر جنرل سلیمانی کی ہلاکت سے قبل ایرانی پہلے ہی سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کر رہے تھے کہ وہ اب وہ پٹرول خریدنے کی سکت نہیں رکھتے جس کی پہلے فراوانی تھی۔ مذہبی رہنما ”پاسداران“ کی مذہبی فوج کے پیچھے رہ کر اپنے آپ کو بہت محفوظ محسوس کرتے ہیں جس کو وہ کنٹرول کرتے ہیں اور چند ہزار مظاہرین کو ہلاک کرکے سڑکیں صاف کرنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتے۔ ایران اور عراق کے لوگ امریکہ کے خلاف وہ جنگ لڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں جو ان کے لیڈر چاہتے ہیں۔ عراق جنگ کو 70سال گزر چکے ہیں جس میں 5لاکھ افراد مارے گئے ہیں اور جہاں داعش نے اسلام کے نام پر بے شمار عورتوں کی عصمت دری کی ہے۔ ”نیوز ویک“ لکھتا ہے کہ حقیقت میں یہ امریکہ کی جنگ نہیں رہی۔ یہ اب اسلامی طبقوں کی باہمی خونریزی کی جنگ بن چکی ہے جہاں فرقہ واریت کی بنیاد پر گہری تقسیم ہو چکی ہے اور جہاں مختلف فرقوں پر اعتقاد کرنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے پیروکار اپنے مذہب کی مشترک بنیاد تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

نیوز ویک

مزید : صفحہ اول


loading...