مودی سرکار نے 45ہزار کروڑ روپے کا قرضہ مانگ لیا 

  مودی سرکار نے 45ہزار کروڑ روپے کا قرضہ مانگ لیا 

  



نئی دہلی(کے پی آئی)بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے ملک کی بدحال معیشت کو سہارا دینے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا سے 45 ہزار کروڑ روپے کی مدد مانگ رہی ہے۔ بھارتی اخبار کے مطابق رواں مالی سال میں حکومت تقریبا 19.6 لاکھ کروڑ روپے کی کمی سے نبرد آزما ہے۔ اس بحران کی اہم وجہ معاشی سستی کے علاوہ کارپوریٹ ٹیکس میں دی گئی چھوٹ ہے۔ اس کے علاوہ جی ایس ٹی اور ٹیکس کلیکشن بھی امید کے مطابق نہیں ہو سکی  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت کے ذریعہ آر بی آئی سے ایک بار پھر مدد مانگنے کی بات سامنے آئی ہے۔ قابل غور ہے کہ آر بی آئی نے مرکز کو منافع (ڈیویڈنڈ) کے طور پر 1.76 لاکھ کروڑ روپے دینے کی بات کہی تھی۔ اس رقم میں سے رواں مالی سال 20-2019 کے لیے 1.48 لاکھ کروڑ روپے دیئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق آر بی آئی   کرنسی اور سرکاری بانڈ کے ٹریڈنگ سے منافع کماتا ہے۔ ان کمائی کا ایک حصہ آر بی آئی اپنے آپریشن ل اور ایمرجنسی فنڈ کے طور پر رکھتا ہے۔ اس کے بعد بچی ہوئی رقم ڈیویڈنڈ کے طور پر حکومت کے پاس جاتی ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ رواں مالی سال کافی پریشان کن ہونے والا ہے۔ اس سال معاشی بحران کی وجہ سے شرح ترقی 11 سال کے سب سے نچلی سطح (5 فیصد) پر رہ سکتی ہے۔ ایسے میں آر بی آئی سے ملی مالی مدد سے حکومت کو راحت مل سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم آر بی آئی سے مدد کو ہمیشہ کا عمل نہیں بنانا چاہتے ہیں، لیکن اس سال کو استثنی مانا جا سکتا ہے۔  حکومت کو 35 ہزار کروڑ سے 45 ہزار کروڑ روپے تک کی مدد کی ضرورت ہے۔ قابل غور ہے کہ اگر آر بی آئی نے مودی حکومت کا یہ مطالبہ مان لیا تو یہ لگاتار تیسرا سال ہوگا جب حکومت کے پاس عبوری منافع آئے گا۔ اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ آر بی آئی اور حکومت کے درمیان ایک بار پھر نااتفاقی پیدا ہو جائے۔ بہت پرانی بات نہیں ہے جب سابق گورنر ارجت پٹیل کے دور میں فنڈ ٹرانسفر کو لے کر تنازعہ دیکھنے کو ملا تھا۔ اس تنازعہ کا اختتام ارجت پٹیل کے استعفی کے ساتھ ہوا۔

مودی قرضہ

مزید : صفحہ اول